Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
14.10.2026
Trending News: مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدماتمولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدماتحضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیا
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
14.10.2026
Trending News: مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدماتمولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدماتحضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیا
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

  1. Home
  2. کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جون 12, 2025
  • 0 Comments

🖋 احمد نور عینی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

آج ۱۱ جون (۲۰۲۵) کو کبیر جیتنی منائی جا رہی ہے، کبیرداس پندہویں صدی کےایک انقلابی شاعر، سماجی مصلح ومفکر،اور محبت کے عظیم مبلغ گذرے ہیں، اترپردیش کی جلاہا ذات سے ان کا تعلق تھا، یہ ذات ماقبل اسلام زمانے سے ہی کپڑے بننے کا کام کرتی آرہی ہے، انھیں کوری کہا جاتا تھا، اسلام قبول کرنے کے بعد یہ جلاہا سے متعارف ہوئے، ادھر ماضی قریب میں انصاری سے موسوم ہوئے، شیخ انصاری سے امتیاز کرنے کے لیے انھیں مومن انصاری بھی کہا جاتا ہے۔

یہ ذات اسلام قبول کرنے سے پہلے ہندو سماج میں نیچ اور کمتر سمجھی جاتی تھی، اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی سماجی حیثیت میں کچھ تبدیلی تو ضرور آئی مگر یہ سچ ہے کہ انھیں برابری اور عزت وافتخار کا وہ مقام نہ مل سکا جو اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر انھیں ملنا چاہیے تھا، کبیر نے ذات پات کی تفریق کو اپنی سر کی آنکھوں سے دیکھا اور اونچ نیچ کے جذبات کو اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کیا، سماج کی طبقاتی تقسیم اور ذات پات کی لعنت نیز ہندو مسلم تصادم کا حل تلاش کرنے اور انسانیت کی بنیاد پر انسانی سماج کو ایک دیکھنے کے لیے انھوں نے کافی غور وخوض کیا، انھیں ان سارے مسائل کا حل ایک لفظ ’محبت‘ میں ملا، اور کیوں نہ ہو کہ ایک لفظ محبت کا اتنا سا فسانہ ہےسمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے کبیر نے ذات پات اور برہمنواد پر کھل کر ہلہ بولا ہے اور جم کر حملہ کیا ہے۔

برہمنیت پر وار کرتے ہوئے انھوں نے اپنے دوہوں میں برہمن لفظ کو استعمال کرنے سے کوئی گریز نہیں کیا۔انھوں نے انسانیت اور مساوات کی قدر کو بہت زیادہ اہمیت دی، ان کے دوہوں کا مطالعہ کرنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے انسانیت، مساوات اور محبت کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ مذہب کی حیثیت ثانوی ہوگئی، جب کہ سچے مذہب اور ان اقدار میں کوئی تعارض نہیں ہوتا، مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کبیر کے نزدیک مذہبی وابستگی میں تصلب ایک منفی قدر ہے، اس سے دو مذہب کے ماننے والوں کے بیچ دیوار اٹھتی ہے اور دراڑ پڑتی ہے، اسی وجہ سے کبیر وحدت دین کے بجائے وحدت ادیان پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔

کبیر کے تصور مذہب سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا، لیکن جس مقصد کے لیے انھوں نے یہ تصور اپنایا وہ مقصد یقینا بہت اہم ہے، وہ مقصد ہے انسانوں کے درمیان مساوات قائم کرنا، نفرت کی دیواریں گرانا، محبت کی شمع جلانا، ذات پات کا خاتمہ کرنا،طبقاتی نظام کو زمین بوس کرنا اور ہندو مسلم دونوں قوموں کے بیچ کی خلیج پاٹنا۔

کبیر نے پوری زندگی پریم کے دیپ جلائے، اور جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا۔ کبیر کے چراغ سے کئی چراغ جلے، سماج ان کی تعلیمات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، دیکھتے ہی دیکھتے ان کا ایک ’پنتھ‘ بن گیا۔ کبیر کی پوری تحریک برہمنواد کے خلاف تھی، برہمنواد یہ سب ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کر سکتا تھا، اس نے جب دیکھا کہ اس شخصیت کا دائرۂ اثر بڑھتا ہی جا رہا ہے اور اس کو دبانا آسان نہیں ہے تو اس نے اپنی پالیسی کے مطابق کبیر کو برہمنوادی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی، اور وہ اپنی کوشش میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوا، اس نے کبیر کو برہمنوادی مفاد میں استعمال کرنے کے لیے ایک افواہ تو یہ پھیلائی کہ کبیر خود برہمنی کے شکم سے پیدا ہوئے، اور یہ چوں کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اس لیے ان کی ماں نے بدنامی کے ڈر سے انھیں تالاب کے کنارے پھینک دیا، پھر انھیں مسلم جولاہے خاندان کے ایک جوڑےنے اٹھا کر اپنی پرورش میں لیا۔ یہ پوری کہانی گھڑی ہوئی ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور اس کہانی سے خود کبیر کی بے عزتی ہوتی ہے، برہمنواد نے یہ پوری کہانی یہ ثابت کرنے کے لیے گھڑی کہ کبیر نسلا برہمن تھے، اور کبیر کے ذریعہ جو اتنا بڑا سماجی اصلاح کا انقلاب برپا ہوا وہ ایک برہمن نے ہی برپا کیا تھا۔

برہمن کے دماغ نے زیب داستاں کے لیے جو یہ بے بنیاد حکایت گھڑی ہے اس کے جواب کے لیے وہ دوہے کافی ہیں جن میں کبیر نے اپنے کو جلاہا کہا ہے، مثلا وہ کہتے ہیں:جاتی جلاہا نام کبیرا، اجہو پتیجو ناہی(گرنتھاولی: 270)ایک دوہے میں وہ برہمن کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:تو برہمن میں کاسی کا جلاہا، چینہ نہ مور گیانا (گرنتھاولی: 250)اگر کبیر برہمن نسل کے ہوتے تو وہ یوں کہتے کہ تو اگر برہمن ہے تو میں بھی برہمن ہوں، اور کوئی عام برہمن نہیں؛ کاشی کا برہمن ہوں، بجائے اس کے وہ کہتے ہیں کہ تو اگر برہمن ہے تو میں کاشی کا جلاہا ہوں۔

کبیر کو برہمنوادی رنگ میں رنگنے اور ان کی تعلیمات کی انقلابیت پر زد لگانے کے لیے برہمنواد نے جو دوسرا کام کیا وہ یہ کہ کبیر کو برہمن گرو رامانند کا چیلا (مرید) بتایا، اور اس کے لیے بھی ایک خوبصورت حکایت گھڑی جس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور اس دعوی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ان کا یہ دوہہ پیش کیا جاتا ہے کہ ’’ کاشی میں ہم پرکٹ بھییے، رامانند چیتائے‘‘۔ یہ دوہہ بہت مشہور کیا گیا، اور اس بنیاد پر کبیر کے رامانند کے چیلا ہونے کی بات اتنی زیادہ چلائی گئی کہ وہ ایک حقیقیت کے طور پر قبول کرلی گئی، اورکبیر پر لکھنے یا بولنے والا یہ مان کر چلتا ہے کہ کبیر داس ویشنوی گرو رامانند کے چیلے تھے۔ جہاں تک اس دوہے کی بات ہے تو یہ دوہہ کبیر کی شاعری کے مستند مراجع میں نہیں ملتا ہے، کبیر کے دوہوں کے دو ہی مستند مراجع ہیں: ایک گرو گرنتھ صاحب، دوسرے کبیر گرنتھاولی۔ رامانند والا دوہہ ان دونوں میں نہیں ملتا۔ اور جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ کبیر نے رامانند سے رام نام لیا تھا، تو اس کے لیے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیاکبیر کی ملاقات رامانند سے ہوئی بھی ہے یا نہیں، ملاقات کے ثبوت پر کوئی دلیل نہیں ملتی، اگر معاصرت کو ملاقات کے امکان کے لیے کافی مان لیں تو بھی یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ رامانند کی حیات میں کبیر اس عمر کو پہنچ گئے تھے جس عمر میں نِرگرو ہونے (بے پیری کے رہنے) کا احساس انسان کو بے چین رکھتا ہے اور سچے گرو کی تلاش میں وہ سرگرداں رہتا ہے۔

رامانند کے سن وفات اور کبیر داس کے سن پیدائش دونوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، پھر بھی اگر ہم رامانند کی وفات کو کھینچ تان کر ۱۴۶۷ء تک لے کر جائیں اور کبیر داس کی پیدائش کو کھینچ تان کر ۱۴۵۶ء تک لے کر آئیں تو بھی رامانند کے انتقال کے وقت کبیر داس کی عمر ۱۱؍ سال کی ہوتی ہے، اور پیری والی داستان اس عمر کو زیب نہیں دیتی۔ اور اگر ہم رامانند کی وفات کے تعلق سے دوسرے اقوال لے لیں تو ان کی وفات کبیر کی پیدائش سے قبل ہی ہو جاتی ہے۔تاریخی پہلو کے علاوہ اگر ہم نظریاتی وفکری پہلو سے غور کریں تو دونوں کے راستے واضح طور پر جدا نظر آتے ہیں، بنیادی بات یہ ہے کہ رامانند ورن آشرم دھرم کو سماجی نظام میں اساسی حیثیت دیتے ہیں، جب کہ کبیر داس اس نظام کی جڑیں کھودتے ہیں، اسی طرح رامانند مورتی پوجا کا عقیدہ رکھتے ہیں ، اوتار واد کو تسلیم کرتے ہیں، وید کو مقدس مانتے ہیں، ویدک دھرم کے پر جو ش مبلغ ہیں، ذات واجب الوجود ہستی کو سگن اورساکار مانتے ہیں، جب کہ کبیر مورتی پوجا کا کھنڈن کرتے ہیں، اوتار واد کا انکار کرتے ہیں، وید پر سخت تنقید کرتے ہیں، ویدک دھرم کے سخت مخالف وناقد ہیں، خدا کو نراکار مانتے ہیں۔ ہاں رام کا ذکر کبیر کے یہاں ملتا ہے، جس سے ان کا رشتہ رامانند سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس طور پر کہ رامانند ویشنوی فرقوں میں اس فرقہ کے گرو مانے جاتے ہیں جو رام کی محبت، عقیدت اور عبادت پر زیادہ زور دیتا ہے، مگر غور کرنے پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کبیر کے رام اور رامانند کے رام میں فرق ہے، کبیر کا رام نرگن نراکار ہستی ہے، جب کہ رامانند کا رام سگن برہم وشنو دیوتا کا اوتار ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسا چیلا ہے جو اپنے گرو کے راستے کو نہ اپنا سکا اور یہ کیسا گرو ہے جو اپنے چیلے کو اپنے راستے پر نہ لگا سکا۔ یہاں اس بات کا ذکر بے فائدہ نہ ہوگا کہ کبیر کو رامانند کا چیلا بتانے سے برہمنواد کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بھکتی تحریک کا بہ آسانی برہمنی کرن کر دیا گیا۔ بھکتی تحریک ذات پات اور انسانی عدم مساوات کے خلاف شروع ہوئی تھی، وہ صوفی تحریک سے واضح طور پر متاثر تھی، اور صوفی تحریک اسلامی تعلیمات کا نتیجہ تھی، یعنی بھکتی تحریک اس ملک میں اسلام کی آمد سے پیدا ہونی والی ایک مثبت تبدیلی تھی، یہ اگر کامیاب ہوجاتی تو صوفی تحریک کی لگائی کھیتی لہلہا اٹھتی اور برہمنواد کا نشیمن بلکہ سارا گلشن خاکستر ہوجاتا، اس لیے اس کو بے اثر کیے بغیر برہمنواد چین کی نیند نہیں سو سکتا تھا، بے اثر کرنے کے لیے اس نے جو حربہ اپنایا وہ یہ کہ اس نے بھکتی تحریک کے سنتوں کو برہمن گرووں کا مرید بنا دیا، اور ان کے فرمودات میں برہمنی دیوی دیوتا اور سناتنی معتقدات گھسا دیے، یوں جس تحریک کے سہارے شودر اور اتی شودر سماج سے آنے والے سَنتوں نے دبے کچلے مولنواسی سماج کو برہمنواد سے آزادی کے لیے بیدار کیا اس تحریک کو برہمنواد نے سنتوں کے برہمن کرن کے ذریعہ اپنی گود میں تھپکی دے کر سلا دیا۔خزینۃ الاصفیاء میں کبیر کے بارے میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ وہ شیخ علی متقی کے مرید تھے، (دیکھیے محولہ کتاب: ۱/۴۴۶)۔

یہ بات مشہور تو ہے مگر اس کی استنادی حیثیت کیا ہے اس بابت قبل از تحقیق کچھ کہا نہیں جا سکتا۔کبیر کے مسلم سماج سے ہونے بلکہ موحد ہونے میں کوئی شک نہیں، البتہ یہ بات محتاج تحقیق ہے کہ کیا ان کا عقیدۂ توحید عین اسلامی عقیدۂ توحید ہی تھا یا اس سے کچھ مختلف تھا، اسی طرح کیا کبیر دیگر اسلامی عقائد کو بھی اسی طرح مانتے تھے جس طرح انھیں ماننے کا حکم ہے یا ان کی ایمانیات کچھ الگ تھیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ کبیر کو ملحد یا گمراہ مان لیا جائے، وہ چوں کہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اس لیے جب تک ان کے مسلمان نہ ہونے کی یا غیر اسلامی عقائد کے حامل ہونے کی کوئی تحقیق کے ساتھ ثابت نہیں ہوجاتی تب تک ان کی تکفیر یا تضلیل سے احتراز کیا جانا چاہیے۔ ہاں ان کی طرف جو کلام منسوب ہے اس میں اگر کوئی بات خلاف اسلام ملتی ہے تو اس بات پر نکیر ضرور کی جانی چاہیے۔کبیر داس کی زندگی اترپردیش کے کاشی (بنارس) اور مگہر میں گذری، ان کا مزار مگہر (ضلع سنت کبیر نگر) میں آمی ندی کے کنارے واقع ہے، مزار کے بازو میں ہی ان کی سمادھی بھی بنی ہوئی ہے۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

امارت شرعیہ کی مجلس ارباب حل وعقد نے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی امارت اور قیادت میں شرعی زندگی گذارنے کا عہد پیمان کیا.
قربانی، ماحول اور مسلمان: عبادت سے ذمہ داری تک مولانا مفتی محمد اعظم ندوی

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
  • 0 Comments
قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

 قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت از : مولانا محمد علاء الدین صاحب ندوی استاد: دار العلوم ندوہ العلماء لکھنؤ عربیِ مبین میں اترنے والے قرآنِ کریم کے مراد و منشا اور اس کے دقیق معانی کو سمجھنے کے لیے اسی دور کی ٹکسالی، خالص اور معیار آفریں زبان کے علمبرداروں کو مشعلِ راہ بنانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں امرؤ القیس، نابغہ ذبیانی، زہیر، طرفہ، لبید اور عنترہ جیسے نامور شعراء، اور قیس بن ساعدۃ الایادی، اکثم بن صیفی اور ذوالاصبع العدوانی جیسے صاحبِ طلاقت خطباء و حکماء کی زبان مطلوب و درکار ہے، جن کا کلام اور لغت عجمی اثرات اور بیرونی آمیزشوں سے بالکل پاک رہی ہے۔ حد یہ کہ عدی بن زید العبادی، ابو دؤاد الایادی اور امیہ بن ابی الصلت جیسے زمانہ جاہلیت کے اعلیٰ طبقے کے شعراء کو بھی تنقیدی چھان بین کے بعد مستثنیٰ یا الگ کر دیا جائے گا؛ کیونکہ ان کی زبانیں عجمیت کے ہلکے اثرات سے متاثر ہو جانے کے باعث اہل علم اور اصحابِ نقد و نظر کی نگاہ میں اس قابل نہیں رہیں کہ قرآنی تعبیرات اور لغوی مباحث میں ان کے کلام کو حتمی سند یا حجت بنایا جا سکے۔ اب تو المعلقات، المفضلیات، الاصمعیات، اصحاب المجمہرات، المنتقیات، اصحاب المذہبات، اصحاب المشوبات، اصحاب الملحمات، اصحاب المراثی، الگ الگ شعراء کے دواوین، دیوان الحماسہ، شعر النقائض، طبقات الشعراء، الشعر والشعراء، البيان والتبيين، العقد الفريد، الكامل اور الأمالي جیسے معتبر مجموعہ ہائے اشعار، دواوین اور امہات الکتب ہی اس میدان میں لغوی و ادبی مرجع تسلیم کیے جائیں گے۔ پھر اس کے بعد مفرداتِ قرآنی پر تصنیف کردہ فنّی کتب کی طرف رجوع کیا جائے گا؛ کیونکہ تفسیرِ قرآن کا اولین اور بنیادی مرحلہ مفردات اور الفاظ کے جوہر پر غور و خوض کرنا ہے۔ تاہم، اس معاملے میں محض عام لغت کی قوامیس اور ڈکشنریوں پر تکیہ کر لینا کافی نہ ہوگا، بلکہ تدریجی اور تاریخی اعتبار سے الفاظ کے معانی میں جو تغیرات و ارتقاء ہوئے ہیں ان پر گہری نظر رکھنی ہوگی۔ نیز جو معنی نزولِ قرآن…

Read more

Continue reading
مریضوں پر بڑھتا بوجھ
  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
  • 0 Comments
مریضوں پر بڑھتا بوجھ

*مریضوں پر بڑھتا بوجھ* مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ ان دنوں مریض ہو کر اگر آپ پرائیوٹ ہوسپٹل کا رخ کرتے ہیں تو مریض کے شفایاب ہونے کی یقین دہانی تو کوئی نہیں کر سکتا لیکن مال و دولت زمین جائیداد اور کبھی کبھی گھر تک بک جانے کی بات یقین کے درجے کی چیز ہے، پرائیوٹ اسپتال اگر مشہور برانڈ کا ہے تو روپے کا بورا کھول کر رکھ دیجیے اور وہ اس سے حسب مرضی نکالتا رہے گا اور جب بورا خالی ہو جائے گا اور ہوسپٹل والا محسوس کرلے گا کہ اب ہمارے اسپتال سے علاج کی قوت خرید مریض یا اس کے وارثوں کے پاس نہیں ہے تو وہ ہاتھ کھینچ لے گا، کبھی مریض کا تیمار دار بھی اس مرحلہ سے قبل ہوش میں آجاتا ہے اور وہ خود ہی مریض کو دوسری جگہ منتقل کر دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو اب وینٹی لیٹر پر تیمار دار کے جانے کی باری ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ضروری اور غیر ضروری جانچ کے اخراجات ، دواؤں کی خریداری ، سرنج ، آئی وی سیٹ، آکسیجن، دستانے ، ماسک، پیشاب کے لیے بیگ اور دیگر ضروری آلات دواد و کان والے خرید ریٹ سے کئی گنا زیادہ قیمت پر فراہم کرتے ہیں، انہیں ڈاکٹروں کو کمیشن بھی دینا ہوتا ہے، اس صورت حال کو سامنے رکھ کر دواؤں پر درج (MRP) مارکیٹ ریٹ پرائز بہت بڑھا کر درج کیا جاتا ہے، بعض دکاندار پندرہ یا بیس فی صد خریدار کو رعایت بھی دیتے ہیں لیکن اس سے کوئی بڑا فرق قیمت پر نہیں پڑتا اور گرانی پھر بھی باقی رہتی ہے، بعض دواؤں اور علاج میں استعمال ہونے والے سامانوں میں خرید قیمت سے پندرہ سے انتیس گنا زیادہ ایم آر پی درج ہوتا ہے، ایسے میں اس کا سیدھا اثر مریضوں پر پڑتا ہے، آپ اسے چند مثالوں سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں، کینولا کی خرید قیمت صرف 7.60 روپے ہے، لیکن اس…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات 14.10.2026
  • مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات 13.10.2026
  • حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش 11.10.2026
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 08.10.2026
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی 08.10.2026
  • دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ 08.10.2026
  • قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت 07.10.2026
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف 07.10.2026

حالیہ تبصرے

  • مولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ از مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات 1
  • مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات از مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات 1
  • مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند از مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات 1
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت از حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از سعیدی اسلوب: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی زبان و ادب کی خصوصیات 1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

سیرت و شخصیات

مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات

  • hira-online.com
  • اکتوبر 14, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات

  • hira-online.com
  • اکتوبر 13, 2026
مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات
سیرت و شخصیات

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

  • hira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
سیرت و شخصیات

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
Blog

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سیرت و شخصیات

دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
مضامین و مقالات

قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top