Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

عالم اسلام: ایک جائزہ

  1. Home
  2. عالم اسلام: ایک جائزہ

عالم اسلام: ایک جائزہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جنوری 8, 2026
  • 0 Comments

نام کتاب: عالم اسلام —ایک جائزہ
تالیف: ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی
رفیق المعہد الاسلامی مانک مئو، مدير التحرير عربی مجلہ”المظاهر” مظاہر علوم سہارنپور
صفحات: 408
سنہ اشاعت:2025
ناشر: صفہ اکیڈمی مانک مئو، سہارنپور
تعارف و تبصرہ: اشتیاق ظہیر ندوی
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

ابتدائے آفرینش ہی سے حق و باطل کے درمیان معرکہ برپا رہا ہے۔ توحید و شرک کی یہ ازلی کشمکش صدیوں پر محیط ہے؛ مگر تاریخ کی سب سے روشن اور ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ شیطانی طاقتوں، طاغوتی قوتوں اور ابلیسی سازشوں کی یلغاروں کے باوجود حق کا سورج کبھی غروب نہ ہو سکا۔ باطل کی ہزارہا تدبیروں کے علی الرغم، حق کی سربلندی ہر دور میں قائم رہی۔ فاران کی چوٹی سے جب اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو اس کی کرنیں محض مکہ و مدینہ تک محدود نہ رہیں؛ بلکہ سازشوں، مخالفتوں اور کفار، یہود و مشرکین و منافقین کی دشمنیوں سے ٹکراتی ہوئی چند ہی برسوں میں دنیا کے گوشے گوشے تک پھیل گئیں۔ تاریخ نے دیکھا کہ ایک مٹھی بھر؛ مگر جذبۂ ایمانی سے سرشار جماعت نے قیصرِ روم کو سرنگوں کیا، کسریٰ کے ایوانوں میں حق کا پرچم لہرایا، اور عرب کے تپتے صحراؤں سے اٹھنے والی یہ صدا افریقہ و یورپ تک اس شان سے پہنچی کہ دنیا ششدر رہ گئی اور باطل لرزہ براندام ہو گیا۔

چنانچہ اس آفاقی و عالمگیر انقلاب کے نتیجے میں اسلامی سلطنت ایک وسیع و عریض رقبے پر قائم ہوئی۔ ریاست مدینہ کے قیام اور خلافتِ راشدہ سے لے کر اموی، عباسی اور فاطمی ادوار سے گزرتے ہوئے یہ سلسلہ خلافتِ عثمانیہ کے عظیم الشان عہد پر جا کر ٹھہرا۔ اگرچہ اس دوران امت کو اپنی ہی ناعاقبت اندیشیوں، اقربا پروری، داخلی و اندرونی خلفشار اور سیاسی خود غرضیوں کے سبب دل خراش سانحات سے بھی گزرنا پڑا، تاتاری یلغاریں اور صلیبی جنگیں مسلمانوں کو مٹانے کے درپے رہیں، مگر اس مدوجزر کے باوجود اسلام کا قافلہ رواں دواں رہا۔ یہاں تک کہ ظلم و بربریت، جبر اور سفاکی کے علم بردار گروہ بھی رفتہ رفتہ حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے اور اسی سایۂ رحمت میں آ کر کعبہ کے پاسبان کہلائے؎
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

لیکن جب دنیا نے خلافتِ عثمانیہ کے زیرِ سایہ عدل و انصاف، امن و امان، انسانی تحفظ، ہمدردی، نظم و نسق اور مثالی حکمرانی کا درخشاں منظر دیکھا تو باطل نے ایک بار پھر سازشوں کے جال بُننے شروع کر دیے۔ اس عظیم خلافت کو کمزور کرنے اور توڑنے کے لیے ہر ممکن تدابیر آزمائیں، تاآنکہ مصطفیٰ کمال اتاترک کے ہاتھوں خلافت کی قبا چاک کر دی گئی اور ایک سیکولر و لادینی نظام مسلط ہوا۔ خلافتِ عثمانیہ کا زوال ملتِ اسلامیہ کے لیے ایسا عظیم سانحہ ثابت ہوا جس کے زخم آج بھی ہرے ہیں۔ بجا طور پر حضرت سید ابو الحسن علی ندویؒ نے فرمایا تھا کہ "نہیں معلوم کہ امتِ مسلمہ کب تک اس کے نقصانات برداشت کرتی رہے گی۔”

اکیسویں صدی کی مسلم دنیا تاریخ کے ایک ایسے نازک اور کرب ناک موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کی تہذیب، تمدن، شناخت اور بقا سب سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ ایک طرف خلافتِ عثمانیہ کے انہدام سے شروع ہونے والا زوال ہے جس نے امت کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا، اور دوسری طرف نوآبادیاتی قوتوں، عالمی طاقتوں اور مقامی حکمران اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے مسلم معاشرروں کو سیاسی، فکری اور اخلاقی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ مسلم حکومتوں کا تختہ الٹا گیا، سازشوں کے بازار گرم کیے گئے، دوغلی پالیسیاں تشکیل دی گئیں، وسائل لوٹے گئے اور نظریاتی تشخص کو مسخ کر کے امت کو دفاعی اور معذرت خواہانہ ذہنیت میں دھکیل دیا گیا۔

ترکی سے فلسطین، شام و عراق سے افغانستان ، لیبیا و صومالیہ اور یمن تک عالم اسلام پر ظلم و بربریت کے ایسے پہاڑ توڑے گئے ہیں جن کی مثال جدید تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ، فوجی جارحیت، معصوم بچوں کا قتل، عورتوں کی بے حرمتی، عبادت گاہوں کی پامالی اور بیت المقدس کی بے توقیری محض ایک خطے کا المیہ نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ضمیر پر ثبت ایک گہرا زخم ہے۔ یہ اس کی اجتماعی بے حسی اور سیاسی بے بسی کا کھلا اعلان ہے۔ آج عالمِ اسلام محض عسکری یا سیاسی کمزوری کا ہی شکار نہیں، بلکہ فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور قیادت کے شدید بحران میں بھی گرفتار ہے۔ اس کے اعلی دماغ مفکرین پابند سلاسل اور غیور صحافی زیر زمین مدفون ہیں ۔

ان ناگفتہ بہ حالات میں، جب کہیں سے کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھتی، عرب دنیا عملی اقدام سے غافل اور عالمِ اسلام جمود و تعطل کا شکار ہو چکا ہے، اور مسلم اقلیتیں دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے بنیادی حقوق کے لیے برسرِ پیکار ہیں—ایسی لرزہ زار صورت حال میں استادِ محترم ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی کی تصنیف "عالمِ اسلام: ایک جائزہ” محض ایک کتاب نہیں؛ بلکہ ایک فکری و تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تصنیف عالمِ اسلام میں بگڑتی ہوئی صورتِ حال، پے بپے امت کے زخموں اور باطل طاقتوں، ابلیس کے چیلوں ، شیطان کے چمچوں اور فسطائیت کی مسلسل یلغار پر صرف نوحہ خوانی نہیں کرتی ہے؛ بلکہ ان کے اسباب و علل، تاریخی پس منظر اور تہذیبی محرکات کو پوری وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتی ہے۔ عالم اسلام جو امت اسلامیہ کا دل ہے کی پژمردگی کو واضح کرتی ہے ۔

فاضل مصنف واضح کرتے ہیں کہ فلسطین، مصر و شام، لیبیا، عراق اور یمن سے لے کر ہندوستان، برما و میانمار اور فلپائن تک پھیلے ہوئے المیے کسی ناگہانی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل اور مسلسل تاریخی عمل کی پیداوار ہیں، جس کی جڑیں خلافت کے خاتمے، استعمار کے غلبے، سامراجیت کے عروج اور مسلم قیادت کی فکری، سیاسی اور عسکری پسپائی میں پیوست ہیں۔

فاضل مصنف ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ممتاز اور قابلِ فخر سپوتوں میں سے ایک ہیں۔ آپ نے اپنے والدِ گرامی، استادِ محترم، معمارِ نسلِ نو مولانا ناظم ندوی حفظہ اللہ کی زیرِ نگرانی تربیت پائی۔ ندوۃ العلماء کے بعد اپنی علمی و ادبی تشنگی بجھانے کے لیے مصر کی جامعۃ الازہر اور قاہرہ یونیورسٹی سے کسبِ فیض کیا، اور خداداد صلاحیت، اخّاذ ذہن اور جہدِ پیہم کے ذریعے ’’پدر مثل پسر‘‘ ہونے کی راہ پر گامزن ہیں۔ عربی، اردو اور انگریزی—تینوں زبانوں پر یکساں قدرت آپ کی علمی انفرادیت کی روشن علامت ہے۔ آپ نے دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر ولی اختر ندوی کی زیرِ نگرانی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے باوجود آپ مظاہرِ علوم سہارنپور کے عربی مجلہ ’’المظاهر‘‘ کی ادارت اور ماہنامہ ’’حِرا کا پیغام‘‘ (المعہد الاسلامی، مانک مئو) کی نگرانی کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔

فیاضِ قدرت نے آپ کو غیر معمولی ذہانت اور فطانت سے نوازا ہے، جس کی جھلک کتاب کے ہر ہر ورق پر نمایاں ہے۔ علمی عظمت و فکری بلندی کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت کا ایک اور درخشاں پہلو آپ کا تواضع، سادگی اور شرافتِ نفس ہے۔ بلند علمی مقام کے باوجود انکساری آپ کا زیور، گفتگو میں شائستگی، رویّے میں وقار اور مزاج میں خلوص آپ کی پہچان ہے۔

کتاب پر مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی حفظہ اللہ کا وقیع اور بصیرت افروز مقدمہ ہے، جو نہ صرف موضوع کی اہمیت و معنویت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے بلکہ مصنف کی فکری اٹھان اور علمی وقار کا بھی اعتراف ہے۔ اپنے مقدمے میں وہ کتاب کے فکری دائرے اور اس کی افادیت کو بڑی شرح و وضاحت کے ساتھ نمایاں کرتے ہیں۔
کتاب کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا ناظم ندوی حفظہ اللہ رقم طراز ہیں:
“کتاب کا خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں یاسیت و قنوطیت نہیں ہے، بلکہ امتِ مسلمہ کی خصوصیت و امتیاز کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ امت بڑے بڑے نازک مرحلوں سے دوچار ہوئی ہے۔ بے شمار عسکری و فکری یلغاروں نے اسے نیم جان کر دیا، لیکن یہ ہمیشہ میدان میں رہی۔ اگر کہیں اس کا سورج غروب ہوا تو دوسری جانب پوری ضوفشانی و تابانی کے ساتھ طلوع ہوا؛ کیونکہ یہ ایک عالمی دین اور آفاقی امت ہے۔ اس کے قیام و بقا سے دنیا کا وجود وابستہ ہے۔ اگر یہ باقی نہیں رہے گی تو دنیا بھی باقی نہیں رہے گی۔ آج بھی عالمِ اسلام کے حالات خواہ کتنے ہی نازک کیوں نہ ہوں، اور دنیا کی تمام قومیں اس کے خلاف برسرِ پیکار ہی کیوں نہ ہوں، یہ امت آگے بڑھے گی اور اپنے تمدن و ثقافت اور اپنے عقائد و افکار کے ساتھ سرخرو ہوگی۔” (ص 29–30)

مصنف محض واقعات پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ تجزیہ و تحلیل کے فن سے بھی پوری طرح آشنا ہیں، اور عربی مصادر تک براہِ راست رسائی کتاب کے تحقیقی معیار کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ بقول مولانا نذر الحفیظ ندوی:
"عالمِ اسلام: ایک جائزہ ایک دستاویزی کتاب ہے، جسے ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے تیار کیا ہے۔ یہ قیمتی معلومات کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے، بلکہ پی۔ایچ۔ڈی کے درجے کی مستحق ہے” (ص ۱۹)

یہ تینوں تحریریں دراصل کتاب کے فکری مزاج اور اس کی سمت متعین کر دیتے ہیں، جس کے بعد مصنف کا اپنا تجزیاتی بیانیہ سامنے آتا ہے۔

ساخت اور ترتیب کے اعتبار سے اس کتاب کو چند بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ عالمِ اسلام کے مفہوم، اس کی جغرافیائی ہیئت اور اس کے تاریخی و تہذیبی مراکز پر مشتمل ہے، جس میں مسلم ممالک کی تفصیل، اقلیت و اکثریت کا فرق، آبادی کے اعداد و شمار اور عالمِ اسلام کے وسیع قدرتی و معاشی ذخائر کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتے ہیں کہ دنیا کی بڑی تجارتی گزرگاہیں، اہم سمندری راستے اور توانائی کے بڑے ذخائر—بالخصوص پٹرولیم کے تقریباً ستر فیصد وسائل—عالمِ اسلام کے خطوں میں واقع ہیں، جو اس کی عالمی اہمیت کو دوچند کر دیتے ہیں۔

دوسرا حصہ ملکِ شام کی تاریخ سے متعلق ہے، جہاں ماضی و حال کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ نبوی ارشادات کی روشنی میں اس خطے کی دینی و تہذیبی حیثیت واضح کی گئی ہے، فلسطین پر یہودی قبضے اور اس سرزمینِ عزیمت کی موجودہ صورتِ حال پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔

فاضل مصنف کا کمال یہ ہے کہ وہ محض حالات کا بیان نہیں کرتے بلکہ ان کا فکری تجزیہ پیش کرتے ہیں، زاویۂ نظر تشکیل دیتے ہیں، اسباب و علل پر روشنی ڈالتے ہیں اور وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ قاری کے شعور کو اپیل کرتے ہیں اور بحیثیتِ فردِ امت اس کے لیے تڑپتے ہیں۔ کتاب اٹھائیے اور پڑھتے چلے جائیے، آپ اس بات کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مصنف کے افکار و خیالات پر تعصب کی کوئی چھاپ نہیں۔ جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں، اسے بے کم و کاست بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔

خلافتِ عثمانیہ کے سقوط و زوال کے بعد استعماری اور سامراجی قوتوں نے عالمِ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے اور اسلامی علوم و فنون سے امتِ مسلمہ کا رشتہ توڑنے کے لیے شدید فکری و نظریاتی حملے کیے۔ مغربی تہذیب و ثقافت کو اسلامی تہذیب پر فوقیت دلانے کے لیے “تہذیبی احیا” کے نام پر گمراہ کن مہمات چلائی گئیں۔ دین و مذہب کے نام پر مضر لٹریچر کی اشاعت، قادیانیت کی تبلیغ، بابیت کا ظہور، اور مستشرقین کا متعصبانہ و معاندانہ رویہ اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ اسی طرح صہیونی تحریک، صلیبی جنگیں اور اسلام دشمن عناصر کی سازشی تنظیمیں بھی اس فکری یلغار کا حصہ تھیں۔ صہیونیت—جو عالمی یہودیت کی ترجمان ہے—کے ابھرنے کے اسباب، اس کی حکمتِ عملی اور صلیبی جنگوں کا پس منظر بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

اس کے بعد کتاب میں عالمِ اسلام پر سامراجی اثرات، ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی و تہذیبی تبدیلیاں، اور ان چیلنجوں کے مقابلے میں ابھرنے والی اسلامی بیداری کی تحریکات و جماعتوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ "اسلامی بیداری سے مراد عموماً وہ اسلامی تحریکیں لی جاتی ہیں جو تیرہویں صدی ہجری مطابق انیسویں صدی عیسوی میں اسلامی ممالک میں ظاہر ہوئیں، اور جنہوں نے اسلام کے مخالف تمام عادات و اطوار اور رسوم و رواج کی شدت سے مخالفت کی، اور اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت کی بھرپور کوشش کی، تاکہ مسلمان اس دین پر عمل کرنے لگیں جس پر صحابۂ کرامؓ اور خود نبی کریم ﷺ عمل پیرا تھے، اور بدعات و خرافات اور گمراہیوں کو ترک کرکے سلف صالحین سے منقول صحیح دین اور صحیح مذہب کی جانب رجوع کریں۔ اسی سلسلے میں حجاز کے شہر نجد میں شیخ محمد بن عبد الوہاب کی سلفی تحریک، لیبیا کے شہر برقہ میں سنوسی دعوت، سوڈان میں مہدی تحریک اور مصر میں اخوان المسلمون کی تحریک کا ظہور ہوا۔” (ص 178)

اسلامی بیداری کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کے قلب میں واقع عظیم علمی اداروں—جامعۃ الازہر، جامع زیتونہ اور جامعہ قرویین—کا تذکرہ بھی ہے۔ اسی طرح او آئی سی، رابطۂ عالمِ اسلامی، عالم اتحاد برائے علمائے اہلِ اسلام اور ان کی ذیلی تحریکات کے مقاصد، اہداف اور سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

کتاب کا ایک بڑا حصہ دنیا کے مختلف براعظموں میں پھیلی ہوئی مسلم اقلیتوں کی تاریخ، ثقافت اور درپیش مسائل پر مشتمل ہے۔ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم، ان کے اسباب و علل اور جبر کے محرکات کو بے نقاب کیا گیا ہے، اور ان سے نبرد آزما ہونے کی فکری و عملی تدابیر بھی بیان کی گئی ہیں۔ مصنف برما کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت پر افسوس کرتے ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لائحۂ عمل پیش کرتے ہیں، ناروے کے واقعے کا ذکر کرتے ہیں اور فلپائن میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

کتاب کا آخری حصہ مسئلۂ فلسطین سے متعلق ہے، جو اس پورے قضیے کو شرح و بسط کے ساتھ سمجھنے میں معاون ہے۔ یہودیوں کی حکمتِ عملی، سوئٹزرلینڈ میں ہرٹزل کی سرگرمیاں، سلطان عبد الحمید ثانیؒ کا تاریخی موقف، صہیونی منصوبہ بندی، امت کی کمزوریاں، فلسطین فروشی، ارضِ فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام تک کا دردناک سفر پوری تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

آخر میں مصنف مسائل کے حل کی طرف آتے ہیں اور کچھ اصول و طریقے پیش کرتے ہیں جن پر عمل کر کے امتِ مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار واپس حاصل کر سکتی ہے۔ امت کی اصل کمزوری نہ وسائل کی کمی ہے اور نہ افرادی قلت، بلکہ فکری انتشار، اعتقادی کمزوری اور روحانی زوال ہے؛ اور جب تک ان بنیادوں کی اصلاح نہ کی جائے، کوئی سیاسی یا عسکری تدبیر دیرپا ثمرات پیدا نہیں کر سکتی۔ آپ لکھتے ہیں کہ "لہٰذا شدید ضرورت ہے کہ امتِ مسلمہ صحیح اسلامی عقیدے کی پابند ہو، باہمی اتحاد و اتفاق اور اسلامی وحدت کا نمونہ بنے۔ اسی نسخے سے اس امت کی شوکت و عظمت رفتہ کی بحالی ہو سکتی ہے۔ یہی ایسا معنوی ہتھیار ہے جو تمام مادی اسلحہ اور وسائل سے زیادہ طاقتور ہے، امت کے قائدی و رہنما علمائے اسلام، داعیان کرام اور ملت کے روشن مستقبل اور ملی شناخت کی فکر رکھنے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امت کے نوجوانوں کے دلوں میں از سرِ نو ایمان و اسلام کی شجرکاری کریں، ان کے دینی جذبات کو بیدار کریں، اسلامی میراث اور سلف صالحین سے ان کو مربوط کرنے کی سعی کریں، اسلام کی صحیح اقدار و قیم، تعلمیات واحکام اور صحیح فہم سے ان کو روشناس کرائیں، اور ان کے اندر یہ اعتماد پیدا کریں کہ دنیوی و اخروی سعادت و فلاح اور کامیابی و کامرانی کا یہی ایک راستہ ہے اور اسلام ہی پر عمل پیرا ہوکر سلف صالحین کی طرح وہ انسانیت کی رہبری اور و قیادت کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں ” (ص 394)

بحثیتِ مجموعی 408 صفحات پر مشتمل یہ کتاب اس لائق ہے کہ سطر بہ سطر پڑھی جائے۔ امت کا ایک بڑا طبقہ ان مسائل سے ناواقف ہی نہیں بلکہ اجتماعی بے حسی کا شکار بھی ہے؛ ان کے لیے یہ کتاب فہمِ مسائل کی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ کتاب بہت پہلے آنے والی تھی۔ راقمِ سطور کو یاد ہے کہ استادِ محترم سے ملاقات کے وقت اس کا تذکرہ کیا جاتا تھا؛ بہرحال دیر آید درست آید کی مصداق، اب یہ کتاب سامنے ہے۔ سرورق کو مزید خوب صورت بنایا جا سکتا ہے، اور ابواب و فصول کی منظم تقسیم قاری کے لیے تفہیم میں معاون ہو سکتی ہے۔

ہم ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی حفظہ اللہ کو اس فکری اور بصیرت افروز تصنیف پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ آئندہ بھی اس نوع کی مزید علمی و فکری کتابیں منظرِ عام پر آئیں گی، ان شاء اللہ۔

عالم اسلامنام کتاب: عالم اسلام

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ندوه اور علم كلام
عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
  • 0 Comments
قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

 قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت از : مولانا محمد علاء الدین صاحب ندوی استاد: دار العلوم ندوہ العلماء لکھنؤ عربیِ مبین میں اترنے والے قرآنِ کریم کے مراد و منشا اور اس کے دقیق معانی کو سمجھنے کے لیے اسی دور کی ٹکسالی، خالص اور معیار آفریں زبان کے علمبرداروں کو مشعلِ راہ بنانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں امرؤ القیس، نابغہ ذبیانی، زہیر، طرفہ، لبید اور عنترہ جیسے نامور شعراء، اور قیس بن ساعدۃ الایادی، اکثم بن صیفی اور ذوالاصبع العدوانی جیسے صاحبِ طلاقت خطباء و حکماء کی زبان مطلوب و درکار ہے، جن کا کلام اور لغت عجمی اثرات اور بیرونی آمیزشوں سے بالکل پاک رہی ہے۔ حد یہ کہ عدی بن زید العبادی، ابو دؤاد الایادی اور امیہ بن ابی الصلت جیسے زمانہ جاہلیت کے اعلیٰ طبقے کے شعراء کو بھی تنقیدی چھان بین کے بعد مستثنیٰ یا الگ کر دیا جائے گا؛ کیونکہ ان کی زبانیں عجمیت کے ہلکے اثرات سے متاثر ہو جانے کے باعث اہل علم اور اصحابِ نقد و نظر کی نگاہ میں اس قابل نہیں رہیں کہ قرآنی تعبیرات اور لغوی مباحث میں ان کے کلام کو حتمی سند یا حجت بنایا جا سکے۔ اب تو المعلقات، المفضلیات، الاصمعیات، اصحاب المجمہرات، المنتقیات، اصحاب المذہبات، اصحاب المشوبات، اصحاب الملحمات، اصحاب المراثی، الگ الگ شعراء کے دواوین، دیوان الحماسہ، شعر النقائض، طبقات الشعراء، الشعر والشعراء، البيان والتبيين، العقد الفريد، الكامل اور الأمالي جیسے معتبر مجموعہ ہائے اشعار، دواوین اور امہات الکتب ہی اس میدان میں لغوی و ادبی مرجع تسلیم کیے جائیں گے۔ پھر اس کے بعد مفرداتِ قرآنی پر تصنیف کردہ فنّی کتب کی طرف رجوع کیا جائے گا؛ کیونکہ تفسیرِ قرآن کا اولین اور بنیادی مرحلہ مفردات اور الفاظ کے جوہر پر غور و خوض کرنا ہے۔ تاہم، اس معاملے میں محض عام لغت کی قوامیس اور ڈکشنریوں پر تکیہ کر لینا کافی نہ ہوگا، بلکہ تدریجی اور تاریخی اعتبار سے الفاظ کے معانی میں جو تغیرات و ارتقاء ہوئے ہیں ان پر گہری نظر رکھنی ہوگی۔ نیز جو معنی نزولِ قرآن…

Read more

Continue reading
مریضوں پر بڑھتا بوجھ
  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
  • 0 Comments
مریضوں پر بڑھتا بوجھ

*مریضوں پر بڑھتا بوجھ* مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ ان دنوں مریض ہو کر اگر آپ پرائیوٹ ہوسپٹل کا رخ کرتے ہیں تو مریض کے شفایاب ہونے کی یقین دہانی تو کوئی نہیں کر سکتا لیکن مال و دولت زمین جائیداد اور کبھی کبھی گھر تک بک جانے کی بات یقین کے درجے کی چیز ہے، پرائیوٹ اسپتال اگر مشہور برانڈ کا ہے تو روپے کا بورا کھول کر رکھ دیجیے اور وہ اس سے حسب مرضی نکالتا رہے گا اور جب بورا خالی ہو جائے گا اور ہوسپٹل والا محسوس کرلے گا کہ اب ہمارے اسپتال سے علاج کی قوت خرید مریض یا اس کے وارثوں کے پاس نہیں ہے تو وہ ہاتھ کھینچ لے گا، کبھی مریض کا تیمار دار بھی اس مرحلہ سے قبل ہوش میں آجاتا ہے اور وہ خود ہی مریض کو دوسری جگہ منتقل کر دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو اب وینٹی لیٹر پر تیمار دار کے جانے کی باری ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ضروری اور غیر ضروری جانچ کے اخراجات ، دواؤں کی خریداری ، سرنج ، آئی وی سیٹ، آکسیجن، دستانے ، ماسک، پیشاب کے لیے بیگ اور دیگر ضروری آلات دواد و کان والے خرید ریٹ سے کئی گنا زیادہ قیمت پر فراہم کرتے ہیں، انہیں ڈاکٹروں کو کمیشن بھی دینا ہوتا ہے، اس صورت حال کو سامنے رکھ کر دواؤں پر درج (MRP) مارکیٹ ریٹ پرائز بہت بڑھا کر درج کیا جاتا ہے، بعض دکاندار پندرہ یا بیس فی صد خریدار کو رعایت بھی دیتے ہیں لیکن اس سے کوئی بڑا فرق قیمت پر نہیں پڑتا اور گرانی پھر بھی باقی رہتی ہے، بعض دواؤں اور علاج میں استعمال ہونے والے سامانوں میں خرید قیمت سے پندرہ سے انتیس گنا زیادہ ایم آر پی درج ہوتا ہے، ایسے میں اس کا سیدھا اثر مریضوں پر پڑتا ہے، آپ اسے چند مثالوں سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں، کینولا کی خرید قیمت صرف 7.60 روپے ہے، لیکن اس…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش 11.10.2026
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 08.10.2026
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی 08.10.2026
  • دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ 08.10.2026
  • قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت 07.10.2026
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف 07.10.2026
  • مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم 06.10.2026
  • مریضوں پر بڑھتا بوجھ 06.10.2026

حالیہ تبصرے

  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت از حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از سعیدی اسلوب: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی زبان و ادب کی خصوصیات 1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ: حیات، خدمات اور وفات پر تاثرات1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی عظیم صفت: اختلافات میں اتحاد اور حکمت 1
  • مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

سیرت و شخصیات

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

  • hira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
سیرت و شخصیات

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
Blog

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سیرت و شخصیات

دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
مضامین و مقالات

قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم
مضامین و مقالات

مریضوں پر بڑھتا بوجھ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مریضوں پر بڑھتا بوجھ
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top