بیوی پر شوہر کے حقوق
Related Posts
علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)
علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلامڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025) محدثِ وقت، شارحِ صحیح بخاری وسننِ ترمذی، اور فقیہِ عصر، علامہ انور شاہ کشمیریؒ (وفات 1352ھ/1933ء) کی ذاتِ گرامی برصغیر کی علمی و حدیثی روایت میں ایک بے مثال اور امتیازی مقام رکھتی ہے، آپ کی شخصیت علومِ اسلامیہ کے ہر گوشے میں اپنی درخشانی کا پرتو بکھیرتی نظر آتی ہے۔ علم کا رسوخ، فکر کی گہرائی، مطالعے کی وسعت، دقتِ نظر، احاطۂ فنون، استقراء کی قوت، اور نقد و تحلیل میں جو بلندی آپ کو عطا ہوئی، وہ اس خطۂ علم میں بہت کم اہلِ فضل کے نصیب میں آئی ہے، آپ کی ذات محض ایک محدث یا فقیہ کی حیثیت نہیں رکھتی تھی، بلکہ آپ علومِ اسلامیہ کے پورے دبستان کی علمی روح تھے، اور آپ کی مجلسِ درس ایک مستقل مکتبِ فکر کا درجہ رکھتی تھی۔ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے جن الفاظ میں آپ کے علمی جہان کا نقشہ کھینچا ہے، وہ نہ صرف آپ کے مقامِ رفیع کی ترجمانی کرتے ہیں بلکہ آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی گویا مجسم تصویر ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:”مرحوم کم گو مگر وسیع النظر عالم تھے، ان کی مثال اُس سمندر کی سی تھی جس کی سطح تو پرسکون ہو، مگر اس کے باطن میں قیمتی موتیوں کے بے شمار خزانے پوشیدہ ہوں، وہ وسعتِ نظر، قوتِ حافظہ اور کثرتِ محفوظات میں اپنے عہد میں بے مثال تھے، علومِ حدیث کے حافظ اور نکتہ شناس، علومِ ادب میں بلند مرتبہ، معقولات میں مہارت رکھنے والے، شعر و سخن سے بہرہ مند اور زہد و تقوى میں کامل تھے” ۔ یہ شہادت دراصل اس علمی ساخت و پرداخت کا بیان ہے جس نے شاہِ کشمیریؒ کو اپنے معاصرین میں ممتاز اور تاریخِ علم میں منفرد بنا دیا۔راقم کا تعلق اور عقیدت حضرت شاہؒ صاحب سے محض مطالعے یا سنی سنائی باتوں سے نہیں، بلکہ زمانۂ طالبِ علمی سے قلبی وابستگی کی صورت میں قائم ہوا، دارالعلوم ندوۃ العلماء میں جو پہلا باقاعدہ اور قابلِ اشاعت مضمون…
Read moreڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام
ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام ڈاکٹر اسرار احمدؒ (26 اپریل 1932ء – 14 اپریل 2010ء) برصغیر کے ممتاز اسلامی مفکر، مفسرِ قرآن، داعیِ دین اور بانیِ تنظیمِ اسلامی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی قرآنِ حکیم کے فہم، دعوتِ دین اور اسلامی نظامِ حیات کے احیاء کے لیے وقف کر دی۔ اپنی علمی گہرائی، خطیبانہ انداز اور قرآنی فکر کے باعث آپ کو عالمِ اسلام میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ابتدائی زندگی اور تعلیم ڈاکٹر اسرار احمدؒ 26 اپریل 1932ء کو ضلع حصار (موجودہ ریاست ہریانہ، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد آپ کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔ آپ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، لاہور سے 1954ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں قرآن و اسلام کے گہرے مطالعے کے شوق نے آپ کو اسلامی علوم کی جانب متوجہ کیا اور آپ نے جامعہ کراچی سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ دینی و فکری خدمات زمانۂ طالب علمی میں آپ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور بعد ازاں جماعتِ اسلامی میں شامل ہوئے، تاہم بعض فکری اور سیاسی اختلافات کی بنا پر جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ آپ کا یقین تھا کہ اسلامی انقلاب اور معاشرتی اصلاح کا اصل ذریعہ قرآنِ مجید کی تعلیمات کی طرف رجوع ہے۔ اسی مقصد کے لیے آپ نے 1972ء میں انجمن خدام القرآن اور 1975ء میں تنظیمِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں تحریکِ خلافت پاکستان کا آغاز بھی کیا۔ آپ کی دعوت کا مرکزی نکتہ قرآنِ حکیم کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنانا تھا۔ بحیثیت مفسرِ قرآن ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو خصوصاً درسِ قرآن کے حوالے سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کے ہزاروں خطابات، دروس اور بیانات آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں محفوظ ہیں جن سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد مستفید ہوئے۔ آپ نے قرآنِ مجید کے پیغام کو عام فہم اور مؤثر انداز میں پیش کیا اور مسلمانوں کو قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی دعوت دی۔ علمی و تصنیفی خدمات آپ…
Read more

