Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
28.08.2026
Trending News: ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
28.08.2026
Trending News: ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

  1. Home
  2. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • دسمبر 26, 2025
  • 0 Comments

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں
اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کر
بیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام
تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ


مسلمانوں کے بعض عوام میں ایک عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان علامات کی خبر کو اس بات کا سہارا بنا لیتے ہیں کہ صحیح اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ دیا جائے، اور انہوں نے قیامت کی علامات کے ساتھ ایک ایسی بات کو جوڑ دیا ہے جس کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں عمل کرنا بے فائدہ ہے، کیونکہ فساد کا بڑھنا، گمراہی کا پھیلنا، اور قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والے غیر معمولی واقعات—جیسے مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول—لازمی ہیں۔
اور پھر انہی مواقع پر اسلام دوبارہ غالب آئے گا، دین کو غلبہ حاصل ہوگا، حق پھیلے گا، اس کے ماننے والے مضبوط ہوں گے، اور اسلامی نظام پوری طرح نافذ ہوگا۔
لہٰذا اب باطل اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جدوجہد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، چاہے مسلمان کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے۔


یہ گمراہ کن اور خبیث فکر—اور ممکن ہے کہ دشمنوں کی نرم سازشوں کے ذریعے مسلمانوں میں داخل کی گئی ہو—نے ان جاہل لوگوں اور ان کے گرد گھومنے والے سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں سے فرضِ جدوجہد اور صحیح اسلامی شعور کو ساقط کر دیا ہے۔


اس نے ان پر منفی اثر ڈالا ہے، اور اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوشش کے جذبے کو ختم کر دیا ہے۔


اکثر یہ نادان اور سادہ لوح مسلمان اپنے جیسے دوسروں کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ دنیا اپنے اختتام کے قریب ہے، اور احادیثِ نبویہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی حالت مسلسل زوال پذیر رہے گی۔
اور جب معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر اس فاسد دھارے کو روکنے اور اس گراوٹ کو تھامنے کے لیے کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقدر کردہ امر ہے، جس کی خبر اس کے رسول ﷺ نے دے دی ہے، اور جو لازماً وقوع پذیر ہو کر رہے گا۔


پس ہمارے ذمے صرف یہ ہے کہ ہم تسلیم کر لیں اور خاموش ہو جائیں، یہاں تک کہ اللہ کا وہ فیصلہ آ جائے جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
یہ غلط اور جھوٹی سوچ لازمی طور پر ان لوگوں کے دلوں سے نکالی جانی چاہیے جو اس میں مبتلا ہو چکے ہیں، تاکہ اس منفی اثر کو زائل کیا جا سکے جو اس نے ان مسلمانوں کی شعوری اور لاشعوری ارادوں پر ڈالا ہے۔


کیونکہ یہ باطل عقیدہ مسلمانوں کے اندر سے ہی اسلامی تحریک کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اس کے علاوہ ان رکاوٹوں کے جو باہر سے اس کے راستے میں ڈالی جاتی ہیں۔
اگر یہ فکر واقعی درست، صحیح اور ثابت شدہ ہوتی، تو سلف صالحین کی طرف سے ہر گمراہی اور ہر انحراف کے خلاف جدوجہد اور جہاد—چاہے وہ کسی غیر ملکی کی طرف سے ہو یا عرب کی طرف سے، مسلمان کے بھیس میں ہو یا کھلے کافر کی طرف سے—سب بے معنی ہو جاتے۔
کیونکہ اگر ہم اس گمراہ فکر کے مطابق چلیں، تو ہمیں زندگی کے ہر میدان اور ہر سطح پر پیش آنے والی مشکلات اور چیلنجوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑے گا، اور یہ ایسی بات ہے جسے کوئی صاحبِ عقل انسان تسلیم نہیں کرتا، چہ جائیکہ شریعتِ اسلامی نے ہمیں اس کا حکم دیا ہو۔
اور اللہ کی شریعت اس سے پاک ہے کہ اس کی طرف ایسی بات منسوب کی جائے۔
پھر یہ جاہل لوگ، جو اس بیمار فکر میں مبتلا ہیں،
اپنے مال و دولت بڑھانے،
اپنے حالات سنوارنے،
اپنے معیارِ زندگی اور رہائش کو بہتر بنانے،
اور دنیاوی امور میں محنت کیوں کرتے ہیں؟

اپنے مال و دولت اور حالات سنوارنے، اپنے معیارِ زندگی اور رہائش کو بہتر بنانے، اور دنیا و زندگی کی سہولتوں کے دوسرے امور میں تو یہ لوگ پوری طرح سرگرم رہتے ہیں۔
لیکن جب دین اور جہاد کے معاملات آتے ہیں تو یہی شیطانی تصور ان پر چھا جاتا ہے، چنانچہ یہ گمراہ ہو جاتے ہیں اور اپنے دین کی نصرت سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
تو پھر کہاں ہے ان کی عقل؟
اور کہاں ہے ان کی سمجھ، رسول اللہ ﷺ کے اس صاف اور صریح فرمان کے مقابلے میں:
“جہاد قیامت تک جاری رہے گا”
اور اس جیسے بے شمار صحیح احادیث کے مقابلے میں؟
اہلِ بصیرت خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے بارے میں سنت یہی ہے:
محنت، جدوجہد، اسباب اختیار کرنا،
اور یہ بات ہر اس مسلمان کے نزدیک بدیہی ہے جو اپنے دین اور اسلام کی صحیح سمجھ رکھتا ہو۔
پس دین اور اسلام کی نصرت میں محنت اور عمل کو چھوڑ دینا ایک جرم ہے،
اور اس باطل عقیدے کی وجہ سے باطل پرستوں، ظالموں اور کافروں—جو مسلمانوں پر مسلط ہیں—کے مقابلے سے دستبردار ہو جانا جرم پر جرم ہے۔
یہ ایک عظیم مصیبت ہے جو اس بیمار عقیدے میں مبتلا لوگوں کی عقل پر نازل ہوئی ہے،
اور ضروری ہے کہ جلد از جلد ان کا علاج کیا جائے اور انہیں اس ہلاکت خیز مرض سے نجات دلائی جائے۔
اور کیا ہی خوب فرمایا بڑے فقیہ، عظیم عالمِ عامل، صاحبِ بصیرت صوفی بزرگ،
شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمہ اللہ نے:
“مرد وہ نہیں جو تقدیروں کے سامنے ہتھیار ڈال دے،
بلکہ مرد وہ ہے جو تقدیروں کا مقابلہ تقدیروں ہی کے ذریعے کرے۔”
اور ایک دوسری روایت میں ان کا قول ہے:
“ہم بہتر تقدیر کی طرف بڑھنے کے لیے کم تر تقدیر سے نکلتے ہیں۔”
یہ ایک نہایت حکیمانہ اور بصیرت افروز کلمہ ہے،
جو شریعت اور عقل—دونوں کا نچوڑ ہے۔
کتاب و سنت میں اس کے دلائل بکثرت موجود ہیں،
اگر انہیں جمع کیا جائے تو ایک مستقل اور عمدہ رسالہ تیار ہو جائے۔
اس کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے جو امام بخاری نے اپنی صحیح میں
(کتاب الطب)،
اور امام مسلم نے بھی اپنی صحیح میں
(کتاب الطب)،
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے:
کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سنہ 17 یا 18 ہجری میں مدینہ سے شام کی طرف روانہ ہوئے۔
جب وہ سرغ نامی مقام پر پہنچے—جو حجاز سے متصل شام کے کنارے پر واقع ایک بستی تھی—
تو لشکروں کے امیر، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ان سے ملے،
اور انہیں اطلاع دی کہ شام کی سرزمین میں وبا پھیل چکی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“مہاجرینِ اولین کو میرے پاس بلاؤ۔”
میں نے انہیں بلایا، انہوں نے ان سے مشورہ کیا اور وبا کی خبر دی۔
ان میں اختلاف ہو گیا:
کچھ نے کہا: آپ ایک مقصد سے نکلے ہیں، ہمیں مناسب نہیں لگتا کہ آپ واپس لوٹیں۔
اور کچھ نے کہا: آپ کے ساتھ عام مسلمان اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہیں، ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ انہیں اس وبا میں لے جائیں۔
حضرت عمر نے فرمایا: “تم لوگ اٹھ جاؤ۔”
پھر فرمایا:
“انصار کو بلاؤ۔”
میں نے انہیں بلایا، انہوں نے بھی مشورہ دیا، اور ان میں بھی وہی اختلاف ہوا جو مہاجرین میں ہوا تھا۔
حضرت عمر نے فرمایا: “تم بھی اٹھ جاؤ۔”
پھر فرمایا:
“قریش کے ان بزرگوں کو بلاؤ جو فتحِ مکہ کے بعد ہجرت کر کے آئے تھے۔”
میں نے انہیں بلایا، تو ان میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہ ہوا۔
سب نے متفقہ طور پر کہا:
ہم یہ رائے دیتے ہیں کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور انہیں اس وبا میں داخل نہ کریں۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان فرمایا:
“میں صبح سویرے واپسی کا ارادہ رکھتا ہوں، تم بھی صبح سویرے روانگی کے لیے تیار ہو جاؤ۔”

اس پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا:
“کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اے ابو عبیدہ! اگر یہ بات تمہارے سوا کوئی اور کہتا تو میں اسے سخت جواب دیتا۔
ہاں! ہم اللہ کی ایک تقدیر سے نکل کر اللہ ہی کی دوسری تقدیر کی طرف جا رہے ہیں۔
ذرا بتاؤ، اگر تمہارے پاس اونٹوں کا ایک ریوڑ ہو، اور تم ایک ایسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوں—
ایک سرسبز و شاداب، اور دوسرا خشک اور بنجر—
تو کیا ایسا نہیں کہ اگر تم سرسبز کنارے میں چَراؤ گے تو بھی یہ اللہ کی تقدیر ہی کے تحت ہوگا،
اور اگر خشک کنارے میں چَراؤ گے تو بھی وہ اللہ کی تقدیر ہی کے تحت ہوگا؟”
راوی کہتے ہیں:
اسی دوران حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آ گئے، اور وہ کسی ضرورت کے باعث وہاں موجود نہیں تھے۔

وہ مشاورت کے وقت ان کے ساتھ موجود نہیں تھے۔
انہوں نے کہا:
میرے پاس اس بارے میں علم ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
“جب تم کسی سرزمین میں اس (یعنی وبا یا طاعون) کے پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ،
اور اگر وہ کسی سرزمین میں پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نکلنے کے لیے نہ بھاگو۔”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اللہ تعالیٰ کی حمد کی، پھر واپس لوٹ گئے۔
یہ واضح اور گویا دلیل، اور یہ سچی حدیث، اس باطل اور جھوٹے تصور کو رد کرنے کے لیے کافی ہے۔
اور اس خیال کے پیدا ہونے کا سبب—میرے نزدیک—اسلام کے دشمنوں کے سوا کوئی نہیں،
جنہوں نے اس کے ذریعے بعض سادہ لوح لوگوں کو دھوکے میں ڈالا،
چنانچہ یہ فکر ان کے اندر پیدا ہوئی، ان کے دلوں اور ان کے رویّوں میں جا بسی،
اور یوں دشمنوں کو ان پر غلبہ پانے کے لیے بڑی مشقت اور محنت سے بچا لیا۔
اللہ تعالیٰ امام ابنِ قیم رحمہ اللہ پر رحمت نازل فرمائے،
انہوں نے اپنی کتاب مدارج السالکین (جلد 1، صفحہ 198) میں اس مسئلے پر گفتگو کی ہے،
جہاں انہوں نے اپنے نہایت عمدہ اور بلیغ بیان سے حق کو واضح کر دیا،
اور اپنے کلام سے باطل کو نیست و نابود کر دیا۔

چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
“تقدیروں پر غور و فکر کرنا ایک نہایت تنگ میدان اور سخت معرکہ ہے،
ایسا میدان جس میں بہت سے قدم پھسل گئے،
بہت سی سمجھیں بھٹک گئیں،
اور اس میں چلنے والوں کے راستے جدا جدا ہو گئے،
یہاں تک کہ—چند لوگوں کے سوا—سب ہلاکت کی وادیوں کے کنارے جا پہنچے۔
اور ایسا کیوں نہ ہو؟
یہ تو ایک ایسا سمندر ہے جس میں سوار کی کشتی پہاڑوں جیسے موجوں میں گھری ہوتی ہے،
یہ ایک ایسا معرکہ ہے جس میں بڑے بڑے بہادروں کی جرأت بھی چھوٹی پڑ جاتی ہے،
اور اس میں عقل مندوں کی عقلیں بھی حیران رہ جاتی ہیں۔
تمام مخلوق اس کے ساحل تک پہنچتی ہے اور اس میں سوار ہونے کی خواہش رکھتی ہے،
مگر ان میں سے نجات صرف انہی کو ملتی ہے
جو حکم کی کشتی کے پہنچنے کا انتظار کرتے ہیں—
یعنی مشروع اسباب اختیار کرتے ہیں
اور تقدیر کو تقدیر ہی کے ذریعے دفع کرتے ہیں—
پس وہ تقدیر کے سمندر میں حکم (عمل) کی کشتی پر سوار ہوتے ہیں۔
جو شخص اس سمندر میں حکم کی کشتی پر سوار ہوتا ہے،
اس کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ تقدیر کی موجوں سے ٹکر لے،
اور ایک تقدیر کو دوسری تقدیر کے ذریعے روکے،
ورنہ وہ ہلاک ہو جائے گا۔
پس تقدیر کو تقدیر کے ذریعے دفع کیا جاتا ہے،
اور یہی اہلِ عزم اور اہلِ معرفت کا طریقہ ہے۔
اور یہی معنی ہیں عارفِ ربانی اور پیشوا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے اس قول کے:
‘لوگ جب قضا و قدر تک پہنچتے ہیں تو رک جاتے ہیں،
لیکن میں نہیں رکا؛
بلکہ اس میں میرے لیے ایک دریچہ کھول دیا گیا،
تو میں نے حق کے لیے، حق کے ساتھ، حق کی تقدیروں کا مقابلہ کیا۔
مرد وہ نہیں جو تقدیر کے سامنے ہتھیار ڈال دے،
بلکہ مرد وہ ہے جو تقدیر سے کشمکش کرے، نہ کہ اس کے ساتھ بہہ جائے۔’”
اور بندوں کے دنیوی معاملات درست نہیں ہو سکتے
جب تک ایک تقدیر کو دوسری تقدیر کے ذریعے دفع نہ کیا جائے،
تو پھر ان کے اخروی معاملات کا کیا حال ہوگا؟
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ برائی—جو اس کی ایک تقدیر ہے—
کو نیکی کے ذریعے دفع کیا جائے—اور وہ بھی اس کی تقدیر ہے۔
اسی طرح بھوک اللہ کی ایک تقدیر ہے،
اور اس نے اسے کھانے کے ذریعے دفع کرنے کا حکم دیا ہے،
اور کھانا بھی اس کی تقدیر ہے۔
اگر کوئی بندہ بھوک کی تقدیر کے سامنے—
جبکہ وہ کھانے کے ذریعے اسے دفع کرنے کی قدرت رکھتا ہو—
ہتھیار ڈال دے، یہاں تک کہ مر جائے،
تو وہ نافرمانی کی حالت میں مرے گا۔
اسی طرح سردی، گرمی اور پیاس—سب اللہ کی تقدیریں ہیں،
اور اس نے حکم دیا ہے کہ ان کا مقابلہ ایسی تقدیروں سے کیا جائے جو ان کے مخالف ہوں۔
پس دفع کرنے والا، جسے دفع کیا جا رہا ہے،
اور خود دفع کرنا—سب اللہ ہی کی تقدیر کے تحت ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اس مفہوم کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔
لوگوں نے عرض کیا:
یا رسول اللہ!
یہ دوائیں جن سے ہم علاج کرتے ہیں،
یہ دم جن سے ہم دم کرواتے ہیں،
اور یہ احتیاطی تدابیر جن سے ہم بچاؤ کرتے ہیں—
کیا یہ اللہ کی تقدیر کو ٹال دیتی ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہ سب بھی اللہ ہی کی تقدیر کا حصہ ہیں۔”
اور ایک دوسری حدیث میں آیا ہے:
“دعا اور بلا آسمان و زمین کے درمیان باہم کشمکش میں رہتے ہیں۔”
اور اگر کفار دشمن اسلامی سرزمین پر حملہ کریں،
تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی حملہ کرتے ہیں۔
تو کیا مسلمانوں کے لیے جائز ہے
کہ وہ تقدیر کے نام پر ہتھیار ڈال دیں
اور اس کے مقابلے میں اسی جیسی تقدیر—
یعنی جہاد—کو ترک کر دیں
جس کے ذریعے وہ اللہ کی ایک تقدیر کو دوسری تقدیر سے دفع کرتے ہیں؟
اسی طرح اگر کسی سے گناہ تقدیر کے تحت سرزد ہو جائے،
اور اس نے اسے تقدیر ہی کے تحت انجام دیا ہو،
تو اسے چاہیے کہ اس کے اثر کو سچی توبہ کے ذریعے دفع کرے،
اور توبہ بھی تقدیر ہی کا حصہ ہے۔
تقدیر کو تقدیر کے ذریعے دفع کرنے کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم:
ایسی تقدیر کو—جس کے اسباب پیدا ہو چکے ہوں مگر وہ ابھی واقع نہ ہوئی ہو—
اللہ کی ایک دوسری تقدیر کے ذریعے روک دینا،
جیسے دشمن کو اس سے لڑ کر روکنا،
یا گرمی، سردی اور اسی طرح کی چیزوں کو ان کے مخالف اسباب سے دفع کرنا۔
دوسری قسم:
ایسی تقدیر کو—جو واقع ہو چکی ہو اور جم چکی ہو—
ایک دوسری تقدیر کے ذریعے زائل کر دینا،
جیسے بیماری کی تقدیر کو علاج کی تقدیر سے،
گناہ کی تقدیر کو توبہ کی تقدیر سے،
اور برائی کی تقدیر کو نیکی کی تقدیر سے دفع کرنا۔

پس یہ اہلِ معرفت کا طریقہ ہے، اور یہی تقدیروں کا صحیح فہم ہے:
تقدیر کے سامنے ہتھیار ڈال دینا نہیں، بلکہ حرکت، تدبیر اور جدوجہد کو ترک نہ کرنا۔
کیونکہ یہ عجز ہے،
اور اللہ تعالیٰ عجز پر ملامت فرماتا ہے۔
ہاں، جب بندہ بالکل مغلوب ہو جائے،
تمام تدبیریں ختم ہو جائیں،
اور کوئی راستہ باقی نہ رہے،
تو اس وقت تقدیر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے،
اور یوں پڑ جانا چاہیے
جیسے میت غسل دینے والے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے،
وہ اسے جیسے چاہے پلٹتا ہے۔
یہاں کلام ختم ہوتا ہے۔
اور تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں۔
اور آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں
کہ وہ ہمیں جہالت اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھے،
اور ہمیں تمام معاملات میں خصوصاً دشمنوں کے مقابلے میں جہاد کے باب میں
صحیح رہنمائی اور درست رویّہ عطا فرمائے۔
بے شک وہی بہترین کارساز اور بہترین مددگار ہے۔
( التصريح بما تواتر في نزول المسيح للعلامة أنور شاه الكشميري تحقيق الشيخ عبد الفتاح أبوغده ص : من الألف إلى اللام)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!
۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندن

Related Posts

ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی
  • hira-online.comhira-online.com
  • ربیع الاول کا پیغام
  • رحمت عالم
  • اگست 21, 2026
  • 1 Comments
ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی

*آپ آئے تو سب کو ملی روشنی* محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔ مدرسہ, نور الاسلام, کنڈہ, پرتاپگڑھ, یوپی 9506600725   یہ ماہ ربیع الاول ہے،اس مہینہ کی بارہ تاریخ کی ایک خاص اہمیت اور مقام ہے ، اس مہینے کی نسبت بہت اونچی ہے،اس نسبت ہی سے اس مہینے کی عظمت و رفعت اور فضیلت و اہمیت بڑھ جاتی ہے، اگر چہ یہ مہینہ اشہر حرم یعنی حرمت کے جو چار مہینے ہیں ،اس میں سے نہیں ہے ۔ وہ نسبت یہ ہے کہ مشہور روایت کے مطابق اسی مہینے کی بارہ تاریخ کو لیکن صحیح روایت کے مطابق نو ربیع الاول کو آقائے مدنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیاسی زمین کی سیرابی کے لئے، سسکتی، بلکتی،دم توڑتی اور مرجھائی انسانیت کو تازہ دم کرنے اور حیات آفریں بخشنے کے لیے،اس دنیا میں تشریف لائے ۔ یہ مہینہ، پوری دنیائے انسانیت کے لئے موسم ربیع اور فصل بہار ہے، کیوں کہ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے پہلے انسانیت پر خزاں، پژمردگی اور بے حسی چھائی ہوئی تھی ہر طرف ظلم و ستم جور و جفااور زیادتیاں عام تھیں ، کون سی برائی تھی، جس کا انسان رسیا اور عادی نہ تھا ۔ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے قبل انسانیت کا خون خود انسان پی رہا تھا *حضرت عیسی علیہ السلام* کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد نبوت سے خالی عرصئہ دراز کی وجہ سے شیطان کو موقع ملا مختلف برائیوں اور بے حیائیوں کی راہیں ہموار کیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا برائی میں ڈوب گئ اور خاص طور پر جزیرہ عرب برائیوں اور بے حیائیوں کا اڈہ اور مرکز بن گیا ۔ حرص و حسد ہوس و نفس پرستی جھوٹ غیبت دھوکہ دہی ظلم و ستم لوٹ مار قتل و غارت گری شراب نوشی بے حیائی، دختر کشی لڑائی جھگڑے جوا قمار اور کوئی بھی ایسی برائی نہ تھی، جو عرب میں نہ پائی جاتی ہو،گویا وہ درندوں سے بدتر ہو چکے تھے۔ شرک و بت پرستی کی آخری حد پر یہ لوگ…

Read more

Continue reading
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • آزادی ہند
  • آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • اگست 14, 2026
  • 0 Comments
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں برصغیر کی آزادی کی داستان محض 1947ء کی ایک تاریخی تبدیلی نہیں بلکہ یہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک مسلسل اور خونچکاں جدوجہد کی تاریخ ہے۔ انگریزوں کے قدم اس سرزمین پر 17ویں صدی کے اوائل میں تجارت کے بہانے پڑے، مگر آہستہ آہستہ ان کا قبضہ سیاسی، فوجی اور معاشی طاقت میں بدل گیا۔ اس قبضے کے خلاف مزاحمت کی کئی لہریں اٹھیں، جو مختلف ادوار میں "جنگ آزادی” یا "تحریک آزادی” کے عنوان سے یاد کی جاتی ہیں۔ ذیل میں ان اہم سنگ میلوں کا تاریخی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی جنگ آزادی — جنگِ پلاسی (1757ء) پس منظر: نواب سراج الدولہ نے بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے تجارتی قلعہ بندیوں پر پابندی لگائی۔ انگریزوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی، جس پر فوجی تصادم ہوا۔ واقعات: پلاسی کے مقام پر جنگ ہوئی۔ میر جعفر سمیت کئی امرا نے غداری کی۔ نتیجہ: نواب کو شکست، انگریزوں کا بنگال پر قبضہ، اور کمپنی کی سیاسی بالادستی کی بنیاد۔ اہمیت: یہ واقعہ انگریز اقتدار کے ابتدائی دور کا نقطۂ آغاز تھا، جس نے آئندہ برصغیر میں انگریز سامراج کے دروازے کھول دیے۔ دوسری جنگ آزادی — جنگِ بکسر (1764ء) پس منظر: میر قاسم (نواب بنگال)، شجاع الدولہ (نواب اودھ) اور مغل بادشاہ شاہ عالم دوم نے انگریزوں کے خلاف اتحاد کیا۔ واقعات: بکسر کے میدان میں فیصلہ کن جنگ لڑی گئی، جس میں انگریزوں نے جدید فوجی تربیت اور اسلحے کی بدولت فتح حاصل کی۔ نتیجہ: انگریزوں کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی کے حقوق مل گئے، اور مغل بادشاہ محض علامتی حکمران رہ گیا۔ اہمیت: یہ وہ موڑ تھا جہاں سے انگریزوں کا معاشی اور سیاسی تسلط ناقابلِ واپسی ہوگیا۔ تیسری جنگ آزادی — ٹیپو سلطان کی مزاحمت (1782ء تا 1799ء) پس منظر: میسور کے سلطان ٹیپو، اپنے والد حیدر علی کی وراثت میں ملی ریاست کو انگریزوں سے بچانے کے لیے پرعزم تھے۔ واقعات: چار میسور جنگوں میں انگریزوں اور ان کے حلیفوں (مرہٹہ، حیدرآباد) کے…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات 28.08.2026
  • سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق 27.08.2026
  • قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں 27.08.2026
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی 26.08.2026
  • (بلاعنوان) 26.08.2026
  • درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی 26.08.2026
  • دودھ پینے کی دعا 23.08.2026
  • چین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟ 23.08.2026

حالیہ تبصرے

  • مفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدمات از ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
  • تحریری صلاحیت کیسے بہتر بنائیں؟ از سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق: 10 اہم اسلامی تعلیمات
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی از سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق: 10 اہم اسلامی تعلیمات
  • جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصد از تلاوت و تدبر
  • قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم از تلاوت و تدبر

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

سیرت و شخصیات

ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق
اسلامیات

قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں
Blog سیرت النبی ﷺ

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی
اسلامیات

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
اسلامیات

درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
اسلامیات

دودھ پینے کی دعا

  • hira-online.com
  • اگست 23, 2026
اسلامیات

چین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟

  • hira-online.com
  • اگست 23, 2026
چین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top