Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
02.08.2026
Trending News: مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
02.08.2026
Trending News: مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

خواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔

  1. Home
  2. خواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔

خواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔

  • hira-online.comhira-online.com
  • کتابی دنیا
  • دسمبر 20, 2025
  • 0 Comments

خواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔

اردو ترجمہ: تحفۃُ النُّبَلاء فی جماعۃ النساء
مصنف: علامہ محمد عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ۔

ترجمہ، تحقیق و تعلیق: محمد شمس قمر صاحب۔ ناشر:حجۃ الاسلام اکیڈمی، دارالعلوم وقف، دیوبند۔

از : مولانا آدم علی ندوی


ابھی چند دن قبل دارالعلوم وقف دیوبند میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ پر ایک نہایت کامیاب سیمینار منعقد ہوا، جس کی دھوم اور چرچا پورے ملک میں رہی۔ اس کے حسنِ انتظام اور کامیابی کے تذکرے ہر زبان پر تھے۔ اس سیمینار کا ایک اہم حصہ نئی مطبوعات کا اجرا بھی تھا۔ منتظمینِ سیمینار نے اپنے مہمانوں کو حجۃ الاسلام اکیڈمی کی نئی مطبوعات بڑی تعداد میں پیش کیں۔


ہمارے ادارہ سے مہتمم مدرسہ اور مدیر ندائے اعتدال محترم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی صاحب نے اپنے مقالہ کے ساتھ شرکت فرمائی اور ایک نشست، بلکہ پہلی نشست کی کامیاب اور ذمہ دارانہ نظامت بھی کی۔ آپ نے حسب سابق ہدیہ میں ملی اکثر کتابیں مدرسہ کی لائبریری کو ہدیہ کیں۔ وہیں سے میں نے اس نئی کتاب کو حاصل کیا اور مطالعہ شروع کیا۔حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب کے حمد وسپاس، ڈاکٹر محمد شکیب صاحب کی تقریظ اور مفتی امانت علی صاحب کے مقدمہ سے گزرتے ہوئے جب اصل کتاب کے تین ابواب تک پہنچا تو اردو ترجمہ، دلائل اور علامہ لکھنویؒ کے جوابات پڑھ کر بے حد مسرت ہوئی۔ بار بار اس کتاب کی اشاعت پر مولانا شکیب صاحب اور ترجمہ و تعلیق پر محمد شمس قمر صاحب کے لیے دعائیں دل سے نکلتی رہیں اور اچھے جذبات دل میں جگہ بناتے رہے۔البتہ "ضمیمہ” کا حصہ پڑھ کر پہلی سی کیفیت برقرار نہ رہ سکی اور نہ صرف احساسات بدلے بلکہ کچھ تکدربھی ہوا ۔


اس وقت جبکہ برصغیر کے بیشتر علمی و دینی چمن مرجھا رہے ہیں، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بہت سے ادارے آخری سانسیں لے رہے ہیں، ایسے نازک دور میں چمنستانِ قاسمی، دارالعلوم وقف دیوبند، مسلسل ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ سیمینار، نئی مطبوعات اور تحقیقی سرگرمیاں اس کی کھلی شہادت ہیں۔ نیز وہ مسائل جنہیں بعض حلقوں میں تفرد یا بغاوت سمجھا جاتا ہے، ان پر تحقیقی و علمی انداز میں کام کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ تحقیق کا دائرہ وسیع تھا اور آئندہ مزید وسیع ہوگا۔
تقلید کے نام پر برصغیر کے اہلِ علم پر جو جمود طاری ہو چکا ہے، اس کے سبب اجتہاد و استخراج کو جرم یا بغاوت سمجھا جانے لگا ہے، امید ہے کہ اس کا یہ بندھن ٹوٹے گا۔ شکیب صاحب اور وقف کے اساتذہ و ذمہ داران اس کتاب کی اشاعت پر بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں، اور مترجم محمد شمس قمر صاحب کے لیے بھی ڈھیروں دعائیں اور نیک تمنائیں ہیں۔


کتاب کے مندرجات سے قبل اس کا سرِورق قابلِ دید ہے۔کتاب اچھی ترتیب، عمدہ تزئین اور حسنِ سلیقہ کا بہترین نمونہ ہے۔ محقق بھی قابلِ مبارکباد ہیں کہ تحقیق کا انداز بالکل کھرا ہے: مصنف کا تعارف، مصادر کی تخریج، مناسب توضیحات، درمیان میں خلاصے، اور ذیلی عنوانات—یہ سب کام۔ بالخصوص آسان اور عام فہم ترجمہ کے لیے قابلِ تحسین ہیں۔ صاحبِ تحفۃُ النُّبَلاء کا مختصر مگر جامع تعارف بھی ابتدا ہی میں شامل کیا گیا ہے۔


علامہ لکھنویؒ مسئلۂ امامۃ النساء میں جس اعلیٰ معیار کے اسلوب اور تحقیق کو اختیار کرتے ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ محض "تفرد” یا "اجتہاد کا نشہ” کہہ کر دامن جھاڑنے سے کام نہیں چلتا، اگر دلیل کی روشنی میں پیش کیے گئے اجتہاد کو رد کرنا ہے تو واضح علمی رد پیش کیا جائے، ورنہ محض لکیر پیٹتے رہنا اور "مکروہِ تحریمی” سے ایک انچ بھی نیچے نہ آنا علمی رویّہ نہیں۔


البتہ "ضمیمہ” میں بعض مفتیانِ کرام نے معمولی نرمی دکھائی ہے، مگر مجموعی طور پر سختی غالب ہے۔ اگرچہ اس حصے میں چند دیگر مفید مسائل بھی شامل کیے گئے ہیں، لیکن وہ اس کتاب کے علمی معیار کے شایانِ شان معلوم نہیں ہوتے۔ آخر میں خواتین کے مسجد میں جانے کا مسئلہ اپنی جگہ درست اور مسلّم ہے، مگر اس تحقیق وتعلیق کے ساتھ جس اندازِ بیان کے اقتباسات شامل کئے گئے ہیں، وہ محلِ نظر ہیں۔مثلا”۔۔۔۔۔۔میں کہتا ہوں، آج کے دور کے اہلِ حدیث اس حدیث کو بنیاد بنا کر اپنی عورتوں کو عیدگاہ لے جاتے ہیں، اور وہ زینت کے لباس پہنتی ہیں، حالانکہ عوام ان عورتوں کو دیکھنے کے لیے جاتے ہیں۔اِنّا للہ و اِنّا الیہ راجعون۔۔۔اہلِ حدیث ظاہر پرست لوگ ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتے، لہٰذا اس سے خبردار رہنا چاہیے۔” (صفحہ 126)اسی طرح!”۔۔۔۔۔۔لیکن آج کل کے مدعیانِ عمل بالحدیث لوگوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ عورتوں کا جماعتوں میں جانا، عیدین میں حاضر ہونا سنت ہے، بلکہ سنتِ مؤکدہ ہے۔۔۔” (صفحہ 131)


یہ باتیں اپنے مقام و محل میں درست اور مسلم ہو سکتی ہیں، لیکن یہ جارحانہ اسلوب اس علمی کتاب کے شایانِ شان نہیں۔یوں بھی علم تحقیق کی دنیا میں یہ اسلوب بھونڈا ہے ، ممکن ہے کہ صاحب عبارت کےمخاطب یہاں کے اہل حدیث ہوں، لیکن حرمین سے لے کر یورپ جہاں کہیں مسلمان بستے ہیں ، بر صغیر ہندو پاک اور بنگلہ دیش کے علاوہ ہر جگہ عورتوں کے مسجد جانے کا عام رواج ہے ، اور کہیں سے بھی بھونڈی اور فحش خبر نہیں ملتی ، یہ کہنا انتہائی جرأت کی بات ہے کہ "عوام ان عورتوں کو دیکھنے کے لیے جاتے ہیں ” برصغیر میں بھی اہل حدیث اور جماعت اسلامی کے حلقوں میں خواتین مسجد جاتی ہیں لیکن کوئی بری خبر کجا : اختلاط مردو زن کی بھی کوئی خبر اور تصویر نہیں آتی ،حکومتی و عدالتی مداخلت کے بعد اب تو ہمارے حلقوں میں بھی کچھ نرمی اور گنجائش نکالی جانے لگی ہے ، اس صورت حال میں یہ عبارتیں بالخصوص اس کتاب میں محل نظر ہیں، رہی بات خواتین کے مسجد جانے کی تو اس سلسلہ میں خواتین کو مساجد جانے سے روکنا نہیں چاہیے اس لیے کہ نبی کریمؐ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کے گھر جانے سے مت روکو، اور انھیں مسجد جانے کی ترغیب بھی نہیں دینا چاہیے اس لیے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کی عورتوں کے لیے بہترین مسجد ان کا گھر ہے ۔


اسی طرح "ضمیمہ” کی ایک اور عبارت ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ اس عبارت سے پہلے حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی دامت برکاتہم کے حمد وسپاس کی یہ عبارت ملاحظہ فرمائیں:’’برصغیر کے نامور فقیہ اور متبحر عالم حضرت مولانا عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کی نہایت وقیع اور علمی حیثیت کی حامل تصنیف: تحفۃُ النُّبَلاء فی جماعۃ النساء‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (صفحہ 10)
اب صفحہ 111 پر ’ضمیمہ‘‘ کی یہ عبارت دیکھیں!”۔۔۔۔۔۔۔مولانا عبدالحئی لکھنوی پر ایک زمانہ میں اجتہاد کا اثر رہا، یہ مسئلہ بھی اسی دور میں انہوں نے اپنے ایک رسالہ میں لکھا، جس کا نام ہے تحفۃُ النُّبَلاء، یا پھر یہ ان کے تفردات میں سے ہے، جس کی وجہ سے اصل مذہب کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔” ( ص /111)

اس عبارت کا کتاب میں اندراج کتنا غیر موزوں اور بے محل ہے، بلکہ یوں کہیں تو بے جا نہیں کہ حضرت لکھنویؒ، ان کی کتاب اور ان کی علمی تحقیق کے استخفاف کا پہلو اس میں نظر آتا ہے۔ایک طرف علامہ کی علمی عظمت اور فقہی مقام کا اعتراف کیا گیا ہے، پھر ان کی اس تصنیف کو محض ایک دور کے اجتہادی اثر یا تفرد قرار دے کر اصل مذہب سے الگ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ طرزِ بیان غیر موزوں بلکہ تحقیقی اسلوب کے منافی اور ناانصافی پر مبنی محسوس ہوتا ہے۔جناب محمد شمس قمر صاحب کو ایک تحقیقی کتاب میں اس اندازِ کلام اور جارحانہ، مناظرانہ بیانیے یا فتاویٰ سے اعراض کرنا چاہیے تھا، بلکہ استدلالی انداز میں مسئلہ کا جواب اور حل پیش کرنے پر اکتفا کرنا چاہیے تھا۔ حملہ کی زبان اور جارحانہ اسلوب اس علمی اور تحقیقی کتاب کے وقار کے مطابق نہیں۔اگر "ضمیمہ” میں دیگر مسالک کے فقہاء کے اقوال بھی ذکر کر دیے جاتے تو کتاب کی قیمت میں بہت اضافہ ہوجاتا ۔


اس کے باوجود، اس موضوع پر کتاب کی اشاعت، ترجمہ اور تحقیق ایک بڑا علمی قدم اور اہم پیش رفت ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب تحقیق و استنباط کے دروازے کھولے گی اور تقلید کے نام پر جمود کے پڑےہوئے قفل کوتوڑنے میں معاون ثابت ہوگی۔ اہلِ علم، بالخصوص فقہی ذوق رکھنے والے طلبہ کے لیے یہ کتاب یقیناً مفید اور رہنما ہے۔


آدم علی ندوی
مدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔ علی گڑھ۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

"مزاحمت” ایک مطالعہ
مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارف

Related Posts

الوافی شرح اصول الشاشی
  • hira-online.comhira-online.com
  • الوافی شرح اصول الشاشی
  • جنوری 27, 2026
  • 0 Comments
الوافی شرح اصول الشاشی

🌴الوافی شرح اصول الشاشی🌴اساتذہ اور طلبہ کے لیے اصول الشاشی کی ایک بہترین عربی شرح. کتاب : الوافی شرح اصول الشاشی (اصول الشاشی کی عربی شرح)زبان : عربیصفحات : 206تالیف : حضرت مولانا مفتی محمد ذیشان احمد قاسمی صاحب مد ظلہ العالی۔(استاذ مدرسہ امداد العلوم حیدرآباد، انڈیا)واٹس ایپ :+91 9032100126ناشر : مکتبہ احیاء سنت، مدرسہ امداد العلوم، جامع مسجد ٹین پوش، حیدرآباد، تلنگانہ، انڈیا۔تعارف نگار: امدادالحق بختیار (استاذ حدیث وافتاء جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد انڈیا) بر صغیر میں دار العلوم دیوبند کے منہج اور نظام ونصاب کو اختیار کرنے والے بیشتر مدارس کے درسِ نظامی میں اصول فقہ کے مدخل، مبادی اور بنیادی اصطلاحات وتعریفات کے لیے سب سے پہلے’’ تسہیل الاصول ‘‘ پڑھائی جاتی ہے، بعض مدارس میں اس مقصد کے لیے دوسری کتابیں بھی شاملِ نصاب ہیں، بعد ازاں بالترتیب اصول الشاشی، نور الانوار اور حسامی کا درس دیا جاتا ہے، یہ تمام کتابیں اپنے موضوع اور مقصد میں بہت مفید ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ طلبہ کو اصولِ فقہ کے موضوع میں سب سے زیادہ جس کتاب سے فائدہ ہوتا ہے، وہ ’’ اصول الشاشی ‘‘ ہے، اس کتاب کی ترتیب ، منہج اور اسلوب بہت شاندار ہے، عبارت سلیس اور آسان ہے، یہ کتاب اصولِ فقہ کی تقریباً تمام بنیادی اصطلاحات، قواعد اور احکام کو جامع ہے، ا س کتاب میں اصول اور قواعد کے ساتھ ایک معتد بہ مقدار میں مثالیں پیش کی گئی ہیں، جس سے قاعدہ اور اس کی تطبیق بخوبی طلبہ کو ذہن نشیں ہو جاتی ہے؛ اسی لیے اصول فقہ کے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان یہ کتاب بہت مقبول ہے۔اردو میں بھی اس کتاب کی بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں اور عربی میں بھی بعض مستقل شرحیں لکھی گئی ہیں اور متعدد حواشی لکھے گئے ہیں؛ تاہم اس کتاب کی کوئی ایسی عربی شرح دستیاب نہیں تھی، جو معاصر زبان، ترتیب اور اسلوب کے مطابق ہو، اور عصری تقاضوں کوپورا کرتی ہو، جس میں اصل کتاب کے تمام مضامین اور اجزاء کی شرح کی گئی ہو، اسی لیے طلبہ کے درمیان کے اس…

Read more

Continue reading
نام کتاب : تراوش قلم
  • hira-online.comhira-online.com
  • پروفیسر محسن عثمانی ندوی
  • تراوش قلم
  • دسمبر 22, 2025
  • 0 Comments
نام کتاب : تراوش قلم

نام کتاب : ترواشِ قلممصنف: پروفیسر محسن عثمانی ندویصفحات : 464قیمت: ۵۰۰ روپےناشر: مکتبہ نشان راہ ، دہلی تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی ملنے کے پتے :مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ،مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی ” ترواشِ قلم” کتاب کا نام ہے، نام کی ندرت وجدت تخلیقیت کی دلیل ہے،صرف کتاب کے نام میں ہی ندرت نہیں ، بلکہ پوری کتاب ہی ندرت و جدت ، فکر و تدبر اور عمق و استدلال سے معمور تحریروں کا مجموعہ ہے، کتاب کی مثال ایسی ہے گویا کسی کے سامنے یکبارگی مختلف خوش رنگ پھول یکجا رکھ دیے جائیں، وہ کبھی ایک کے رنگ سے آنکھیں چار کرے اور کبھی دوسرے کی خوشبو سے مشام جاں معطر کرے، نہ دیکھنے سے دل بھرے نہ خوشبو سے سیرابی ہو، جی ہاں ! یہ کتاب اپنے دامن ایسے ہی متنوع خوش رنگ پھول رکھتی ہے، اس کتاب میں پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کچھ اپنی کتابوں کے مقدمے ، کچھ دوسروں کی کتابوں پر لکھے گئےاپنے مقدمات اور کچھ متفرق مضامین جمع کر دیے ہیں، عربی میں مقدمات جمع کرنے کی روایت معروف ہے، اردو میں تبصرے جمع کیے جاتے رہے ہیں لیکن مقدمات کا یہ پہلا مجموعہ ہے جو اس وقت راقم کے سامنے ہے، اس کی ہر تحریر رہنما اور شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے، کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، اسلامیات، ادبیات ، شخصیات اور متفرقات، اہل علم جانتے ہیں کہ کتاب کا مقدمہ دراصل موضوع کتاب کا نچوڑ ہوا کرتا ہے، اس پہلو سے یہ کتاب پروفیسر عثمانی کے علمی سفر، تحقیقی ذوق ، تنقیدی مزاج ، اسلوب نگارش، خیالات و افکار اور اہداف قلم کی آئینہ دار اور پوری علمی زندگی کا نچوڑ ہے، کتاب کے آغاز میں پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے ایک طویل پیش لفظ لکھا ہے، انھوں نے نہ صرف کتاب کا مختلف پہلوؤں سے بھرپور جائزہ پیش کیا ہے بلکہ اردو نثر کے "محسن قلم” کی عظمتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں قطعاً کسی بخل سے کام نہیں لیاہے، اعتراف…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری 01.08.2026
  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026
  • کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟ 29.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے 20.07.2026
  • پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں 20.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ 18.07.2026
  • جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی 18.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

سیرت و شخصیات

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

  • hira-online.com
  • اگست 1, 2026
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری
فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟
فقہ و اصول فقہ

کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
مضامین و مقالات

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ
مضامین و مقالات

جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top