Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
05.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
05.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

اردو تدریس کی موجودہ صورت حال -مسائل اور حل

  1. Home
  2. اردو تدریس کی موجودہ صورت حال -مسائل اور حل

اردو تدریس کی موجودہ صورت حال -مسائل اور حل

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جنوری 13, 2025
  • 0 Comments

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

اردو تدریس کی موجودہ صورت حال بہت اچھی نہیں ہے، اس کی وجہ مادری زبان اردو میں بچوں کی تعلیم سے عدم التفات ہے، جب کہ تمام ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان ابتدائی تعلیم کے لیے مناسب اور بہترین زبان ہے، لیکن اس کے بر عکس اردو کے عاشقین کی بھی پہلی پسند اپنے بچوں کے لیے انگلش میڈیم اورکنونٹ جیسے تعلیمی ادارے ہیں، ان کے گھروں میں بھی انگریزی زبان بولی جاتی ہے، تاکہ بچہ فرفر انگریزی بولنے لگے، ہمارا سفر ہوتا رہتا ہے اور ہر طبقے میں ہوتا ہے، آج تک کوئی گارجین ایسا نہیں ملا؛ جو مجھے یہ کہہ کر اپنے بچہ سے ملا کہ لڑکا فرفر اردو یا عربی بولتا ہے، انگریزچلے گیے، لیکن انگریزی زبان سے مرعوبیت چھوڑ گیے، ایک بڑی یونیورسٹی میں جو عربی وفارسی کے ہی نام پر قائم ہے، حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے ساتھ جانا ہوا، ہم سب مولوی ہی تھے اور اردو بولنے والے بھی تھے، سامنے والے بڑے عہدہ پر تھے، بات اردو میں شروع ہوئی، تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے انگریزی بولنا شروع کیا؛ تاکہ ہم سب لوگ مرعوب ہوں، ہم لوگ مولوی ہی نہیں داڑھی ٹوپی والے تھے، سوچا ہوگا کہ یہ انگریزی کیا جانتے ہوں گے، مرعوب ہوجائیں گے، حضرت امیر شریعت نے اس بات کو محسوس کیا اور فصیح انگریزی زبان میں جب جواب دینے لگے تو افسر موصوف سٹپٹا گیے، انہیں توقع نہیں تھی کہ یہ مولوی ہم سے اچھی انگریزی جانتا ہوگا، وہ اس قدر مرعوب ہوئے کہ انہیں صرف Yes, No ہی یاد رہ گیا، یہ واقعہ اس لیے ذکر کیا کہ اردو الے بھی انگریزی سے کس قدر مرعوب ہیں، انگریزی کے ٹیوٹر ہمارے اردو داں خوب رکھتے ہیں، لیکن اردو کے ٹیوٹر خال خال ہی رکھے جاتے ہیں، اگر کسی نے رکھ لیا تو انگریزی اور اردو کے ٹیوشن فیس میں آپ کونمایاں فرق ملے گا۔

ظاہر ہے جب بچے نے ابتدائی مرحلہ میں اردو نہیں سیکھی، اسے بولنا، لکھنا نہیں آیا، گھر میں انگریزی تہذیب اور انگریزی الفاظ کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے ایسے میں بچے کو اردو زبان آتی ہی نہیں،اسکول میں جو اردو کے اساتذہ ہیں، ان کی دلچسپی بھی عموما اردو تدریس سے کم، ادارے تنظیمیں جمعتیں، جماعتیں اور ان تحریکات سے زیادہ ہیں، جن سے اخبارات میں تصویریں چھپیں، ان سے دریافت کیجئے کہ پوری مدت ملازمت میں اردو کے کتنے آدمی تیار کیے، بغلیں جھانکنے لگیں گے، یہ معاملہ تنقید کا نہیں، احتساب کا ہے، احتساب سے اپنی کمیوں کے تجزیہ اور عمل میں سدھار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اس کے بر خلاف جو اساتذہ پرانے تھے، انہوں نے پرانے انداز میں اپنے اساتذہ سے اردو لکھنا، بولنا، پڑھنا سیکھا تھا، انہیں اساتذہ نے نقل نویسی اور املا نویسی کی مشق کرائی تھی، واحد جمع کے اصولی قواعد سکھائے تھے، تذکیر وتانیث کی علامتیں اورمحل استعمال بتایا تھا، محاورے اور ضرب الامثال سے واقفیت بہم پہونچائی تھی، اس لیے ان کی محنت طلبہ پر اچھی خاصی ہوتی تھی او روہ اردو سیکھ جاتے تھے، لیکن استاذ کی وہ نسل بھی اب دھیرے دھیرے ختم ہو گئی، بعضے سبکدوش ہو گیے اور بعضوں نے دنیا ہی چھوڑ دیا، اب جو نسل اردو پڑھا رہی ہے، ان میں سے بیش تر کو اردو خود ہی نہیں آتی ہے، اس کا اندازہ ان مضامین اور خبروں کو دیکھ کر ہوتا ہے، جس میں اردو املا کے ساتھ تذکیر وتانیث اور واحد جمع تک کی غلطیاں پائی جاتی ہیں، بعض ان کتابوں کو دیکھ کر بھی اردو کی حالت زار کا انداز ہوتا ہے، جو بغیر کسی اہل نظر کی نظر ثانی کے طباعت کے مراحل سے گذر گئیں، یہی حال اردو اخبارات کا ہے، بعض الفاظ کااملا دیکھ کر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے،مستثنیات سب جگہ ہیں، یہاں بھی بعض اساتذہ اردو کی تدریس میں بہت اچھے ہیں اور ان کے طلبہ بھی کامیاب نکل رہے ہیں، بعض صحافی کی غیر معمولی صلاحیت پر رشک آتا ہے، لیکن یہ معاملہ خاص خاص کا ہے، عمومی احوال وہی ہیں، جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔

اس بے توجہی کی بڑی وجہ اردو کے طلبہ کے لئے بہترین ملازمت کے مواقع کی کمی ہے، استاذ مترجم اور معاون مترجم میں بحالیاں ہوجاتی ہیں، لیکن کتنے اردو داں اس ملازمت میں سما سکتے ہیں،جو سما گیے ان کی دلچسپی بھی ترجمہ سے زیادہ دوسرے فائل نمٹانے سے ہوتی ہے، کیوں کہ اس میں بالائی آمدنی کے مواقع زیادہ نظر آتے ہیں،اس دور میں جب پیشہ وارانہ تعلیم ہمارے رگ وریشے میں سما گیا ہے اور تعلیمی اداروں میں شائقین زبان وادب کے بجائے ان طلبہ کا ہجوم ہے جن کو بتایا گیا ہے کہ اس ڈگری کے حصول پر روٹی کے دو ٹکڑے اور شوربے کا ایک پیالہ مل سکتا ہے تو سارے ادھر ہی بھاگے جا رہے ہیں، اور اردو پڑھنے والوں کی تعداد دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے، جو پڑھ رہے ہیں وہ بھی احساس کمتری کے شکار ہیں، وہ اپنے کو دوسرے مضامین پڑھ رہے طلبہ سے کم تر سمجھتے ہیں اور انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری قدر سماج میں انگریزی اور سائنس پڑھ رہے طلبہ سے کم ہے، یہ احساس کم تری ان کو حوصلہ شکنی کے مقام تک پہونچا دیتی ہے، ہم ہائی اسکول سطح پر اردو اختیاری نہیں، لازمی مادری زبان کی حیثیت سے پڑھانے اور ہر ہائی اسکول میں کم از کم ایک استاذ کی بحالی پر زور دیتے ہیں، دینا بھی چاہیے، لیکن ہمیں اس صورت حال کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ اردو ایک مضمون کی حیثیت سے رکھنے کے خواہش مند کتنے طلبہ ہیں؟ اور ہم نے کتنے کو اس مضمون کے رکھنے کے لیے تیار کیا ہے؟اردو درس وتدریس کے حوالہ سے طلبہ اور اساتذہ کے سامنے ایک بڑا مسئلہ اس کی املا نویسی کا ہے، اردو کے نصاب میں الفاظ کی تحلیل اور املا میں سدھار کی جو غیر فطری تجویزیں آتی رہتی ہیں، اس نے طلبہ واساتذہ کو حیران کر رکھا ہے، کوئی املا کا مدار حرف کی صوت پر رکھنے کی بات کرتا ہے اور کوئی قدیم املا کو باقی رکھنے کی سفارش کرتا ہے، صوت پر املا کی بنیاد رکھنے کا مطلب ہے کہ ہم سدا (ہمیشہ) صدا (آواز) خار (کانٹا) خوار (ذلیل) خان (ذات) خوان (دسترخوان) کو ایک ہی طرح لکھنے لگیں، طوطا میں آواز ”ط“ کی کون نکالتا ہے، اس لیے تو تا”ت“ سے لکھا جانے لگے، طشتری ”ت“ سے لکھا جائے، علٰحدہ، علاحدہ، مولانا، موسیٰ اور عیسیٰ کو الف سے اور بالکل کو بغیر الف کے لکھا جائے، ان سفارشات کا بڑا نقصان یہ کہ اردو زبان میں جو ہم خاندان السنہ ایک موضوع کے طور پر پڑھاتے ہیں،ا لفاظ کے املا بدلنے سے ان کا خاندان گم ہو جاتا ہے، مثلا بالکل عربی زبان سے آ یا ہے، اس لیے اس کو الف سے لکھنا ہی ہوگا، عیسیٰ موسیٰ کا املا بھی متعین ہے اور اس کا تلفظ چاہے جو ہو، املا وہی ہے جس طرح قرآن کریم میں لکھا ہوا ہے، اسی طرح معدولات یعنی وہ حروف جو تلفظ میں نہیں آتے، ان کو ہٹا دینے سے بھی اس لفظ کا خاندان گم ہوجائے گا، اور یہ کہنا کہ اس سے طلبہ کو لکھنے میں آسانی ہوجائے گی، خواہ مخواہ کی بات ہے، یہی لوگ جب انگریزی بولتے، لکھتے اور پڑھاتے ہیں تو نالج اور نائف کے "K”سائلنٹ کو حذف کرنے کی بات نہیں کرتے اور اردو میں ساری تجویزیں اول جلول کی آتی رہتی ہیں۔

اردو زبان کی تدریس کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اس زبان کو اجنبی زبان کی طرح پڑھاتے ہیں، اسکولوں اور کالجوں میں اردو زبان کو صرف ایک مضمون کی طرح پڑھایا جاتا ہے، زبان کی طرح نہیں، اردو تدریس میں ایک کام متن کی خواندگی کا ہے، متن کی خواندگی صحیح نہیں ہو تو درست مفہوم تک نہیں پہونچا جا سکتا، میرا جب سعودی عرب کے جدہ واقع انڈین اسکول میں جانا ہوا تو اردو کے ایک استاذ نے باتوں باتوں میں میرا وہ مشہور شعر پڑھا کہ

جانا نہ تھا مجھے جہاں سو بار واں گیا

ضعف قُویٰ سے دست بدیوارواں گیا

اس شعر میں انہوں نے متن کی خواندگی میں فاش غلطی کی، کہ قُویٰ کو قو ِی پڑھ لیا، میں نے زیر لب مسکراتے ہوئے ان سے پوچھا کہ ضعف قوی کا کیا مطلب ہے کہنے لگے بہت کمزوری، حالاں کہ یہ لفظ قُویٰ ہے، اعضاء وجوارح ہاتھ پاؤں وغیرہ کے معنی، جب اردو کے اساتذہ کا یہ حال ہوگا تو طلبہ کیسے نکلیں گے، آپ خود سوچ سکتے ہیں۔

اس لیے تدریس میں متن کی صحیح خواندگی پر زور دیا جائے، تدریس میں طلبہ کا بھی رول ہو زیادہ سے زیادہ سوالات کرکے عبارت کا ماحصل طلبہ کے ذہن وماغ میں بیٹھایا جائے، ان کی نفسیات کا خیال رکھا جائے اور ہر ہر طالب علم کو اہمیت دی جائے، تاکہ استاذ کی توجہ ہر طالب علم پر رہے، یقینا کلاس طلبہ کی جماعت سے تیار ہوتا ہے، لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ان میں کا ہر فرد ہمارا مخاطب ہے، اور یقینا کلاس کے تمام لڑکوں کی قوت تفہیم اور معلومات کی سطحیں الگ الگ ہوتی ہیں، ہمیں اردو کو خالص ادبی حیثیت سے نہیں بلکہ معنی کی تفہیم وترسیل کے مقصد سے بھی پڑھانے کی ضرورت ہے۔آج کل ایک خرابی یہ بھی ہے کہ طلبہ تو طلبہ ہی ہیں اساتذہ کا تلفظ بھی صحیح نہیں ہوتا ہے، اس کی وجہ نیچے درجات میں تلفظ کا صحیح نہیں ہونا ہے، اس کے لیے تلفظ کی مشق ضروری ہوتی ہے، ج،ز، ض، س، ش، ص میں فرق کرنے کی مشق ابتدائی تعلیم سے ہی ضروری ہے، ورنہ اگر بنیاد صحیح نہیں ہوئی تو کہا جاتا ہے کہ تاثریا می روددیوار کج۔دیوار جتنی بھی بلند ہو جائے ٹیڑھی ہی رہے گی۔اردو ہی نہیں تمام موضوعات کی تدریس کے لیے سبق کی مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے، جسے تدریس کی زبان میں ”لیسن پلان“ کہتے ہیں، ہمارے یہاں سرکاری سطح پر سبق کی منصوبہ بندی کے لزوم کے باوجود اس کا اہتمام نہیں کیا جاتا، حالاں کہ اگر آپ ذہنی منصوبہ بندی کرکے اسے کاغذ پر منتقل کر لیتے ہیں تو آموزش،سیکھنے سکھانے کا عمل خوش گوار ہوگا اور درسگاہ میں طلبہ کے اندر شوق وذوق پیدا ہوگا، جس سے سبق پڑھانا آسان ہوگا، اور ہم اپنی صلاحیتوں کو طلبہ تک منتقل کر سکیں گے۔

خواجہ غلام السیدین کا قول ہے کہ اچھے استاذ کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے شعور وآگہی میں طلبہ کو شریک کر لے، یعنی جو کچھ وہ جانتا ہے، طلبہ میں منتقل کر دے، اچھے استاذ کے لیے بہت ساری معلومات کا اس کے پاس ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ صحیح معلومات کو طلبہ تک منتقل کرنے کی صلاحیت اس کے پاس ہونی چاہیے۔

مؤثر منصوبہ بندی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ طلبہ کی ذہنی صلاحیت اور مبلغ علم کو سامنے رکھا جائے، اس کے بعد تدریس کا خاکہ، مقاصد تدریس، ذہنی آمادگی، متن کی خواندگی، تفہیمی سوالات، نئے الفاظ کے معنی تک رسائی وغیرہ مؤثر منصوبہ بندی کے ذیلی عناوین ہو سکتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے اور اس کے بغیر کامیاب تدریس کے تصور کو خواب وخیال یا احمقوں کی دنیا میں رہنے کے مترادف سمجھنا چاہیے۔

ایک اور کام جو تدریس کے حوالہ سے ہمیں کرنا چاہیے وہ ہے تدریس کے طریقہئ کار میں تبدیلی، چہک وغیرہ میں طلبہ کو پڑھایا ہی نہیں جاتا، آموزش کے عمل کو استاذ اور شاگرد ناچ گا کر بھی سیکھتے سکھاتے ہیں، میں اس کو تدریس کی سنجیدگی کے خلاف اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو کمر ہلا کر رقص کی طرف مائل کرنا سمجھتا ہوں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طرح سے طلبہ میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے، مجھے خود ایک بار سنٹرل انسٹی چیوٹ آف انڈین لنگویج نے سو لن کے ورکشاپ میں بلایا تھا اور موضوع دیا تھا کہ کھیل کھیل میں بچوں کو کیسے پڑھائیں، انیس روزہ ورک شاپ میں شرکاء نے جو”کھیل کھیل میں بچوں کو کیسے پڑھائیں“ کے عنوان سے کھیل بنائے، اس کو این سی پی اول نے اردو زبان کے جادو کے عنوان سے دو جلدوں میں شائع کر دیا ہے، میں نے اس میں سارے ایسے کھیل بنائے، جس میں ڈانس اور کمر ہلا نے کی ضرورت نہ پڑے، تدریس کی سنجیدگی بر قرار رہے، اردو کے اساتذہ کو بھی روایتی اور سرکاری طریقہ کار سے الگ ہٹ کر اپنے درس کو دلکش بنانا چاہیے، اس کے لیے جدید تدریسی آلات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ موبائل او رانٹر نیٹ لڑکوں کا ذوق بن گیا ہے، ہم اسے تدریس کے کاموں میں آن لائن تعلیم سے الگ ہٹ کر کس طرح اور کس قدر استعمال کر سکتے ہیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اردو دوست حضرات کو آگے آنا پڑے گا، طلبہ میں اردو زبان وادب کے تئیں دلچسپی پیدا کرنی ہوگی، گھر میں بھی اردو لکھنے، پڑھنے اور بولنے کا ماحول دینا ہوگا، گارجین کو بھی اردو لکھنا، پڑھنا اور صحیح تلفظ کے ساتھ بولنے کی مشق کرنی ہوگی، تبھی بچوں میں اردو سیکھنے اور پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا، ان کے ذہن میں یہ بات راسخ کرنی ہوگی کہ دوسرے علوم وفنون تم روزی روٹی کے لیے پڑھ رہے ہو، لیکن تمہاری مادری زبان اردوہے، علوم وفنون کا بڑا سرمایہ اور معلومات کا خزانہ اس میں موجود ہے،اس لیے اس میں ماں کی محبت کا عنصر بھی شامل ہونا چاہیے، انہیں بتائیے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں، تہذیب بھی ہے،زبانیں اپنی تہذیب کے ساتھ ہی زندہ رہا کرتی ہیں، آپ خوابگاہ کو بیڈ روم، باورچی خانہ کو کچن، استقبالیہ کمرے کو ڈرائنگ روم، طعام گاہ کو ڈائننگ ہال، غسل خانہ کو باتھ روم، چمچے کو اسپون، پانی کو واٹر، کرسی کو چیر، میز کو ٹیبل، کھڑکی کو ونڈو،ناشتہ کو بریک فاسٹ، دن کے کھانے کو لنچ اور رات کے کھانے کو ڈِنر کہہ کر اردو کی حفاظت نہیں کر سکتے، اردو کی حفاظت اس کے الفاظ اور رسم الخط کی حفاظت سے ہو گی، اساتذہ کو اردو تدریس کے تئیں سنجیدہ ہونا ہوگا، یہ صحیح ہے کہ آن لائن حاضری بنانے کے لزوم نے اسکولوں میں اساتذۃ کی حاضری کا تناسب سو فی صد تک پہونچا دیا ہے، لیکن حاضری کے بعد اردو کے اساتذہ اردو نہیں پڑھائیں، کلاس میں موبائل دیکھ کر وقت گذاردیں یا وہ دوسرے موضوعات پڑھانے میں لگ جائیں تو اردو کی تعلیم کہاں سے ہو سکے گی، ہماری دو کانوں اور سرکاری دفاتر پر اردو میں بورڈ نہ لکھا ہو تو کس طرح اس کے پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا، دوسری زبانوں کے بولنے والے اس قدر حساس ہیں کہ تامل، تلگو، بنگلہ، کنڑ وغیرہ بولنے والے اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانوں کا قطعا استعمال نہیں کرتے، دوکانوں اور دفاتر پر بھی بورڈ دوسری زبانوں میں لگانہیں ہوتا، آپ وہاں جا کر ہندوستان کے شہری ہونے کے باوجود اجنبیت محسوس کریں گے، ریلوے اسٹیشنوں کے علاوہ ہندی کا نام ونشان کہیں بھی نظر نہیں آئے گا، میں آپ لوگوں کواس قدر متعصب ہونے کی تلقین نہیں کرتا، لیکن دوسری زبانوں کے ساتھ اپنی زبان کے ساتھ بھی انصاف کیجئے، ہمارے یہاں اردو کے حوالہ سے مدارس اسلامیہ کے علاوہ شاخوں کو پانی پٹانے کا عمل جاری ہے، ضرورت ہے جڑوں میں پانی دینے کی، جڑ میں پانی دینے کا یہ عمل، گھر اور اسکول سے شروع کیجئے، یقینا مسائل ہیں، لیکن مسائل سے نبرد آزما ہوئیے، اپنے اندر کمی ہے تو اس کا بھی محاسبہ کیجئے، کمیوں کو دور کیجئے، خوب اچھی طرح یاد رکھیے،زبانیں سرکاری سر پرستی سے نہیں، بولنے، لکھنے، پڑھنے اور استعمال سے زندہ رہتی ہیں، ورنہ حبرو زبان کب کی مر گئی ہوتی، در بدری اور خانہ بدوشی کے زمانہ میں بھی یہودیوں نے اسے پڑھ لکھ کر گھروں میں زندہ رکھا، اور کوئی بائیس سو سال زندہ رکھنے کے بعد جب اسرائیل کی حکومت قائم ہوئی تو پہلی ڈکلیریشن میں ہی اسے سرکاری زبان کا درجہ مل گیا۔

آپ پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے، اردو یہاں دوسری سرکاری زبان ہے، اس کی ترویج واشاعت کے بڑے مواقع حاصل ہیں، بس اتنا دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کی طرف اٹھی ایک انگلی کے بعد تین انگلیاں ہماری طرف رخ کر کے پوچھ رہی ہیں کہ اردو کے عاشقین اردو کی بقا، ترویج واشاعت اور نئی نسل تک اسے منتقل کرنے کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں، حکومت پر دباؤ بنانے کے ساتھ اپنی ترجیحات کا رخ بھی اردو کی طرف کر دیجئے، صورت حال بھی بدلے گی اور مسائل بھی حل ہوں گے۔

ان ارید الاالاصلاح مااستطعت وما توفیقی الا باللہ

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

برف باری حسن ہے کشمیر کا
قرآن مجید سے تزکیۂ نفس

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • ٹیکس
  • ٹیکس دینا کیسا ہے
  • اگست 5, 2026
  • 0 Comments
ٹیکس میں سود کی رقم دینا

ٹیکس میں سود کی رقم دینا ٹیکس جو حکومت عوام سے وصول کرتی ہے وہ دو طرح کے ہیں ۔ بعض منصفانہ ہیں اور خود اسلام میں ان کی گنجائش ہے مثلا پانی ، روشنی ، سڑک ، ہسپتال ، لائبریری اور پارک وغیرہ سہولتوں کے بدلے بلدیہ جو ٹیکس لیا کرتی ہے وہ اس کا فائدہ محسوس طور پر ہماری طرف لوٹا دیتی ہے ۔ دوسرے قسم کے ٹیکس ایسے ہیں جن کو غیر منصفانہ اور ناواجبی کہا جاسکتا ہے ۔ مثلا انکم ٹیکس جو بسا اوقات اسی فی صد تک پہنچ جاتا ہے شرعی اعتبار سے غیر منصفانہ ہونے کے علاوہ واقعہ ہے کہ اس قسم کے ٹیکس غیر معقول بھی ہیں کہ ایک شخص اپنے گاڑھے پسینہ سے جو کچھ حاصل کرے آپ اس کا اسی فی صد اجتماعی مفاد کے لئے وصول کر لیں۔ پہلی قسم کے ٹیکس میں بینک کی سودی رقم دینا درست نہ ہو گا اس لئے کہ وہاں سود دینا گویا اپنی ذات میں سود کا استعمال ہوگیا اس لئے کہ وہ بھی ان قومی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور فقہاء نے ایسے ٹیکس کی اجازت دی ہے جیسا کہ ابوالحسن مرغینانی کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے : فان اريد بها ما يكون بحق ككرى النهر المشترك واجر الحارس والموظف لتجهيز الجيش وفداء الاسارى وغيرها جازت الكفالة بها على الاتفاق – اگر اس سے وہ ٹیکس مراد ہیں جو جائز اور صحیح ہیں جیسے مشترک نہر کا کھودنا پولیس کی اجرت ، فوج کا انتظام کرنے والوں کی تنخواہ جو سب پر ڈال دی جائے یا قیدیوں کو کافروں کی قید سے چھڑانے کے لئے عطیات تو بالاتفاق ان کی کفالت کی جا سکتی ہے ۔ دوسری قسم کے ٹیکس میں یہ رقم دی جاسکتی ہے کہ اس طرح یہ مال حرام اس حکومت یا ادارہ کو پہونچتا ہے جس نے یہ مال امانت داروں کو سود کے نام سے دیا ہے ۔ جدید فقہی مسائل  : ج : 1 ص: (421 )

Read more

Continue reading
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 20, 2026
  • 0 Comments
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری: دو ملاقاتیں بقلم: ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)   13 جولائی 2026 کو پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی، کے انتقال کی خبر ملی تو جہاں ایک طرف مجھے آپ کی وفات پر انتہائی صدمہ لگا، وہیں دوسری طرف میں خود کو اپنی تساہلی پر کوسنے لگا۔ آج چار سال ہو گئے میری کتاب A Hostoy of Bais Rajputs کو شائع ہوئے مگر آپ سے ملنا تو دور ابھی تک آپ کی خدمت میں اس کا ایک نسخہ تک نہ ارسال کر سکا تھا۔ آپ کا حق تو یہ بنتا تھا کہ نہ صرف اُسکا نُسخہ بطور تشکر و امتنان کے آپ کو بھیجا جاتا بلکہ اس کی رونمائی بھی آپ سے کرائی جاتی کیونکہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس پر ایک وقیع مقدمہ لکھا تھا جو کتاب کے موضوع کے تعلق سے اپنے اندر بہت سی قابل ذکر معلومات سموئے ہوئے تھا۔ یہ سن 2020 کے اوائل کی بات ہے، میری کتاب کا مسودہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا مگر میں ابھی بھی تشنگی محسوس کر رہا تھا اس لیے تقریباً سات سال تک اس موضوع پر کام کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تحقیق و جستجو کا سلسلہ ابھی بھی چل رہا تھا۔ اس دوران مجھے پروفیسر جعفری صاحب کے کئی مضامين ملے جن میں اودھ کے زمینداروں اور بیس راجپوتوں کا تذکرہ تھا۔ میں نے جعفری صاحب کے بارے میں تھوڑا سا سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آپ ہندوستان کے ممتاز مؤرخ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق صدر، اور انڈین ہسٹری کانگریس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ آپ کو ایک ایسے مؤرخ کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی علمی تحقیق مضبوط آرکائیوی شواہد پر مبنی ہے اور جو عام لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی کو سمجھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جہاں آپ نے معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بینک کے سود کے مصارف 05.08.2026
  • ٹیکس میں سود کی رقم دینا 05.08.2026
  • بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا 05.08.2026
  • قسطوں پر سامان کی فروخت 05.08.2026
  • عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟ 05.08.2026
  • مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری 01.08.2026
  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

بینک کے سود کے مصارف

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
مضامین و مقالات

ٹیکس میں سود کی رقم دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

قسطوں پر سامان کی فروخت

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

  • hira-online.com
  • اگست 1, 2026
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری
فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top