مولانا سید سلمان حسینی ندوی مرحوم
مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے
از ڈاکٹر محسن عتیق خان
مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند
29 جون 2026 کو جب میں نے صبح صبح فون ہاتھوں میں لیا تو سب سے پہلے جس خبر پر نظر پڑی وہ حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ناگہانی موت کی خبر تھی۔ آپ 72 سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔
كل ابن أنثى وإن طالت سلامته
يوماً على آلة حدباء محمول
یعنی ہر ماں کا بیٹا، چاہے کتنی ہی لمبی عمر اور صحت پا لے، ایک دن خم دار سواری (یعنی جنازے کی چارپائی) پر اٹھا کر لے جایا جائے گا۔” اور یہی ابدی حقیقت ہے، ہم کسی کو کتنا چاہتے ہوں، کتنا مانتے ہوں، یا کوئی کسی فرد، خاندان، قوم یا ملک کے لیے کتنا ہی ضروری کیوں نہ ہو۔ ہر ایک کو اس مرحلے سے گزرنا ہے، اور ہر ایک کے گزرنے کے بعد دنیا یونہی حسب معمول اپنے ڈھرے پر چلتی رہتی ہے۔
مولانا مرحوم کی موت کی خبر نے مجھے بے چین کر دیا خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں بھی آپ کے جنازے میں شریک ہو سکتا مگر گاؤں میں ہونے اور آپ کے یہاں سے محض سو یا دو سو کیلو میٹر دور ہونے کے باوجو اس خواہش کی تکمیل ممکن نہ تھی کیونکہ میں خود تقریباً ایک مہینے سے بستر علالت پر پڑا ہوا تھا۔
مولانا کی موت کی خبر نے یادوں کے دریچے کھول دیے اور مجھے 30/35 سال پیچھے دار العلوم ندوۃ العلماء میں طالب علمی کے زمانے میں پہنچا دیا۔ میں نے مولانا مرحوم کو سب سے پہلے لکھنؤ کی سفید بارہ دری میں تقریر کرتے ہوئے سنا تھا۔ یہ 1993 کی ابتدا کی بات ہے، بابری مسجد شہید کی جا چکی تھی, ہندوستان کی تاریخ میں ظلم و بربریت کا ایک نیا اور تاریک باب جوڑا جا چکا تھا، مسلماں ظلم سے نڈھال، امید و بیم کی حالت میں تھا۔ حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے پیام اِنسانیت کے بینر تلے ہر طبقے سے انصاف پسند اور حق کے طرفدار لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش کی تاکہ ہندوستان میں امن وانصاف کا ماحول ایک بار پھر سے قائم کیا جا سکے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر لکھنؤ کی سفید بارہ دری میں ایک بڑے جلسے کا قیام عمل میں آیا جس میں رام ولاس پاسوان، راج بہادر اور رمن سنگھ جیسے بڑے سیاسی قائدین موجود تھے۔ اس میں مین نے پہلی بار حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی مرحوم کی وہ پر جوش تقریر سنی جس کے بعض جملے ذہن میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو کر رہ گئے، شاید اس لیے بھی کہ اس وقت ذہن کی تختیاں ابھی سادہ تھیں، یا ہو سکتا ہے اس لیے کہ اُن جملوں کو میں نے اپنے سینئر طلبہ کو بار بار دہراتے سنا ہو۔
آپ نے اپنی تقریر کے آغاز میں ہی یہ صاف کر دیا کہ یہ جلسہ اِنسانیت کی بقا کے لیے ہے، اور حق کی آواز اٹھانے والوں کو جمع کرنے کے لیے ہے, اس تقریر میں آپ نے عاص بن وائل سہمی اور حلف الفضول کے حوالے سے حق تلفی و نا انصافی اور ظلم و بربریت کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کو بڑی خوش اسلوبی سے للکارا۔
آپ نے بڑی جرات کے ساتھ کہا "اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جلسہ کچھ لوگوں کو یا کسی سیاسی لیڈر کو رام کرنے کے لیے کیا گیا ہے تو رام ولاس پاسوان جیسے ہزاروں لوگ ہمارے جوتوں کہ ٹھوکر میں رہتے ہیں۔ کیا کوئی جنتا دل، یا کانگریسی یا سماجوادی پارٹی ہم کو خرید سکتی ہے۔ آپ نے مزید کہا کہ ان لوگوں کو یہاں اس لیے بلایا گیا ہے کہ ہم انہیں انصاف پسند اور حق گو سمجھتے ہیں، اور جس دن ہمارا تجربہ اس کے بر عکس ہوگا ہم انہیں بھی نکار دینگے۔ مسلم نوجوانوں نے ایک دو بار نعرہ تکبیر لگانے کی کوشش کی تو آپ نے انھیں للکارتے ہوئے کہا، ہم نعروں سے بابری مسجد کو نہیں بچا سکے، اپ کو نعرہ نہیں لگانا، آپ کو میدان عمل میں نکلنا ہے، اس ملک میں یا تو انصاف قائم ہوگا یا پھر اس ملک کے ایک ایک ٹکڑے کو جدا کر دیا جائےگا۔ آج مولانا کہ وہ جرات مندانہ تقریر اور اُنکی شخصیت علامہ اقبال کے اس شعر کی سچی تصویر نظر آتی ہے۔
آئینِ جواں مرداں، حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی
مولانا اپنی اس رَوِش پر آخر دم تک قائم رہے اور جب سعودی حکومت نے اخوان المسلمین اور اسلام پسندوں کے خلاف اپنی پالیسی بنائی شروع کی تو آپ نے بے خوف و خطر اس کے خلاف آواز اٹھائی، جس کی وجہ سے آپ سعودی نواز لوگوں کے نشانے پر آگئے، مگر آپ نے کبھی اس کی پرواہ نہ کی۔
مولانا ہمیشہ اپنی بات ہے باکی اور جرات مندی سے کہتے تھے، ایک بار ایک معروف عرب عالم دین ندوہ تشریف لائے اور عشاء کی نماز کی امامت کی اور اپنی نماز قصر کرنے کے بجائے پوری چار رکعت پڑھا دی۔ ابھی انہوں نے سلام پھیرا ہی تھا کہ ندوے کے ایک معروف کٹر حنفی مفتی صاحب اٹھے اور بلند آواز میں کہا کہ سارے مقتدیوں کی نماز فاسد ہو گئی ہے، سب اپنی اپنی نماز دوہرا لیں۔ مولانا مرحوم کھڑے ہوئے اور اپنی بارعب آواز میں کہا کہ امام شافعی، امام مالک، اور امام حنبل رحمۃ اللہ علیہم، تینوں اماموں کے نزدیک قصر ایک رخصت ہے، سب کی نماز ہو گئی ہے، کسی کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ مولانا مرحوم کے اتنا کہتے ہی ہنگامہ ختم ہو گیا اور لوگ اپنی اپنی سنتیں پڑھنے لگے، گویا حتمی فیصلہ آگیا ہے اب کسی اور کی کوئی بات سننے کی ضرورت نہیں، ویسے بھی ندوہ میں پڑھنے کے بعد اتنی وُسعت قلبی تو طلبہ میں آہی جاتی ہے۔ پہلے مفتی صاحب کی بات سن کر عرب عالم کے تئیں جو سبکی مجھے محسوس ہوئی تھی اس کی جگہ اب مجھے خوشی محسوس ہورہی تھی، کیونکہ مفتی صاحب کی بات مجھے مہمان نوازی کے تقاضے کے سراسر خلاف لگی تھی۔
ہمارے زمانہ طالبِ علمی میں مولانا مرحوم عربی اور اردو دونوں زبانوں میں اپنی طلاقت لسان، فصاحت بیاں، قدرت کلام، اپنی ادبی صلاحیت و لیاقت، اور اپنی علمی گہرائی وگیرائی کی وجہ سے طلبہ کے درمیان آئیڈیل سمجھے جاتے تھے۔ آپ جس طرح فصیح و بلیغ اور خالص عربوں کے لب و لہجہ میں تقریر کرتے تھے وہ صرف آپ کا خاصہ تھا۔ اس وقت چونکہ حضرت مولانا علی میاں رحمت اللہ علیہ بقید حیات تھے اس لیے عربی وفود، خاص طور سے عرب علما کے وفود عام طور سے ندوے کے احاطے میں آتے رہتے تھے، اور ڈار العلوم کے پرشکوہ عباسیہ ہال میں اُنکی تقریریں، اور عربی درجات میں انکے دروس ہوتے رہتے تھے۔ مولانا مرحوم بھی اکثر اُنکے ساتھ نظر آتے رہتے تھے اور انھیں کے لب و لہجے میں بولتے اور تقریر کرتے دیکھے جاتے۔
1997 کے اواخر میں رد قادیانیت کے موضوع پر دار العلوم ندوۃ العلما کے احاطے میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، تو مولانا۔ سلمان حسینی ندوی مرحوم کے جوہر اور زیادہ نکھر کے اور کھل کر سامنے آگئے۔ اس میں عرب و عجم کے نامور علماء نے شرکت کی، انڈونیشا، ملیشیا، ترکی، سعودی عرب، اور مصر وغیرہ کے جید علماء موجود تھے، ایسا لگ رہا تھا گویا یہ علمی ستاروں کی ایک کہکشاں ہو، اور اس کہکشاں میں آفتاب و ماہتاب حرمین شریفین کے امام ڈاکٹر شیخ عبداللہ السبیل اور مسجد اقصیٰ کے امام ڈاکٹر علامہ محمد صیام تھے۔
اس جلسے کے تین اجلاس ہوئے اور عرب مقررین کی عربی زبان میں کی گئی تقریروں کی فرزندان ندوہ نے جس خوبصورتی سے تلخیص و ترجمانی کی وہ دیکھنے لائق تھا۔ پہلے اجلاس میں مولانا سلمان حسینی مرحوم نے جب اپنے خاص انداز میں ایک تقریر کی خوبصورت ترجمانی کی تو لوگ داد دیے بغیر نہیں رہ سکے، مجھے صحیح سے یاد نہیں غالباً آپ نے امام حرم کی تقریر کی ترجمانی کی تھی۔
دوسرے اجلاس میں نظامت کے فرائض شروع سے لیکر آخر تک مولانا سلمان ندوی مرحوم نے بڑی خوبصورتی سے انجام دیے، اور لوگ ہمہ تن گوش بنے بیٹھے رہے، اس میں سعودی عرب کے ماہر تعلیم استاد محسن احمد باروم نے نصاب تعلیم کے اوپر ایک وقیع مقالہ پیش کیا۔ اسی طرح مدرسہ صولتیہ کے ناظم مولانا ماجد مسعود، جماعت اہل حدیث کے صدر مولانا مختار احمد ندوی، جامعه سلفیہ بنارس سے عبد الوہاب خلجی اور مقتدیٰ حسن ازہری جیسی چیدہ شخصیات نے اپنی پر مغز تقریریں کیں۔ مولانا سلمان ندوی مرحوم نظامت کے ساتھ جس خوش اسلوبی سے عربی تقریروں کی اردو ترجمانی پیش کرتے تھے اور اردو تقریروں کی عربی تلخیص پیش کرتے تھے وہ قابل ستائش تھا اور لوگ داد دیے بغیر نہیں رہ سکے۔
تیسرے اجلاس میں حضرت مولانا علی میاں مرحوم کے ایک پہلو میں امام حرم شیخ عبد اللہ السبیل اور دوسرے پہلو میں امام مسجد اقصیٰ شیخ محمد صیام بیٹھے ہوئے تھے۔ اس عجیب قران السعدین کو دیکھتے ہوئے جب مولانا سلمان ندوی مرحوم نے معراج کے تعلق سے قرآن کی مشہور آیت "سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ” بر محل پڑھی تو لوگوں کو احساس ہوا کہ قبلتین کے اماموں سے سجی یہ محفل کیا قدر نادر و نایاب ہے۔
امام مسجد اقصیٰ نے عربی زبان میں اپنی پر جوش اور درد مند تقریر کی تو ایسا لگا جیسے کوئی زخمی شیر دھاڑ رہا ہو، اور نا سمجھنے کے باوجود لوگ یکسو ہوکر بیٹھے رہے گویا اُن کے درد کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہوں۔ مولانا سلمان ندوی مرحوم نے اسی لب و لہجہ میں اور اسی زور بیان کے ساتھ جب شیخ صیام کی تقریر کا ترجمہ اردو میں پیش کیا تو عجب سا سماں بندھ گیا، گویا پہلے جو چیز لوگ صرف محسوس کر رہے تھے اسے اب اپنے دل و دماغ سے سجھ بھی رہے تھے۔
مولانا کا زور خطابت صرف آپ کی زبان آوری اور قدرت الکلامی پر منحصر نہیں تھا بلکہ اسے تازہ مطالعے سے جلا ملتی تھی جو عام مقررین کی عادت کے بر خلاف تھا۔ زمانہ طالبِ علمی میں ہمارے ایک دوست مولانا کے خاص شاگردوں میں تھے، ایک بار وہ دوپہر کو کلاس کے بعد کمرے میں واپس آئے تو ہاٹوں میں کتابوں سے بھرا گتا اٹھا رکھا تھا۔ میں کتابیں اُلٹنے پلٹنے لگا تو پتہ چلا ساری کتابیں ایک ہی موضوع سے متعلق تھیں ، اُنہوں نے مجھے کتابیں چھونے سے روکتے ہوئے کہا، کتابیں اُلٹ پلٹ مت کرو یار، یہ سب مولانا سلمان صاحب کی ہیں، اُنکا علی گڑھ یونیورسٹی میں جلد ایک لیکچر ہونے والا ہے اور اسی تعلق سے مطالعہ کرنے کے لیے انہوں نے منگایا ہے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ اتنی کتابیں ختم کرنے میں تو مجھے سال بھر لگ جائے گا وہ یہ سب چند دنوں میں کیسے پڑھ لیں گے۔
ندوے میں عربی زبان و ادب سے لگاؤ دلچسپی یا وارفتگی صرف اس لیے نہیں تھی کہ وہاں پر عربی زبان و ادب سلیبس کا حصہ تھی ہلکہ ندوۃ العلماء کے احاطے میں موجود اساتذہ کے عملی نمونوں کی وجہ سے تھی،۔ ان اساتذہ کی ایک لمبی فہرست تھی جو عربی زبانو ادب میں اپنی قدرت اور دسترس کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ اس وقت ہندوستان میں عربی زبان کے دو مشہور خطیب دارالعلوم ندود العلماء کی دو اہم فیکلٹیز کی نمائندگی کر رہے تھے، ایک طرف مولانا سعید الرحمن اعظمی کلیۃ الاداب یعنی فیکلٹی اف لٹریچر کي نمائندگی کر رہے تھے اور دوسری جانب مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم فیکلٹی آف شریعہ یعنی کليۃ الشریعہ کی نمائندگی کر رہے تھے۔ یہ دونوں حضرات نہ صرف قدرۃ الکلامی اور زور خطابت میں اپنی مثال اپ تھے بلکہ تحریر میں بھی غضب کا ملکہ کا رکھتے تھے۔
تفسیر اور حدیث کے موضوع میں مولانا مرحوم نے متعدد کتابیں تحریر کی ہیں، اور مختلف کتابوں کے ترجمے بھی کیے ہیں۔ آپ کی عربی میں ترجمہ کردہ ایک کتاب الفوز الکبیر فی اصول التفسیر غالباً عالیہ ثالثہ میں شامل نصاب تھی۔ یہ اصلا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی فارسی کتاب تھی جس کا آپ نے طالب علموں کے لیے آسان اور سلیس عربی میں ترجمہ کیا تھا تاکہ اُنہیں تفسیر کے بنیادی اصول پڑھائے جا سکیں۔ درس میں شامل سالوں پرانی اور گنجلک کتابوں کے درمیان اس کتاب کا پڑھنا اور سمجھنا کافی آسان اور مزیدار تھا۔
ایک وقت تھا جب مولانا مرحوم نے مدارس میں نصاب کی تبدیلی کے لیے علم بغاوت بلند کیا تھا اور اس تعلق سے ہمارا نصاب تعلیم کیا ہو؟ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی مگر یہ تحریک زیادہ کامیاب نہ ہوئی، ویسے بھی زوال پزیر قومیں تبدیلیوں کو کہاں قبول کرتی ہیں۔ مولانا مرحوم نے تقریر و خطابت، درس و تدریس، اور تالیف و تصنیف کے علاوہ میدان عمل میں اور بھی کئی کام انجام دیے ہیں جن میں ،جمعیت شباب الاسلام، الشباب ہاسٹل، ملیح آباد کے قریب کٹولی میں ایک بڑے مدرسے کا قیام اور ایک یونانی میڈیکل کالج کا قیام خاص طور سے قابل ذکر ہیں
مولانا مرحوم اپنی شہرت اور علمی لیاقت کی وجہ سے نہ صرف مدارس میں بلکہ یونیورسٹیوں میں بھی مختلف کانفرنسوں میں لیکچرز اور خصوصی خطاب کے لیے مدعو کیے جاتے تھے۔ یہ تقریباً 2008 یا 2009 کی بات ہے جب ہم جے این یو، نئی دہلی میں زیر تعلیم تھے۔ مولانا مرحوم کو عربی سینٹر کی طرف سے ایک خطاب کے لیے مدعو کیا گیا تھا، طلبہ اسکول آف لینگویج کے کانفرنس ہال میں جمع تھے، پروفیسر مجیب الرحمٰن صاحب نے مختلف ممالک کے طلبہ اور جے این یو کی روایت کو دھیان میں رکھتے ہوئے آپ کا پر زور الفاظ میں انگریزی میں تعارف کرایا مگر پتہ نہیں کیوں مولانا مرحوم کو اپنا انگریزی میں تعارف انتہائی ناگوار گُزرا کیونکہ آپ جب بولنے کے لیے کھڑے ہوئے تو پر زور الفاظ میں اس پر اپنی نہ پسندیدگی کا اظہار کیا۔ مجھے مولانا کی بات سے مایوسی ہوئی کیونکہ میں کسی منجھے ہوئے مقرر سے یہ امید نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اپنے سامعین کی نوعیت یا یونیورسٹیوں کی روایت سے نہ واقف ہو، اور مولانا تو دنیا دیکھے ہوئے تھے۔
ندوة العلماء سے سنہ 2004 میں ہماری فراغت تک مولانا مرحوم کے تعلق سے کوئی ایسی رائے سننے میں نہیں آئی جس پر دشنام طرازی کی نوبت آئی ہو۔ لیکن بعد میں کئی ایسی باتیں سننے میں آئیں جس نے مخالفت کا ایک طوفان کھڑا کر دیا اور آپ کے چاہنے والوں کو دو خانوں میں تقسیم کر دیا، کچھ آپ کو اسی شد و مد کے ساتھ چاہتے رہے تو کچھ نے آپ کے خلاف ایک محاذ کھول لیا۔ میرا ماننا ہے کہ کسی بھی علمی شخصیت کے اپنے خاص موضوع کے تعلق سے کئ چیزوں میں اپنے تفردات یا اپنی مخصوص آرا ہو سکتی ہیں، جو ممکن ہے جمہور علماء کے خلاف ہوں مگر اختلاف رائے کا احترام ہونا چاہے اور اس سلسلے میں تحمل اور برداشت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہئے، کیونکہ اختلاف راے اجتہاد کے دروازے کھولتی ہے اور مولانا مرحوم کے تفردات کے تعلق سے بھی میرا یہی ماننا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی تمام کاوشوں کو قبول فرمائے، آپ کی مغفرت فرمائے اور قیامت کے دن آپ کو علماء اور صالحین کی صف میں جگہ عنایت کرے۔
لاكھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرف
سر جھکانا نہیں اتا تو جھکائیں کیسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

