Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
28.08.2026
Trending News: ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
28.08.2026
Trending News: ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

عالم اسلام: ایک جائزہ

  1. Home
  2. عالم اسلام: ایک جائزہ

عالم اسلام: ایک جائزہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جنوری 8, 2026
  • 0 Comments

نام کتاب: عالم اسلام —ایک جائزہ
تالیف: ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی
رفیق المعہد الاسلامی مانک مئو، مدير التحرير عربی مجلہ”المظاهر” مظاہر علوم سہارنپور
صفحات: 408
سنہ اشاعت:2025
ناشر: صفہ اکیڈمی مانک مئو، سہارنپور
تعارف و تبصرہ: اشتیاق ظہیر ندوی
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

ابتدائے آفرینش ہی سے حق و باطل کے درمیان معرکہ برپا رہا ہے۔ توحید و شرک کی یہ ازلی کشمکش صدیوں پر محیط ہے؛ مگر تاریخ کی سب سے روشن اور ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ شیطانی طاقتوں، طاغوتی قوتوں اور ابلیسی سازشوں کی یلغاروں کے باوجود حق کا سورج کبھی غروب نہ ہو سکا۔ باطل کی ہزارہا تدبیروں کے علی الرغم، حق کی سربلندی ہر دور میں قائم رہی۔ فاران کی چوٹی سے جب اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو اس کی کرنیں محض مکہ و مدینہ تک محدود نہ رہیں؛ بلکہ سازشوں، مخالفتوں اور کفار، یہود و مشرکین و منافقین کی دشمنیوں سے ٹکراتی ہوئی چند ہی برسوں میں دنیا کے گوشے گوشے تک پھیل گئیں۔ تاریخ نے دیکھا کہ ایک مٹھی بھر؛ مگر جذبۂ ایمانی سے سرشار جماعت نے قیصرِ روم کو سرنگوں کیا، کسریٰ کے ایوانوں میں حق کا پرچم لہرایا، اور عرب کے تپتے صحراؤں سے اٹھنے والی یہ صدا افریقہ و یورپ تک اس شان سے پہنچی کہ دنیا ششدر رہ گئی اور باطل لرزہ براندام ہو گیا۔

چنانچہ اس آفاقی و عالمگیر انقلاب کے نتیجے میں اسلامی سلطنت ایک وسیع و عریض رقبے پر قائم ہوئی۔ ریاست مدینہ کے قیام اور خلافتِ راشدہ سے لے کر اموی، عباسی اور فاطمی ادوار سے گزرتے ہوئے یہ سلسلہ خلافتِ عثمانیہ کے عظیم الشان عہد پر جا کر ٹھہرا۔ اگرچہ اس دوران امت کو اپنی ہی ناعاقبت اندیشیوں، اقربا پروری، داخلی و اندرونی خلفشار اور سیاسی خود غرضیوں کے سبب دل خراش سانحات سے بھی گزرنا پڑا، تاتاری یلغاریں اور صلیبی جنگیں مسلمانوں کو مٹانے کے درپے رہیں، مگر اس مدوجزر کے باوجود اسلام کا قافلہ رواں دواں رہا۔ یہاں تک کہ ظلم و بربریت، جبر اور سفاکی کے علم بردار گروہ بھی رفتہ رفتہ حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے اور اسی سایۂ رحمت میں آ کر کعبہ کے پاسبان کہلائے؎
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

لیکن جب دنیا نے خلافتِ عثمانیہ کے زیرِ سایہ عدل و انصاف، امن و امان، انسانی تحفظ، ہمدردی، نظم و نسق اور مثالی حکمرانی کا درخشاں منظر دیکھا تو باطل نے ایک بار پھر سازشوں کے جال بُننے شروع کر دیے۔ اس عظیم خلافت کو کمزور کرنے اور توڑنے کے لیے ہر ممکن تدابیر آزمائیں، تاآنکہ مصطفیٰ کمال اتاترک کے ہاتھوں خلافت کی قبا چاک کر دی گئی اور ایک سیکولر و لادینی نظام مسلط ہوا۔ خلافتِ عثمانیہ کا زوال ملتِ اسلامیہ کے لیے ایسا عظیم سانحہ ثابت ہوا جس کے زخم آج بھی ہرے ہیں۔ بجا طور پر حضرت سید ابو الحسن علی ندویؒ نے فرمایا تھا کہ "نہیں معلوم کہ امتِ مسلمہ کب تک اس کے نقصانات برداشت کرتی رہے گی۔”

اکیسویں صدی کی مسلم دنیا تاریخ کے ایک ایسے نازک اور کرب ناک موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کی تہذیب، تمدن، شناخت اور بقا سب سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ ایک طرف خلافتِ عثمانیہ کے انہدام سے شروع ہونے والا زوال ہے جس نے امت کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا، اور دوسری طرف نوآبادیاتی قوتوں، عالمی طاقتوں اور مقامی حکمران اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے مسلم معاشرروں کو سیاسی، فکری اور اخلاقی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ مسلم حکومتوں کا تختہ الٹا گیا، سازشوں کے بازار گرم کیے گئے، دوغلی پالیسیاں تشکیل دی گئیں، وسائل لوٹے گئے اور نظریاتی تشخص کو مسخ کر کے امت کو دفاعی اور معذرت خواہانہ ذہنیت میں دھکیل دیا گیا۔

ترکی سے فلسطین، شام و عراق سے افغانستان ، لیبیا و صومالیہ اور یمن تک عالم اسلام پر ظلم و بربریت کے ایسے پہاڑ توڑے گئے ہیں جن کی مثال جدید تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ، فوجی جارحیت، معصوم بچوں کا قتل، عورتوں کی بے حرمتی، عبادت گاہوں کی پامالی اور بیت المقدس کی بے توقیری محض ایک خطے کا المیہ نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ضمیر پر ثبت ایک گہرا زخم ہے۔ یہ اس کی اجتماعی بے حسی اور سیاسی بے بسی کا کھلا اعلان ہے۔ آج عالمِ اسلام محض عسکری یا سیاسی کمزوری کا ہی شکار نہیں، بلکہ فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور قیادت کے شدید بحران میں بھی گرفتار ہے۔ اس کے اعلی دماغ مفکرین پابند سلاسل اور غیور صحافی زیر زمین مدفون ہیں ۔

ان ناگفتہ بہ حالات میں، جب کہیں سے کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھتی، عرب دنیا عملی اقدام سے غافل اور عالمِ اسلام جمود و تعطل کا شکار ہو چکا ہے، اور مسلم اقلیتیں دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے بنیادی حقوق کے لیے برسرِ پیکار ہیں—ایسی لرزہ زار صورت حال میں استادِ محترم ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی کی تصنیف "عالمِ اسلام: ایک جائزہ” محض ایک کتاب نہیں؛ بلکہ ایک فکری و تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تصنیف عالمِ اسلام میں بگڑتی ہوئی صورتِ حال، پے بپے امت کے زخموں اور باطل طاقتوں، ابلیس کے چیلوں ، شیطان کے چمچوں اور فسطائیت کی مسلسل یلغار پر صرف نوحہ خوانی نہیں کرتی ہے؛ بلکہ ان کے اسباب و علل، تاریخی پس منظر اور تہذیبی محرکات کو پوری وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتی ہے۔ عالم اسلام جو امت اسلامیہ کا دل ہے کی پژمردگی کو واضح کرتی ہے ۔

فاضل مصنف واضح کرتے ہیں کہ فلسطین، مصر و شام، لیبیا، عراق اور یمن سے لے کر ہندوستان، برما و میانمار اور فلپائن تک پھیلے ہوئے المیے کسی ناگہانی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل اور مسلسل تاریخی عمل کی پیداوار ہیں، جس کی جڑیں خلافت کے خاتمے، استعمار کے غلبے، سامراجیت کے عروج اور مسلم قیادت کی فکری، سیاسی اور عسکری پسپائی میں پیوست ہیں۔

فاضل مصنف ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ممتاز اور قابلِ فخر سپوتوں میں سے ایک ہیں۔ آپ نے اپنے والدِ گرامی، استادِ محترم، معمارِ نسلِ نو مولانا ناظم ندوی حفظہ اللہ کی زیرِ نگرانی تربیت پائی۔ ندوۃ العلماء کے بعد اپنی علمی و ادبی تشنگی بجھانے کے لیے مصر کی جامعۃ الازہر اور قاہرہ یونیورسٹی سے کسبِ فیض کیا، اور خداداد صلاحیت، اخّاذ ذہن اور جہدِ پیہم کے ذریعے ’’پدر مثل پسر‘‘ ہونے کی راہ پر گامزن ہیں۔ عربی، اردو اور انگریزی—تینوں زبانوں پر یکساں قدرت آپ کی علمی انفرادیت کی روشن علامت ہے۔ آپ نے دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر ولی اختر ندوی کی زیرِ نگرانی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے باوجود آپ مظاہرِ علوم سہارنپور کے عربی مجلہ ’’المظاهر‘‘ کی ادارت اور ماہنامہ ’’حِرا کا پیغام‘‘ (المعہد الاسلامی، مانک مئو) کی نگرانی کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔

فیاضِ قدرت نے آپ کو غیر معمولی ذہانت اور فطانت سے نوازا ہے، جس کی جھلک کتاب کے ہر ہر ورق پر نمایاں ہے۔ علمی عظمت و فکری بلندی کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت کا ایک اور درخشاں پہلو آپ کا تواضع، سادگی اور شرافتِ نفس ہے۔ بلند علمی مقام کے باوجود انکساری آپ کا زیور، گفتگو میں شائستگی، رویّے میں وقار اور مزاج میں خلوص آپ کی پہچان ہے۔

کتاب پر مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی حفظہ اللہ کا وقیع اور بصیرت افروز مقدمہ ہے، جو نہ صرف موضوع کی اہمیت و معنویت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے بلکہ مصنف کی فکری اٹھان اور علمی وقار کا بھی اعتراف ہے۔ اپنے مقدمے میں وہ کتاب کے فکری دائرے اور اس کی افادیت کو بڑی شرح و وضاحت کے ساتھ نمایاں کرتے ہیں۔
کتاب کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا ناظم ندوی حفظہ اللہ رقم طراز ہیں:
“کتاب کا خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں یاسیت و قنوطیت نہیں ہے، بلکہ امتِ مسلمہ کی خصوصیت و امتیاز کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ امت بڑے بڑے نازک مرحلوں سے دوچار ہوئی ہے۔ بے شمار عسکری و فکری یلغاروں نے اسے نیم جان کر دیا، لیکن یہ ہمیشہ میدان میں رہی۔ اگر کہیں اس کا سورج غروب ہوا تو دوسری جانب پوری ضوفشانی و تابانی کے ساتھ طلوع ہوا؛ کیونکہ یہ ایک عالمی دین اور آفاقی امت ہے۔ اس کے قیام و بقا سے دنیا کا وجود وابستہ ہے۔ اگر یہ باقی نہیں رہے گی تو دنیا بھی باقی نہیں رہے گی۔ آج بھی عالمِ اسلام کے حالات خواہ کتنے ہی نازک کیوں نہ ہوں، اور دنیا کی تمام قومیں اس کے خلاف برسرِ پیکار ہی کیوں نہ ہوں، یہ امت آگے بڑھے گی اور اپنے تمدن و ثقافت اور اپنے عقائد و افکار کے ساتھ سرخرو ہوگی۔” (ص 29–30)

مصنف محض واقعات پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ تجزیہ و تحلیل کے فن سے بھی پوری طرح آشنا ہیں، اور عربی مصادر تک براہِ راست رسائی کتاب کے تحقیقی معیار کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ بقول مولانا نذر الحفیظ ندوی:
"عالمِ اسلام: ایک جائزہ ایک دستاویزی کتاب ہے، جسے ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے تیار کیا ہے۔ یہ قیمتی معلومات کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے، بلکہ پی۔ایچ۔ڈی کے درجے کی مستحق ہے” (ص ۱۹)

یہ تینوں تحریریں دراصل کتاب کے فکری مزاج اور اس کی سمت متعین کر دیتے ہیں، جس کے بعد مصنف کا اپنا تجزیاتی بیانیہ سامنے آتا ہے۔

ساخت اور ترتیب کے اعتبار سے اس کتاب کو چند بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ عالمِ اسلام کے مفہوم، اس کی جغرافیائی ہیئت اور اس کے تاریخی و تہذیبی مراکز پر مشتمل ہے، جس میں مسلم ممالک کی تفصیل، اقلیت و اکثریت کا فرق، آبادی کے اعداد و شمار اور عالمِ اسلام کے وسیع قدرتی و معاشی ذخائر کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتے ہیں کہ دنیا کی بڑی تجارتی گزرگاہیں، اہم سمندری راستے اور توانائی کے بڑے ذخائر—بالخصوص پٹرولیم کے تقریباً ستر فیصد وسائل—عالمِ اسلام کے خطوں میں واقع ہیں، جو اس کی عالمی اہمیت کو دوچند کر دیتے ہیں۔

دوسرا حصہ ملکِ شام کی تاریخ سے متعلق ہے، جہاں ماضی و حال کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ نبوی ارشادات کی روشنی میں اس خطے کی دینی و تہذیبی حیثیت واضح کی گئی ہے، فلسطین پر یہودی قبضے اور اس سرزمینِ عزیمت کی موجودہ صورتِ حال پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔

فاضل مصنف کا کمال یہ ہے کہ وہ محض حالات کا بیان نہیں کرتے بلکہ ان کا فکری تجزیہ پیش کرتے ہیں، زاویۂ نظر تشکیل دیتے ہیں، اسباب و علل پر روشنی ڈالتے ہیں اور وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ قاری کے شعور کو اپیل کرتے ہیں اور بحیثیتِ فردِ امت اس کے لیے تڑپتے ہیں۔ کتاب اٹھائیے اور پڑھتے چلے جائیے، آپ اس بات کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مصنف کے افکار و خیالات پر تعصب کی کوئی چھاپ نہیں۔ جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں، اسے بے کم و کاست بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔

خلافتِ عثمانیہ کے سقوط و زوال کے بعد استعماری اور سامراجی قوتوں نے عالمِ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے اور اسلامی علوم و فنون سے امتِ مسلمہ کا رشتہ توڑنے کے لیے شدید فکری و نظریاتی حملے کیے۔ مغربی تہذیب و ثقافت کو اسلامی تہذیب پر فوقیت دلانے کے لیے “تہذیبی احیا” کے نام پر گمراہ کن مہمات چلائی گئیں۔ دین و مذہب کے نام پر مضر لٹریچر کی اشاعت، قادیانیت کی تبلیغ، بابیت کا ظہور، اور مستشرقین کا متعصبانہ و معاندانہ رویہ اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ اسی طرح صہیونی تحریک، صلیبی جنگیں اور اسلام دشمن عناصر کی سازشی تنظیمیں بھی اس فکری یلغار کا حصہ تھیں۔ صہیونیت—جو عالمی یہودیت کی ترجمان ہے—کے ابھرنے کے اسباب، اس کی حکمتِ عملی اور صلیبی جنگوں کا پس منظر بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

اس کے بعد کتاب میں عالمِ اسلام پر سامراجی اثرات، ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی و تہذیبی تبدیلیاں، اور ان چیلنجوں کے مقابلے میں ابھرنے والی اسلامی بیداری کی تحریکات و جماعتوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ "اسلامی بیداری سے مراد عموماً وہ اسلامی تحریکیں لی جاتی ہیں جو تیرہویں صدی ہجری مطابق انیسویں صدی عیسوی میں اسلامی ممالک میں ظاہر ہوئیں، اور جنہوں نے اسلام کے مخالف تمام عادات و اطوار اور رسوم و رواج کی شدت سے مخالفت کی، اور اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت کی بھرپور کوشش کی، تاکہ مسلمان اس دین پر عمل کرنے لگیں جس پر صحابۂ کرامؓ اور خود نبی کریم ﷺ عمل پیرا تھے، اور بدعات و خرافات اور گمراہیوں کو ترک کرکے سلف صالحین سے منقول صحیح دین اور صحیح مذہب کی جانب رجوع کریں۔ اسی سلسلے میں حجاز کے شہر نجد میں شیخ محمد بن عبد الوہاب کی سلفی تحریک، لیبیا کے شہر برقہ میں سنوسی دعوت، سوڈان میں مہدی تحریک اور مصر میں اخوان المسلمون کی تحریک کا ظہور ہوا۔” (ص 178)

اسلامی بیداری کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کے قلب میں واقع عظیم علمی اداروں—جامعۃ الازہر، جامع زیتونہ اور جامعہ قرویین—کا تذکرہ بھی ہے۔ اسی طرح او آئی سی، رابطۂ عالمِ اسلامی، عالم اتحاد برائے علمائے اہلِ اسلام اور ان کی ذیلی تحریکات کے مقاصد، اہداف اور سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

کتاب کا ایک بڑا حصہ دنیا کے مختلف براعظموں میں پھیلی ہوئی مسلم اقلیتوں کی تاریخ، ثقافت اور درپیش مسائل پر مشتمل ہے۔ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم، ان کے اسباب و علل اور جبر کے محرکات کو بے نقاب کیا گیا ہے، اور ان سے نبرد آزما ہونے کی فکری و عملی تدابیر بھی بیان کی گئی ہیں۔ مصنف برما کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت پر افسوس کرتے ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لائحۂ عمل پیش کرتے ہیں، ناروے کے واقعے کا ذکر کرتے ہیں اور فلپائن میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

کتاب کا آخری حصہ مسئلۂ فلسطین سے متعلق ہے، جو اس پورے قضیے کو شرح و بسط کے ساتھ سمجھنے میں معاون ہے۔ یہودیوں کی حکمتِ عملی، سوئٹزرلینڈ میں ہرٹزل کی سرگرمیاں، سلطان عبد الحمید ثانیؒ کا تاریخی موقف، صہیونی منصوبہ بندی، امت کی کمزوریاں، فلسطین فروشی، ارضِ فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام تک کا دردناک سفر پوری تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

آخر میں مصنف مسائل کے حل کی طرف آتے ہیں اور کچھ اصول و طریقے پیش کرتے ہیں جن پر عمل کر کے امتِ مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار واپس حاصل کر سکتی ہے۔ امت کی اصل کمزوری نہ وسائل کی کمی ہے اور نہ افرادی قلت، بلکہ فکری انتشار، اعتقادی کمزوری اور روحانی زوال ہے؛ اور جب تک ان بنیادوں کی اصلاح نہ کی جائے، کوئی سیاسی یا عسکری تدبیر دیرپا ثمرات پیدا نہیں کر سکتی۔ آپ لکھتے ہیں کہ "لہٰذا شدید ضرورت ہے کہ امتِ مسلمہ صحیح اسلامی عقیدے کی پابند ہو، باہمی اتحاد و اتفاق اور اسلامی وحدت کا نمونہ بنے۔ اسی نسخے سے اس امت کی شوکت و عظمت رفتہ کی بحالی ہو سکتی ہے۔ یہی ایسا معنوی ہتھیار ہے جو تمام مادی اسلحہ اور وسائل سے زیادہ طاقتور ہے، امت کے قائدی و رہنما علمائے اسلام، داعیان کرام اور ملت کے روشن مستقبل اور ملی شناخت کی فکر رکھنے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امت کے نوجوانوں کے دلوں میں از سرِ نو ایمان و اسلام کی شجرکاری کریں، ان کے دینی جذبات کو بیدار کریں، اسلامی میراث اور سلف صالحین سے ان کو مربوط کرنے کی سعی کریں، اسلام کی صحیح اقدار و قیم، تعلمیات واحکام اور صحیح فہم سے ان کو روشناس کرائیں، اور ان کے اندر یہ اعتماد پیدا کریں کہ دنیوی و اخروی سعادت و فلاح اور کامیابی و کامرانی کا یہی ایک راستہ ہے اور اسلام ہی پر عمل پیرا ہوکر سلف صالحین کی طرح وہ انسانیت کی رہبری اور و قیادت کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں ” (ص 394)

بحثیتِ مجموعی 408 صفحات پر مشتمل یہ کتاب اس لائق ہے کہ سطر بہ سطر پڑھی جائے۔ امت کا ایک بڑا طبقہ ان مسائل سے ناواقف ہی نہیں بلکہ اجتماعی بے حسی کا شکار بھی ہے؛ ان کے لیے یہ کتاب فہمِ مسائل کی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ کتاب بہت پہلے آنے والی تھی۔ راقمِ سطور کو یاد ہے کہ استادِ محترم سے ملاقات کے وقت اس کا تذکرہ کیا جاتا تھا؛ بہرحال دیر آید درست آید کی مصداق، اب یہ کتاب سامنے ہے۔ سرورق کو مزید خوب صورت بنایا جا سکتا ہے، اور ابواب و فصول کی منظم تقسیم قاری کے لیے تفہیم میں معاون ہو سکتی ہے۔

ہم ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی حفظہ اللہ کو اس فکری اور بصیرت افروز تصنیف پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ آئندہ بھی اس نوع کی مزید علمی و فکری کتابیں منظرِ عام پر آئیں گی، ان شاء اللہ۔

عالم اسلامنام کتاب: عالم اسلام

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ندوه اور علم كلام
عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود

Related Posts

ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی
  • hira-online.comhira-online.com
  • ربیع الاول کا پیغام
  • رحمت عالم
  • اگست 21, 2026
  • 1 Comments
ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی

*آپ آئے تو سب کو ملی روشنی* محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔ مدرسہ, نور الاسلام, کنڈہ, پرتاپگڑھ, یوپی 9506600725   یہ ماہ ربیع الاول ہے،اس مہینہ کی بارہ تاریخ کی ایک خاص اہمیت اور مقام ہے ، اس مہینے کی نسبت بہت اونچی ہے،اس نسبت ہی سے اس مہینے کی عظمت و رفعت اور فضیلت و اہمیت بڑھ جاتی ہے، اگر چہ یہ مہینہ اشہر حرم یعنی حرمت کے جو چار مہینے ہیں ،اس میں سے نہیں ہے ۔ وہ نسبت یہ ہے کہ مشہور روایت کے مطابق اسی مہینے کی بارہ تاریخ کو لیکن صحیح روایت کے مطابق نو ربیع الاول کو آقائے مدنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیاسی زمین کی سیرابی کے لئے، سسکتی، بلکتی،دم توڑتی اور مرجھائی انسانیت کو تازہ دم کرنے اور حیات آفریں بخشنے کے لیے،اس دنیا میں تشریف لائے ۔ یہ مہینہ، پوری دنیائے انسانیت کے لئے موسم ربیع اور فصل بہار ہے، کیوں کہ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے پہلے انسانیت پر خزاں، پژمردگی اور بے حسی چھائی ہوئی تھی ہر طرف ظلم و ستم جور و جفااور زیادتیاں عام تھیں ، کون سی برائی تھی، جس کا انسان رسیا اور عادی نہ تھا ۔ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے قبل انسانیت کا خون خود انسان پی رہا تھا *حضرت عیسی علیہ السلام* کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد نبوت سے خالی عرصئہ دراز کی وجہ سے شیطان کو موقع ملا مختلف برائیوں اور بے حیائیوں کی راہیں ہموار کیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا برائی میں ڈوب گئ اور خاص طور پر جزیرہ عرب برائیوں اور بے حیائیوں کا اڈہ اور مرکز بن گیا ۔ حرص و حسد ہوس و نفس پرستی جھوٹ غیبت دھوکہ دہی ظلم و ستم لوٹ مار قتل و غارت گری شراب نوشی بے حیائی، دختر کشی لڑائی جھگڑے جوا قمار اور کوئی بھی ایسی برائی نہ تھی، جو عرب میں نہ پائی جاتی ہو،گویا وہ درندوں سے بدتر ہو چکے تھے۔ شرک و بت پرستی کی آخری حد پر یہ لوگ…

Read more

Continue reading
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • آزادی ہند
  • آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • اگست 14, 2026
  • 0 Comments
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں برصغیر کی آزادی کی داستان محض 1947ء کی ایک تاریخی تبدیلی نہیں بلکہ یہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک مسلسل اور خونچکاں جدوجہد کی تاریخ ہے۔ انگریزوں کے قدم اس سرزمین پر 17ویں صدی کے اوائل میں تجارت کے بہانے پڑے، مگر آہستہ آہستہ ان کا قبضہ سیاسی، فوجی اور معاشی طاقت میں بدل گیا۔ اس قبضے کے خلاف مزاحمت کی کئی لہریں اٹھیں، جو مختلف ادوار میں "جنگ آزادی” یا "تحریک آزادی” کے عنوان سے یاد کی جاتی ہیں۔ ذیل میں ان اہم سنگ میلوں کا تاریخی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی جنگ آزادی — جنگِ پلاسی (1757ء) پس منظر: نواب سراج الدولہ نے بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے تجارتی قلعہ بندیوں پر پابندی لگائی۔ انگریزوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی، جس پر فوجی تصادم ہوا۔ واقعات: پلاسی کے مقام پر جنگ ہوئی۔ میر جعفر سمیت کئی امرا نے غداری کی۔ نتیجہ: نواب کو شکست، انگریزوں کا بنگال پر قبضہ، اور کمپنی کی سیاسی بالادستی کی بنیاد۔ اہمیت: یہ واقعہ انگریز اقتدار کے ابتدائی دور کا نقطۂ آغاز تھا، جس نے آئندہ برصغیر میں انگریز سامراج کے دروازے کھول دیے۔ دوسری جنگ آزادی — جنگِ بکسر (1764ء) پس منظر: میر قاسم (نواب بنگال)، شجاع الدولہ (نواب اودھ) اور مغل بادشاہ شاہ عالم دوم نے انگریزوں کے خلاف اتحاد کیا۔ واقعات: بکسر کے میدان میں فیصلہ کن جنگ لڑی گئی، جس میں انگریزوں نے جدید فوجی تربیت اور اسلحے کی بدولت فتح حاصل کی۔ نتیجہ: انگریزوں کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی کے حقوق مل گئے، اور مغل بادشاہ محض علامتی حکمران رہ گیا۔ اہمیت: یہ وہ موڑ تھا جہاں سے انگریزوں کا معاشی اور سیاسی تسلط ناقابلِ واپسی ہوگیا۔ تیسری جنگ آزادی — ٹیپو سلطان کی مزاحمت (1782ء تا 1799ء) پس منظر: میسور کے سلطان ٹیپو، اپنے والد حیدر علی کی وراثت میں ملی ریاست کو انگریزوں سے بچانے کے لیے پرعزم تھے۔ واقعات: چار میسور جنگوں میں انگریزوں اور ان کے حلیفوں (مرہٹہ، حیدرآباد) کے…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1) 28.08.2026
  • ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات 28.08.2026
  • سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق 27.08.2026
  • قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں 27.08.2026
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی 26.08.2026
  • (بلاعنوان) 26.08.2026
  • درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی 26.08.2026
  • دودھ پینے کی دعا 23.08.2026

حالیہ تبصرے

  • سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق از ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)
  • مفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدمات از ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
  • تحریری صلاحیت کیسے بہتر بنائیں؟ از سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق: 10 اہم اسلامی تعلیمات
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی از سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق: 10 اہم اسلامی تعلیمات
  • جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصد از تلاوت و تدبر

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

سیرت النبی ﷺ

ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
سیرت و شخصیات

ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق
اسلامیات

قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں
Blog سیرت النبی ﷺ

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی
اسلامیات

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
اسلامیات

درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
اسلامیات

دودھ پینے کی دعا

  • hira-online.com
  • اگست 23, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top