*میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاح*

حدیثِ جعفرؓ اور میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا انتظام
بنیادی حدیث اور اس کا پس منظر:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا؛ فَإِنَّهُ قَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ شَغَلَهُمْ” (رواہ الترمذی: 3132)
ترجمہ و مفہوم:
جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا: "جعفر کے اہل و عیال کے لیے کھانے کا انتظام کرو، کیونکہ ان پر ایسا حادثہ گزرا ہے جس کے غم اور تکلیف کی وجہ سے ان کے لیے کھانے وغیرہ کا نظم کرنا ممکن نہیں۔”
احادیث کی روشنی میں اہم شرعی و اصلاحی نکات:
اس حدیثِ مبارکہ سے ہمیں درج ذیل اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں، جن پر توجہ دینا اور ان کے مطابق معاشرے کی اصلاح کرنا انتہائی ضروری ہے:
1: میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام مستحب ہے، لازم نہیں
اعزہ اور پڑوسیوں کے لیے مناسب ہے کہ وہ میت کے گھر والوں کے لیے بقدرِ استطاعت کھانے پینے کا انتظام کریں۔ علماء نے اسے ‘مستحب’ لکھا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اسے لازم سمجھ لیا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض غریب رشتہ داروں کو معاشرتی دباؤ کی وجہ سے قرض کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ شریعت میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے، لہٰذا اسے فرض کا درجہ نہ دیا جائے۔
2. کھانا صرف غم زدہ خاندان کے لیے ہے ضیافت کے لیے نہیں:
یہ انتظام صرف اور صرف میت کے گھر والوں (اہلِ خانہ) کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ نمازِ جنازہ کے تمام شرکاء یا میت کے اطراف و اکناف کے سارے رشتہ داروں کے لیے۔ آج کل دیکھا یہ جا رہا ہے کہ کھانے کے وقت آس پڑوس کے لوگوں اور اعزہ کو باضابطہ بلایا جاتا ہے اور اسے لازم سمجھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کسی صورت درست نہیں ہے کیونکہ اس سے انتظام کرنے والوں پر زبردست مالی بار پڑتا ہے اور وہ بادلِ نخواستہ یہ بوجھ اٹھاتے ہیں۔
میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام کتنے دن کیا جائے؟
میت کے گھر والوں کے لیے یہ عمل صرف ایک دن کے لیے کرنا چاہیے۔ اگرچہ بعض فقہاء نے تین دن تک کی گنجائش بھی دی ہے، لیکن موجودہ معاشرتی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر یہ عمل نام و نمود (دکھاوے) کے لیے کیا جانے لگا ہے، اس لیے ایک دن کا اہتمام ہی بہتر ہے۔
فقہائے کرام کی تصریحات:
علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میت کے پڑوسیوں اور دور کے رشتہ داروں کے لیے مستحب ہے کہ وہ اہلِ میت کے لیے ایک دن اور رات کے پیٹ بھر کھانا تیار کریں (حوالہ: حدیثِ جعفرؓ)۔ لیکن اہلِ میت کی طرف سے لوگوں کی ضیافت (دعوت) کرنا مکروہ ہے، کیونکہ دعوتیں خوشی کے مواقع پر مشروع ہیں، نہ کہ غمی کے موقع پر، اور یہ ایک بری بدعت ہے۔”
ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اہلِ میت کا لوگوں کو جمع کرنے کے لیے کھانا تیار کرنا مکروہ اور بدعت ہے۔” (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز: 4/194)
خلاصہ کلام اور اصل کرنے کے کام:
اس سلسلے میں شریعت نے جو حدود و قیود مقرر کی ہیں، ہمیں انہی تک محدود رہنا چاہیے۔ رسوم و رواج میں الجھنے کے بجائے اصل توجہ درج ذیل امور پر ہونی چاہیے:
میت کے لیے زیادہ سے زیادہ ایصالِ ثواب کیا جائے۔
میت کے ذمے جو مالی حقوق (قرض وغیرہ) ہیں، انہیں ادا کیا جائے۔
ترکہ اور میراث کی شرعی تقسیم کے لیے فوری اور عملی کوشش کی جائے۔
بسا اوقات میت کے اہل خانہ کو تعاون کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس ضرورت مقدم رکھنا چاہیے ۔
افسوس کہ یہ اصل کام مفقود ہو رہے ہیں اور جو کام نہیں کرنے چاہیے تھے، انہیں شریعت کا لازمی حصہ سمجھ کر کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خلاصہ :
1. کیا میت کے اہل خانہ کے لیے کھانا بنانا مستحب ہے؟
جی ہاں، اہل میت غم اور مصیبت کی وجہ سے کھانے کا انتظام نہ کر سکیں تو پڑوسیوں اور رشتہ داروں کا ان کے لیے کھانا تیار کرنا مستحب ہے۔
2. کیا اہل میت لوگوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں؟
اہل میت کی طرف سے لوگوں کو جمع کرکے باقاعدہ دعوت کرنا فقہائے کرام کے نزدیک ناپسندیدہ ہے، خصوصاً جب یہ ایک معاشرتی رسم بن جائے۔
3. کیا جنازے میں شریک تمام لوگوں کے لیے کھانا بنانا ضروری ہے؟
نہیں، شریعت میں جنازے کے شرکاء یا تمام رشتہ داروں کے لیے کھانا تیار کرنا ضروری نہیں۔
4. اہل میت کے لیے کھانے کا اہتمام کتنے دن کیا جائے؟
اصل مقصد اہل میت کی مدد ہے۔ فقہاء نے اس سلسلے میں ایک دن کی تصریح کی ہے، جبکہ بعض اہل علم نے تین دن تک گنجائش ذکر کی ہے۔
5. میت کے انتقال کے بعد اہل خانہ کی مدد کیسے کی جائے؟
کھانے کے انتظام کے ساتھ قرض کی ادائیگی، ضروری اخراجات میں تعاون، میراث کی شرعی تقسیم اور دیگر حقیقی ضروریات میں مدد کرنا زیادہ اہم ہے۔
تحریر:
اکرام احمد ندوی
استاد، المعہد العالی للدراسات الاسلامیہ، لکھنؤ
خواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیت
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

