ایک یادگار سہ روزہ سفر
۳۱/ اگست ۲۰۲۶
حذیفہ خان
متعلم دار العلوم ندوۃ العلماء
دار العلوم ندوۃ العلماء میں ششماہی تعطیل کا جب وقت قریب ہوا،تو ہمارے علاقہ کے وہ رفقاء جو آنلائن ہفتہ واری ۲ روزہ تجوید کلاس میں ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور قرآن سیکھتے ہیں،انہوں نے یہ تقاضہ رکھا کہ کیا ہی بہتر ہو کہ اگر ان چھٹیوں میں جب آپ وطن واپس ہوں تو ہم سہ روزہ جماعت میں آپ کے ساتھ نکلیں تاکہ ہمیں بھی اس خزانۂ علم و فکر سے کچھ حاصل ہو جس سے آپ دار العلوم میں مستفید ہوتے ہیں،تو اگرچہ مجھے ایک بار کچھ تردد ہوا،کہ تعطیل میں ابھی سے مصروفیت کا پلان۔۔۔۔۔۔،
لیکن پھر اس خیال نے مجھے مہمیز کیا کہ کرم فرما والدین کے حکم پر جو میں نے خدمتِ دین کا عزم مصمم کیا ہے اس میں کیا چھٹی اور کیا مصروفیت،مشغولیت کا تو کوئی تصور نہیں،
بس یہ خیال دفع ہوگیا اور میں نے حامی بھر دی۔
۲۶/ اگست ۲۰۲۶ بروز بدھ کو کلکتہ واپسی ہوئی، بفضل اللہ ۲۸/ اگست ۲۰۲۶ بروز جمعہ کو سہ روزہ جماعت روانہ ہوئی اور شہر کلکتہ سے تقریباً ۲۵ کیلومیٹر دور رشڑا کے نام سے معروف علاقہ میں پہنچی، یہ علاقہ مسلم اور غیر مسلم کی مخلوط آبادی والا ہے، اور کچی مسجد میں ہم سب کاقیام ہوا، اس مسجد سے ہماری ایک قدیم وابستگی یہ بھی تھی کہ تقریباً دس برس کی عمر میں پہلی مرتبہ میں اپنے والد ماجد کے ساتھ اسی مسجد میں جماعت میں آیا تھا اور اب ۱۳ برس کے بعد پھر اسی مسجد میں جماعت میں آنے کا اتفاق ہوا۔
جماعت کے افراد میں نیٹ(NEET) میں کامیابی حاصل کرنے والے دو طلبہ بھی تھے، ظاہر ہے ان کی کیفیت جماعت میں موجود تمام قدیم ساتھیوں سے کچھ الگ تھی،شب و روز کے معمولات سے نا آشنا تھے اس لیے یہ تمام چیزوں کو تنقیدی پیرائے میں ڈال ڈال کر پرکھتے اور بے باکی سے مجھ سے سوال کرتے جو کہ حقیقت تک پہنچنے کا، اپنے دین پر اعتماد و یقین کو بڑھانے کا واحد راستہ ہے، بالخصوص اس زمانہ میں جہاں حق کے مدعیان زیادہ اور مدلل گفتگو کرنے والے اور کاؤنسلنگ کرنے والے کم ہوں۔
بہر حال جماعت کے اصول کے دائرہ میں رہتے ہوئے ضروری سوالوں کا جواب دیتا اور باقی سوالات کو آئندہ کے لیے ملتوی کردیتا، اس سفر میں بقیہ افراد میں کچھ ہمارے وہ قابل احترام حلقہ کے قدیم تبلیغی احباب تھے جنہوں نے میرا بچپن بھی دیکھا ہے۔ گھر سے نکلتے وقت میں نے اپنے خود کی اصلاح کی نیت کو مقدم رکھا-
جب قرآن سیکھنے سکھانے کا حلقہ لگا تو عموما ۱۳ ساتھیوں میں تقریبا ۳ حلقے لگتے ہیں اور ۱۰ سورتیں مشق ہوتی ہیں لیکن امیر صاحب نے طئے کیا کہ ایک ہی حلقہ لگایا جائے اگرچہ سورہ فاتحہ ہی مکمل ہو لیکن صحیح طریقہ سے ہو، حلقہ میں شامل کچھ بزرگوار تھے جن کی عمر ۶۰ کے آس پاس ہوگی وہ "نستعین” کو "نستعیم” پڑھ رہے تھے میں یہ سن کر اس حیرت میں پڑ گیا کہ نہ جانے یہ کب سے اسی طرح پڑھ رہے ہوں گے اور ان کی سابقہ نمازوں پر حکم لگانے کی جرأت کون مفتی صاحب کریں گے۔ جب سنتوں کے مذاکرہ کا حلقہ لگا تو امیر صاحب نے مسائل نہ چھیڑنے کی قید رفع کردی جس کی اجازت عام لوگوں کو نہیں دی جاتی پھر گویا کہ سوالوں کا ایک سیلاب تھا جو بہہ پڑا اور وہ تھما نہیں یہاں تک کہ عشاء کی جماعت کا وقت قریب ہوگیا اور اس نے مجلس کی انتہا کا اعلان کیا۔
یہ حقیقت ہے کہ انسان کو لوگوں سے مل کر، ان کے مابین رہ کر جو تجربہ حاصل ہوتا ہے وہ کتابوں کی ورق گردانی سے نہیں ہوسکتا، اور آپ علیہ السلام کا فرمان عالی ہے "المؤمن یألف ويؤلف ولا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف”۔
اِن ایام میں مختلف لوگوں کے پاس بغرضِ دعوت و ترغیب بھیجا گیا، بعضوں نے غور سے باتوں کو سنا تو بعضوں نے سننے سے بھی اعراض کیا، اور اس سے مجھے ذرا ملال نہ ہوا، میرے سامنے انبیاء کے وہ تمام مکالمے جو ان کی قوموں کے ساتھ ہوئے تھے گردش کرنے لگے۔
آئندہ روز جب ہم قرآن کے حلقہ میں بیٹھے تو ان حضرات کی تلاوت میں غیر معمولی سدھار محسوس ہوا جو میرے لئے تسکینِ قلب کا سامان ہوا اور میری زبان سے بے ساختہ "ما شاء اللہ” "بارک اللہ” جیسے دعائیہ کلمات کا ورد ہونے لگا۔ بالآخر مجھے اس بات کا ادراک ہوا کہ ان کے اندر سیکھنے کا جذبہ تو ہے بس کوئی سکھانے والا ہو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم عمر کے آخری حصوں میں ایمان لاتے اور تعلیم و تعلم میں مشغول ہو جاتے۔
اسلام میں حصولِ علم کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں،البتہ عصر حاضر میں فکر مندی اور خیر خواہانہ جذبہ کے ساتھ بالغان کے لیے تعلیم و تعلم کا سلسلہ ہر مسجد کی سطح پر ضرور ہونا چاہیے، تصحیحِ قرآن کے حلقے قائم ہونا چاہیے،تاکہ خطاب جمعہ سے اگر کسی کو ترغیب ملے اور سیکھنے کا شوق پیدا ہو تو اس کے بعد کے اگلے مرحلہ کے لیے اُسی مسجد میں مشفق عالمِ دین یا قاری قرآن سے یومیہ سیکھنے کا بھر پور موقع ملے،اور پھر ان شاء اللہ خطاب جمعہ کے حقیقی نتائج سامنے آئیں گے،بہت آسانی کے ساتھ اصلاح کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔
اللہ تعالیٰ ان ساتھیوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جن کے تقاضہ پر بندہ نے سہ روزہ وقت لگانے کا ارادہ کیا،اور یہ خوشگوار اور یادگار تین دن گزرے۔
"إن أريد إلا الإصلاح ما استطعت وما توفيقي إلا بالله عليه توكلت وإليه أنيب”۔
حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر
بھوپال کی نواب نواب سکندر بیگم کا سفرنامۂ حج

