Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
29.08.2026
Trending News: غیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
29.08.2026
Trending News: غیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

  1. Home
  2. کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جون 12, 2025
  • 0 Comments

🖋 احمد نور عینی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

آج ۱۱ جون (۲۰۲۵) کو کبیر جیتنی منائی جا رہی ہے، کبیرداس پندہویں صدی کےایک انقلابی شاعر، سماجی مصلح ومفکر،اور محبت کے عظیم مبلغ گذرے ہیں، اترپردیش کی جلاہا ذات سے ان کا تعلق تھا، یہ ذات ماقبل اسلام زمانے سے ہی کپڑے بننے کا کام کرتی آرہی ہے، انھیں کوری کہا جاتا تھا، اسلام قبول کرنے کے بعد یہ جلاہا سے متعارف ہوئے، ادھر ماضی قریب میں انصاری سے موسوم ہوئے، شیخ انصاری سے امتیاز کرنے کے لیے انھیں مومن انصاری بھی کہا جاتا ہے۔

یہ ذات اسلام قبول کرنے سے پہلے ہندو سماج میں نیچ اور کمتر سمجھی جاتی تھی، اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی سماجی حیثیت میں کچھ تبدیلی تو ضرور آئی مگر یہ سچ ہے کہ انھیں برابری اور عزت وافتخار کا وہ مقام نہ مل سکا جو اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر انھیں ملنا چاہیے تھا، کبیر نے ذات پات کی تفریق کو اپنی سر کی آنکھوں سے دیکھا اور اونچ نیچ کے جذبات کو اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کیا، سماج کی طبقاتی تقسیم اور ذات پات کی لعنت نیز ہندو مسلم تصادم کا حل تلاش کرنے اور انسانیت کی بنیاد پر انسانی سماج کو ایک دیکھنے کے لیے انھوں نے کافی غور وخوض کیا، انھیں ان سارے مسائل کا حل ایک لفظ ’محبت‘ میں ملا، اور کیوں نہ ہو کہ ایک لفظ محبت کا اتنا سا فسانہ ہےسمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے کبیر نے ذات پات اور برہمنواد پر کھل کر ہلہ بولا ہے اور جم کر حملہ کیا ہے۔

برہمنیت پر وار کرتے ہوئے انھوں نے اپنے دوہوں میں برہمن لفظ کو استعمال کرنے سے کوئی گریز نہیں کیا۔انھوں نے انسانیت اور مساوات کی قدر کو بہت زیادہ اہمیت دی، ان کے دوہوں کا مطالعہ کرنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے انسانیت، مساوات اور محبت کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ مذہب کی حیثیت ثانوی ہوگئی، جب کہ سچے مذہب اور ان اقدار میں کوئی تعارض نہیں ہوتا، مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کبیر کے نزدیک مذہبی وابستگی میں تصلب ایک منفی قدر ہے، اس سے دو مذہب کے ماننے والوں کے بیچ دیوار اٹھتی ہے اور دراڑ پڑتی ہے، اسی وجہ سے کبیر وحدت دین کے بجائے وحدت ادیان پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔

کبیر کے تصور مذہب سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا، لیکن جس مقصد کے لیے انھوں نے یہ تصور اپنایا وہ مقصد یقینا بہت اہم ہے، وہ مقصد ہے انسانوں کے درمیان مساوات قائم کرنا، نفرت کی دیواریں گرانا، محبت کی شمع جلانا، ذات پات کا خاتمہ کرنا،طبقاتی نظام کو زمین بوس کرنا اور ہندو مسلم دونوں قوموں کے بیچ کی خلیج پاٹنا۔

کبیر نے پوری زندگی پریم کے دیپ جلائے، اور جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا۔ کبیر کے چراغ سے کئی چراغ جلے، سماج ان کی تعلیمات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، دیکھتے ہی دیکھتے ان کا ایک ’پنتھ‘ بن گیا۔ کبیر کی پوری تحریک برہمنواد کے خلاف تھی، برہمنواد یہ سب ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کر سکتا تھا، اس نے جب دیکھا کہ اس شخصیت کا دائرۂ اثر بڑھتا ہی جا رہا ہے اور اس کو دبانا آسان نہیں ہے تو اس نے اپنی پالیسی کے مطابق کبیر کو برہمنوادی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی، اور وہ اپنی کوشش میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوا، اس نے کبیر کو برہمنوادی مفاد میں استعمال کرنے کے لیے ایک افواہ تو یہ پھیلائی کہ کبیر خود برہمنی کے شکم سے پیدا ہوئے، اور یہ چوں کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اس لیے ان کی ماں نے بدنامی کے ڈر سے انھیں تالاب کے کنارے پھینک دیا، پھر انھیں مسلم جولاہے خاندان کے ایک جوڑےنے اٹھا کر اپنی پرورش میں لیا۔ یہ پوری کہانی گھڑی ہوئی ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور اس کہانی سے خود کبیر کی بے عزتی ہوتی ہے، برہمنواد نے یہ پوری کہانی یہ ثابت کرنے کے لیے گھڑی کہ کبیر نسلا برہمن تھے، اور کبیر کے ذریعہ جو اتنا بڑا سماجی اصلاح کا انقلاب برپا ہوا وہ ایک برہمن نے ہی برپا کیا تھا۔

برہمن کے دماغ نے زیب داستاں کے لیے جو یہ بے بنیاد حکایت گھڑی ہے اس کے جواب کے لیے وہ دوہے کافی ہیں جن میں کبیر نے اپنے کو جلاہا کہا ہے، مثلا وہ کہتے ہیں:جاتی جلاہا نام کبیرا، اجہو پتیجو ناہی(گرنتھاولی: 270)ایک دوہے میں وہ برہمن کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:تو برہمن میں کاسی کا جلاہا، چینہ نہ مور گیانا (گرنتھاولی: 250)اگر کبیر برہمن نسل کے ہوتے تو وہ یوں کہتے کہ تو اگر برہمن ہے تو میں بھی برہمن ہوں، اور کوئی عام برہمن نہیں؛ کاشی کا برہمن ہوں، بجائے اس کے وہ کہتے ہیں کہ تو اگر برہمن ہے تو میں کاشی کا جلاہا ہوں۔

کبیر کو برہمنوادی رنگ میں رنگنے اور ان کی تعلیمات کی انقلابیت پر زد لگانے کے لیے برہمنواد نے جو دوسرا کام کیا وہ یہ کہ کبیر کو برہمن گرو رامانند کا چیلا (مرید) بتایا، اور اس کے لیے بھی ایک خوبصورت حکایت گھڑی جس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور اس دعوی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ان کا یہ دوہہ پیش کیا جاتا ہے کہ ’’ کاشی میں ہم پرکٹ بھییے، رامانند چیتائے‘‘۔ یہ دوہہ بہت مشہور کیا گیا، اور اس بنیاد پر کبیر کے رامانند کے چیلا ہونے کی بات اتنی زیادہ چلائی گئی کہ وہ ایک حقیقیت کے طور پر قبول کرلی گئی، اورکبیر پر لکھنے یا بولنے والا یہ مان کر چلتا ہے کہ کبیر داس ویشنوی گرو رامانند کے چیلے تھے۔ جہاں تک اس دوہے کی بات ہے تو یہ دوہہ کبیر کی شاعری کے مستند مراجع میں نہیں ملتا ہے، کبیر کے دوہوں کے دو ہی مستند مراجع ہیں: ایک گرو گرنتھ صاحب، دوسرے کبیر گرنتھاولی۔ رامانند والا دوہہ ان دونوں میں نہیں ملتا۔ اور جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ کبیر نے رامانند سے رام نام لیا تھا، تو اس کے لیے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیاکبیر کی ملاقات رامانند سے ہوئی بھی ہے یا نہیں، ملاقات کے ثبوت پر کوئی دلیل نہیں ملتی، اگر معاصرت کو ملاقات کے امکان کے لیے کافی مان لیں تو بھی یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ رامانند کی حیات میں کبیر اس عمر کو پہنچ گئے تھے جس عمر میں نِرگرو ہونے (بے پیری کے رہنے) کا احساس انسان کو بے چین رکھتا ہے اور سچے گرو کی تلاش میں وہ سرگرداں رہتا ہے۔

رامانند کے سن وفات اور کبیر داس کے سن پیدائش دونوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، پھر بھی اگر ہم رامانند کی وفات کو کھینچ تان کر ۱۴۶۷ء تک لے کر جائیں اور کبیر داس کی پیدائش کو کھینچ تان کر ۱۴۵۶ء تک لے کر آئیں تو بھی رامانند کے انتقال کے وقت کبیر داس کی عمر ۱۱؍ سال کی ہوتی ہے، اور پیری والی داستان اس عمر کو زیب نہیں دیتی۔ اور اگر ہم رامانند کی وفات کے تعلق سے دوسرے اقوال لے لیں تو ان کی وفات کبیر کی پیدائش سے قبل ہی ہو جاتی ہے۔تاریخی پہلو کے علاوہ اگر ہم نظریاتی وفکری پہلو سے غور کریں تو دونوں کے راستے واضح طور پر جدا نظر آتے ہیں، بنیادی بات یہ ہے کہ رامانند ورن آشرم دھرم کو سماجی نظام میں اساسی حیثیت دیتے ہیں، جب کہ کبیر داس اس نظام کی جڑیں کھودتے ہیں، اسی طرح رامانند مورتی پوجا کا عقیدہ رکھتے ہیں ، اوتار واد کو تسلیم کرتے ہیں، وید کو مقدس مانتے ہیں، ویدک دھرم کے پر جو ش مبلغ ہیں، ذات واجب الوجود ہستی کو سگن اورساکار مانتے ہیں، جب کہ کبیر مورتی پوجا کا کھنڈن کرتے ہیں، اوتار واد کا انکار کرتے ہیں، وید پر سخت تنقید کرتے ہیں، ویدک دھرم کے سخت مخالف وناقد ہیں، خدا کو نراکار مانتے ہیں۔ ہاں رام کا ذکر کبیر کے یہاں ملتا ہے، جس سے ان کا رشتہ رامانند سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس طور پر کہ رامانند ویشنوی فرقوں میں اس فرقہ کے گرو مانے جاتے ہیں جو رام کی محبت، عقیدت اور عبادت پر زیادہ زور دیتا ہے، مگر غور کرنے پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کبیر کے رام اور رامانند کے رام میں فرق ہے، کبیر کا رام نرگن نراکار ہستی ہے، جب کہ رامانند کا رام سگن برہم وشنو دیوتا کا اوتار ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسا چیلا ہے جو اپنے گرو کے راستے کو نہ اپنا سکا اور یہ کیسا گرو ہے جو اپنے چیلے کو اپنے راستے پر نہ لگا سکا۔ یہاں اس بات کا ذکر بے فائدہ نہ ہوگا کہ کبیر کو رامانند کا چیلا بتانے سے برہمنواد کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بھکتی تحریک کا بہ آسانی برہمنی کرن کر دیا گیا۔ بھکتی تحریک ذات پات اور انسانی عدم مساوات کے خلاف شروع ہوئی تھی، وہ صوفی تحریک سے واضح طور پر متاثر تھی، اور صوفی تحریک اسلامی تعلیمات کا نتیجہ تھی، یعنی بھکتی تحریک اس ملک میں اسلام کی آمد سے پیدا ہونی والی ایک مثبت تبدیلی تھی، یہ اگر کامیاب ہوجاتی تو صوفی تحریک کی لگائی کھیتی لہلہا اٹھتی اور برہمنواد کا نشیمن بلکہ سارا گلشن خاکستر ہوجاتا، اس لیے اس کو بے اثر کیے بغیر برہمنواد چین کی نیند نہیں سو سکتا تھا، بے اثر کرنے کے لیے اس نے جو حربہ اپنایا وہ یہ کہ اس نے بھکتی تحریک کے سنتوں کو برہمن گرووں کا مرید بنا دیا، اور ان کے فرمودات میں برہمنی دیوی دیوتا اور سناتنی معتقدات گھسا دیے، یوں جس تحریک کے سہارے شودر اور اتی شودر سماج سے آنے والے سَنتوں نے دبے کچلے مولنواسی سماج کو برہمنواد سے آزادی کے لیے بیدار کیا اس تحریک کو برہمنواد نے سنتوں کے برہمن کرن کے ذریعہ اپنی گود میں تھپکی دے کر سلا دیا۔خزینۃ الاصفیاء میں کبیر کے بارے میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ وہ شیخ علی متقی کے مرید تھے، (دیکھیے محولہ کتاب: ۱/۴۴۶)۔

یہ بات مشہور تو ہے مگر اس کی استنادی حیثیت کیا ہے اس بابت قبل از تحقیق کچھ کہا نہیں جا سکتا۔کبیر کے مسلم سماج سے ہونے بلکہ موحد ہونے میں کوئی شک نہیں، البتہ یہ بات محتاج تحقیق ہے کہ کیا ان کا عقیدۂ توحید عین اسلامی عقیدۂ توحید ہی تھا یا اس سے کچھ مختلف تھا، اسی طرح کیا کبیر دیگر اسلامی عقائد کو بھی اسی طرح مانتے تھے جس طرح انھیں ماننے کا حکم ہے یا ان کی ایمانیات کچھ الگ تھیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ کبیر کو ملحد یا گمراہ مان لیا جائے، وہ چوں کہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اس لیے جب تک ان کے مسلمان نہ ہونے کی یا غیر اسلامی عقائد کے حامل ہونے کی کوئی تحقیق کے ساتھ ثابت نہیں ہوجاتی تب تک ان کی تکفیر یا تضلیل سے احتراز کیا جانا چاہیے۔ ہاں ان کی طرف جو کلام منسوب ہے اس میں اگر کوئی بات خلاف اسلام ملتی ہے تو اس بات پر نکیر ضرور کی جانی چاہیے۔کبیر داس کی زندگی اترپردیش کے کاشی (بنارس) اور مگہر میں گذری، ان کا مزار مگہر (ضلع سنت کبیر نگر) میں آمی ندی کے کنارے واقع ہے، مزار کے بازو میں ہی ان کی سمادھی بھی بنی ہوئی ہے۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

امارت شرعیہ کی مجلس ارباب حل وعقد نے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی امارت اور قیادت میں شرعی زندگی گذارنے کا عہد پیمان کیا.
قربانی، ماحول اور مسلمان: عبادت سے ذمہ داری تک مولانا مفتی محمد اعظم ندوی

Related Posts

ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی
  • hira-online.comhira-online.com
  • ربیع الاول کا پیغام
  • رحمت عالم
  • اگست 21, 2026
  • 1 Comments
ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی

*آپ آئے تو سب کو ملی روشنی* محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔ مدرسہ, نور الاسلام, کنڈہ, پرتاپگڑھ, یوپی 9506600725   یہ ماہ ربیع الاول ہے،اس مہینہ کی بارہ تاریخ کی ایک خاص اہمیت اور مقام ہے ، اس مہینے کی نسبت بہت اونچی ہے،اس نسبت ہی سے اس مہینے کی عظمت و رفعت اور فضیلت و اہمیت بڑھ جاتی ہے، اگر چہ یہ مہینہ اشہر حرم یعنی حرمت کے جو چار مہینے ہیں ،اس میں سے نہیں ہے ۔ وہ نسبت یہ ہے کہ مشہور روایت کے مطابق اسی مہینے کی بارہ تاریخ کو لیکن صحیح روایت کے مطابق نو ربیع الاول کو آقائے مدنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیاسی زمین کی سیرابی کے لئے، سسکتی، بلکتی،دم توڑتی اور مرجھائی انسانیت کو تازہ دم کرنے اور حیات آفریں بخشنے کے لیے،اس دنیا میں تشریف لائے ۔ یہ مہینہ، پوری دنیائے انسانیت کے لئے موسم ربیع اور فصل بہار ہے، کیوں کہ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے پہلے انسانیت پر خزاں، پژمردگی اور بے حسی چھائی ہوئی تھی ہر طرف ظلم و ستم جور و جفااور زیادتیاں عام تھیں ، کون سی برائی تھی، جس کا انسان رسیا اور عادی نہ تھا ۔ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے قبل انسانیت کا خون خود انسان پی رہا تھا *حضرت عیسی علیہ السلام* کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد نبوت سے خالی عرصئہ دراز کی وجہ سے شیطان کو موقع ملا مختلف برائیوں اور بے حیائیوں کی راہیں ہموار کیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا برائی میں ڈوب گئ اور خاص طور پر جزیرہ عرب برائیوں اور بے حیائیوں کا اڈہ اور مرکز بن گیا ۔ حرص و حسد ہوس و نفس پرستی جھوٹ غیبت دھوکہ دہی ظلم و ستم لوٹ مار قتل و غارت گری شراب نوشی بے حیائی، دختر کشی لڑائی جھگڑے جوا قمار اور کوئی بھی ایسی برائی نہ تھی، جو عرب میں نہ پائی جاتی ہو،گویا وہ درندوں سے بدتر ہو چکے تھے۔ شرک و بت پرستی کی آخری حد پر یہ لوگ…

Read more

Continue reading
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • آزادی ہند
  • آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • اگست 14, 2026
  • 0 Comments
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں برصغیر کی آزادی کی داستان محض 1947ء کی ایک تاریخی تبدیلی نہیں بلکہ یہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک مسلسل اور خونچکاں جدوجہد کی تاریخ ہے۔ انگریزوں کے قدم اس سرزمین پر 17ویں صدی کے اوائل میں تجارت کے بہانے پڑے، مگر آہستہ آہستہ ان کا قبضہ سیاسی، فوجی اور معاشی طاقت میں بدل گیا۔ اس قبضے کے خلاف مزاحمت کی کئی لہریں اٹھیں، جو مختلف ادوار میں "جنگ آزادی” یا "تحریک آزادی” کے عنوان سے یاد کی جاتی ہیں۔ ذیل میں ان اہم سنگ میلوں کا تاریخی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی جنگ آزادی — جنگِ پلاسی (1757ء) پس منظر: نواب سراج الدولہ نے بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے تجارتی قلعہ بندیوں پر پابندی لگائی۔ انگریزوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی، جس پر فوجی تصادم ہوا۔ واقعات: پلاسی کے مقام پر جنگ ہوئی۔ میر جعفر سمیت کئی امرا نے غداری کی۔ نتیجہ: نواب کو شکست، انگریزوں کا بنگال پر قبضہ، اور کمپنی کی سیاسی بالادستی کی بنیاد۔ اہمیت: یہ واقعہ انگریز اقتدار کے ابتدائی دور کا نقطۂ آغاز تھا، جس نے آئندہ برصغیر میں انگریز سامراج کے دروازے کھول دیے۔ دوسری جنگ آزادی — جنگِ بکسر (1764ء) پس منظر: میر قاسم (نواب بنگال)، شجاع الدولہ (نواب اودھ) اور مغل بادشاہ شاہ عالم دوم نے انگریزوں کے خلاف اتحاد کیا۔ واقعات: بکسر کے میدان میں فیصلہ کن جنگ لڑی گئی، جس میں انگریزوں نے جدید فوجی تربیت اور اسلحے کی بدولت فتح حاصل کی۔ نتیجہ: انگریزوں کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی کے حقوق مل گئے، اور مغل بادشاہ محض علامتی حکمران رہ گیا۔ اہمیت: یہ وہ موڑ تھا جہاں سے انگریزوں کا معاشی اور سیاسی تسلط ناقابلِ واپسی ہوگیا۔ تیسری جنگ آزادی — ٹیپو سلطان کی مزاحمت (1782ء تا 1799ء) پس منظر: میسور کے سلطان ٹیپو، اپنے والد حیدر علی کی وراثت میں ملی ریاست کو انگریزوں سے بچانے کے لیے پرعزم تھے۔ واقعات: چار میسور جنگوں میں انگریزوں اور ان کے حلیفوں (مرہٹہ، حیدرآباد) کے…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • غیر درسی کتب کا مطالعہ 28.08.2026
  • ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1) 28.08.2026
  • ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات 28.08.2026
  • سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق 27.08.2026
  • قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں 27.08.2026
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی 26.08.2026
  • (بلاعنوان) 26.08.2026
  • درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی 26.08.2026

حالیہ تبصرے

  • سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہ از غیر درسی کتب کا مطالعہ: صحیح طریقہ، ترتیب اور علمی رہنمائی 10
  • مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارف از غیر درسی کتب کا مطالعہ: صحیح طریقہ، ترتیب اور علمی رہنمائی 10
  • سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق از ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)
  • مفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدمات از ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
  • تحریری صلاحیت کیسے بہتر بنائیں؟ از سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق: 10 اہم اسلامی تعلیمات

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

اسلامیات

غیر درسی کتب کا مطالعہ

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
سیرت النبی ﷺ

ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
سیرت و شخصیات

ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق
اسلامیات

قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں
Blog سیرت النبی ﷺ

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی
اسلامیات

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
اسلامیات

درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top