بینک کے سود کے مصارف


بینک کے سود کے سلسلہ میں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ نہ اس کو اپنی ذات پر خرچ کیا جاسکتا ہے اور نہ صدقہ میں دیا جا سکتا ہے ۔ اپنی ذات پر خرچ کرنے کی صورت یہ بھی ہے کہ وہ کوئی چیز خرید کر اپنی ضروریات پوری کرے اور یہ بھی کہ کوئی ذمہ داری جو اس پر بجا طور پر عائد ہوتی ہے اس میں صرف کر دے ۔ جیسے بجلی ، فون . پانی وغیرہ کی اجرت ۔ صدقہ سے مراد صدقات واجبہ ، زکوة و فطرہ قربانی و کفارہ وغیرہ بھی ہے اور صدقات نافلہ و عطایا بھی ، کہ کوئی شخص اپنی طرف سے بطور صدقہ کسی کار خیر میں استعمال کرے ۔

اس کے علاوہ جو صورتیں ہوں ان میں صرف کیا جاسکتا ہے ۔ مثلاً کسی ضرورت مند کی انفرادی ضرورت کی تکمیل کسی اجتماعی فائدہ کا کام کر دینا جیسے کنواں کھودنا وغیرہ ۔ حکومت کے ناروا ٹیکسوں میں بھی یہ رقم دی جاسکتی ہے اور اگر سودی قرضے لئے ہوں تو اس کو سود کی ادائیگی میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ مساجد اور اس کی ضروریات میں اس رقم کا صرف کرنا جائز نہیں ۔

بینک کے سود کے مصارف

 

بحوالہ:

جدید فقہی مسائل : ج : 1 ص 🙁 420 )