Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
29.08.2026
Trending News: غیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
29.08.2026
Trending News: غیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

خود شناسی-اہمیت اور تقاضے

  1. Home
  2. خود شناسی-اہمیت اور تقاضے

خود شناسی-اہمیت اور تقاضے

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • مئی 8, 2025
  • 0 Comments

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

اسلام نے خدا شناسی کے ساتھ خود شناسی کو بھی کافی اہمیت دی ہے، بلکہ یہاں تک منقول ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا تو اس کی رسائی خدا تک ہوجاتی ہے، حضرت یحیٰ بن معاذ رازیؒ کے قول کے طورپر اسے نقل کیا گیا ہے کہ ”مَنْ عرفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عرفَ رَبَّہ“ یقیناً یہ حدیث نہیں ہے اور جو لوگ اسے حدیث کے طورپر نقل کرتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں، لیکن اس میں ”عرفان رب“ کے لیے ”عرفان ذات“ پر توجہ مرکوز کرنے کی بات کہی گئی ہے، قرآن کریم میں بھی اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ”وَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ“ عرفان ذات کی منزل سے گذرکر بندہ اس پوزیشن میں آجاتا ہے کہ وہ اعلان کرسکے کہ ”من آنم کہ من دانم“ یعنی میں جو ہوں اپنے کو خوب جانتا ہوں، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے سامنے ان کے ایک مرید نے یہ جملہ کہا تو حضرت نے فرمایا: بڑا دعویٰ کر رہے ہو، کیا تم نے اپنی ذات کو پہچان لیا ہے؟ اگر پہچان لیا ہے تو معرفت رب بھی اس کے نتیجے میں آجائے گا۔

قلب صاف ہو تو خیالات بھی صاف ہوتے ہیں اور دل کے فیصلے کا رخ احکام وہدایات ربانی کی طرف آسانی سے ہوجاتا ہے اور دل غلط فیصلے کر ہی نہیں سکتا، اسی لئے ”اِسْتَفْتَ قَلْبَکَ“ کا حکم دیا گیا کہ فتویٰ اپنے دل سے لو، کیوں کہ وہ غلط نہیں بتائے گا، ایک اور حدیث میں فرمایا گیا کہ ”لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَق“ تمہارے اوپر تمہارا اپنا بھی حق ہے

۔معاملہ اپنی معرفت کا ہو یاحقوق کا، اس کے لیے خود سے جڑن پڑتا ہے، دل کی آواز کو سننا پڑتا ہے، اگر نہ سنیں تو مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے، اس کے برعکس خود سے جڑنے سے اپنے وجود کا احساس ہوتا ہے، ہماری پسند اور چاہت کیا ہے اس کا ادراک ہوتا ہے، پھر اس چاہت کے اہم ہونے کی حقیقت سامنے آتی ہے، ان امور کی ان دیکھی سے خارجی حالات سے آدمی پریشان ہوجاتا ہے، باہری شور کا غلبہ ہوتا ہے، لوگوں کے غیرضروری مشورے اور جھوٹی خبریں انسان کے دل ودماغ کو اس قدر متاثر کرتی ہیں کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی ہے، اس تاثر کا وقتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے کو کمزور محسوس کرنے لگتے ہیں، قوت ارادی ہمارا ساتھ چھوڑنے لگتی ہے، ان حالات سے نبرد آزما اور مقابل ہونے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ آپ اپنی ذات سے جڑییے، اقبال کے تصور خودی کا مرکز ومحور یہی ہے۔

آدمی جب خود شناسی کی منزل سے گذرتا ہے تو خوف کی دنیا سے وہ باہر آجاتا ہے اور صحیح سمت میں آگے بڑھتے رہنے کا راستہ کھلتا ہے، اس کے اوپر باہری شور وغل کا اثر نہیں ہوتا، بلکہ اطمینان قلب کی دولت اسے ملتی ہے، خود کو سمجھنے کی صلاحیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا ہے، اس کی وجہ سے ہمارے لیے ممکن ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوش حال اور خوشگوار زندگی کا آغاز کرسکیں، اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ساری تگ ودو، معاشی مشاغل، الجھنوں اور پریشانیوں سے دور رہ کر تھوڑا وقت خود کو دیجیے، صوفیاء کرام کے یہاں مراقبہ کا جو تصور ہے، اس کی بنیاد یہی ہے کہ انسان تھوڑی دیر جلوت سے نکل کر خلوت اختیار کرے، تاکہ وہ اپنے بارے میں سوچے، اپنی آخرت کے بارے میں سوچے، مراقبہ مابعد الموت اس باب میں بہت مفید ہے، اس احساس کے ساتھ کہ ہمیں اس دنیا کے بعد ایک دوسری دنیا میں جانا ہے، جس میں سارا حساب وکتاب ہوگا اور میں وہاں تنہا ہوں گا، اس دن بھائی بھائی سے، شوہر بیوی اور بیوی شوہر سے، والدین اپنے بچوں سے بھاگتے نظر آئیں گے، حساب وکتاب کا یہ تصور اور فکر آخرت آدمی کو اپنی ذات سے جڑنے کے لیے انتہائی مفید ہے زندگی کی بھاگ دوڑ سے تھوڑا وقت اپنے لیے نکالنا بہت مشکل کام نہیں ہے، آپ اس وقت کا استعمال کائنات کی خاموش آواز سننے میں بھی کر سکتے ہیں، آپ چاہیں تو ہوا اور سناٹوں تک کی سرگوشیاں سن سکتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی بولتے ہیں، شجر وحجر کی گفتگو بھی آپ کو سنائی دے گی کہ وہ کس طرح خالق کائنات کی حمد وثنا میں مشغول ہیں، آپ اس کا بھی ادراک کر سکیں گے کہ کائنات کی ہر چیز عبادت کے مختلف طریقوں کو اپنائے ہوئے ہے، کوئی قیام میں ہے، کوئی قعود میں، کوئی رکوع اور کوئی سجود میں، معرفت کے اس مقام پر پہونچ کر آپ خدا کو بھی پہچاننے لگیں گے اور خدا کی مخلوقات سے بھی آپ کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہوگا، پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ شکریہ کے الفاظ کس قدر طاقت ور ہیں، یہ اللہ کی شکرگذاری تک ہمیں لے جاتے ہیں اور ہمیں ذہنی تناؤ سے نجات حاصل ہوتا ہے، شکریہ صرف ایک رسم نہیں ہے، یہ آپ کے دل کی آواز ہوتی ہے جو جذبات تشکر سے لبریز ہوکر نکلتی ہے اور آپ کو دل کی آواز سننے کے لائق بناتی ہے، اس وقت آپ اپنے دل سے اس کی خواہش پوچھ سکتے ہیں، اپنے جسم کی آواز سن سکتے ہیں، عمل اور رد عمل کی یہ آواز آپ کی خواہش کو شریعت کے مطابق صحیح سمت دینے میں بہت کارگر ہوتی ہے اور اگر اس آواز پر آپ چلنے لگیں تو آپ کی دنیا وآخرت دونوں سنور جاتی ہے۔

اگر آپ اپنے ضمیر کی آواز سننے کو تیار ہوں تو کم از کم ایک ماہ مراقبہ کے ذریعہ اس کی مشق کریں، اپنے اندر واقع ہونے والی تبدیلیوں پر دھیان مرکوز کریں، آپ محسوس کریں گے کہ زندگی کے ایک نئے تجربہ سے آپ گذر رہے ہیں اور یہ تجربہ آپ کو دلی سکون اور اطمینان قلب سے سرشار کر رہا ہے۔

اس مقام کو پانے میں جو رکاوٹ عام طور سے کھڑی ہوتی ہے، وہ ہربات کو اپنے اوپر لے لینا ہے، ہم سب کی کوئی نہ کوئی دکھتی رگ ہوتی ہے، جو دانستہ یانادانستہ طورپر دب جاتی ہے، بات ہماری نہ بھی ہو اور ہدف ہمیں نہ بنایا گیا ہو، تب بھی ہم اسے اپنے اوپر لے لیتے ہیں، ہمارے سامنے کوئی کانا پھسکی کررہا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہمارے بارے میں ہی کچھ کہہ رہا ہے، اگر کوئی ہنس رہا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہم پر ہنس رہا ہے، اس سے دل ودماغ میں انفعالی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور انسان ذہنی انتشار کا شکار ہوجاتا ہے، ہوسکتا ہے کہ آپ کا خیال صحیح ہو اور جان بوجھ کر لوگ آپ ہی کے بارے میں بات کر رہے ہوں، ایسے موقع سے خود پر قابو رکھنا ایک بڑا کام ہے، قابو بھی رکھیے اور اپنی بات سلیقہ سے موقع محل کی رعایت کرتے ہوئے کہہ بھی جایئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ کہا سنی میں اپنا وقت ضائع نہ کریں، سوچ سمجھ کر اپنی بات رکھیں، بَک بَک اور محض گفتگو برائے گفتگو سے پرہیز کریں، بعض لوگ اپنی حاضری درج کرانے کی نفسیات اور نمایاں ہونے کی غرض سے بولنا شروع کرتے ہیں تو بولتے چلے جاتے ہیں، مشورہ کے آداب کے خلاف ایک دوسرے کی باتوں کو کاٹنے لگتے ہیں، جس سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، اس حالت میں بھی خود پر قابو رکھیے، اس لیے کہ بُرائی کا جواب بُرائی سے دینا شریفوں کا کام نہیں ہے، کتے نے کاٹ لیا تو آپ بھی اس کو کاٹ لیں، یہ عقل وشعور سے دور کی بات ہے، یہی وہ مرحلہ ہے جہاں برداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔بہت موقعوں سے آپ کے خیالات کو منتشر کرنے آپ کو نفسیاتی طورپر کمزور کرنے کے لیے خلط مبحث کیا جاتا ہے، بحث کے دوران کبھی غیرشریفانہ الفاظ کا استعمال سامنے والا کرتا ہے، نوبت گالی گلوج تک پہونچ جاتی ہے، لیکن آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ قرآنی حکم ”اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَن“ کو نہ چھوڑیں، بہتر طورپر دفاعی پوزیشن اختیار کیجئے ایک موقع سے راحت اندوری کے کسی شعر پر کسی نے ہوٹنگ کی تو راحت نے اس کے جواب میں صرف اس قدر کہا کہ میں جس مقام پر آج ہوں، یہاں پہونچنے میں مجھے تیس سال لگے، تو کیا میں اپنی تیس سالہ محنت کو ایک غیرشریفانہ عمل کا جواب دینے کی وجہ سے ضائع کردوں، ظاہر ہے کہ ایسا میں نہیں کرسکتا، خود بھی حدوں کو پار نہ کیجیے اور دوسروں کو بھی حد میں رکھنے کی کوشش کیجیے، سامنے والے کی منشا کو سمجھئے، بہت سا کام دوسرے ناسمجھی اور بے شعوری کی وجہ سے کرتے ہیں، ایسا ہے تو عفو ودرگذر سے کام لیجیے، ہرچھوٹی بات پر اپنے رد عمل کا اظہار آپ کی فکر کو منفی رخ دیتا ہے، جس سے آپ کا ہی نقصان ہے، ہر بات کو اپنے اوپر لینے کی ہماری عادت ہے، جسم وجان ہی متأثر نہیں ہوتا؛ بلکہ ہمارے مستقبل پر بھی یہ بڑا اثر ڈالتا ہے، آپ اپنے اوپر کی جانے والی تنقید سے بچ نہیں سکتے، دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہمارے اندر اس کا کچھ عنصر پایا جاتا ہے، اگر پایا جارہا ہے تو اسے دور کرنا چاہیے، اگر نہیں ہے تو اسے پاگل کی بَڑ سمجھ کر نظرانداز کردینا چاہیے، اگر اس کا جواب دینا غور وفکر کے بعد ضروری معلوم ہو تو بھی اس کا انداز منطقی اور سنجیدہ ہونا چاہیے، اگر یہ صفت ہمارے اندر پیدا ہوجائے تو یقینی طورپر ہم بہت سارے دکھ اور شرمندگی سے نجات پاسکتے ہیں، اس سے ہماری خود شناسی کو تقویت ملے گی اور ہم معرفت رب تک پہونچیں گے، جو ہماری زندگی کا مطلوب ومقصود ہے۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

"عید مبارک”
مدارس اسلامیہ ماضی۔، حال اور مستقبل !

Related Posts

ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی
  • hira-online.comhira-online.com
  • ربیع الاول کا پیغام
  • رحمت عالم
  • اگست 21, 2026
  • 1 Comments
ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی

*آپ آئے تو سب کو ملی روشنی* محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔ مدرسہ, نور الاسلام, کنڈہ, پرتاپگڑھ, یوپی 9506600725   یہ ماہ ربیع الاول ہے،اس مہینہ کی بارہ تاریخ کی ایک خاص اہمیت اور مقام ہے ، اس مہینے کی نسبت بہت اونچی ہے،اس نسبت ہی سے اس مہینے کی عظمت و رفعت اور فضیلت و اہمیت بڑھ جاتی ہے، اگر چہ یہ مہینہ اشہر حرم یعنی حرمت کے جو چار مہینے ہیں ،اس میں سے نہیں ہے ۔ وہ نسبت یہ ہے کہ مشہور روایت کے مطابق اسی مہینے کی بارہ تاریخ کو لیکن صحیح روایت کے مطابق نو ربیع الاول کو آقائے مدنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیاسی زمین کی سیرابی کے لئے، سسکتی، بلکتی،دم توڑتی اور مرجھائی انسانیت کو تازہ دم کرنے اور حیات آفریں بخشنے کے لیے،اس دنیا میں تشریف لائے ۔ یہ مہینہ، پوری دنیائے انسانیت کے لئے موسم ربیع اور فصل بہار ہے، کیوں کہ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے پہلے انسانیت پر خزاں، پژمردگی اور بے حسی چھائی ہوئی تھی ہر طرف ظلم و ستم جور و جفااور زیادتیاں عام تھیں ، کون سی برائی تھی، جس کا انسان رسیا اور عادی نہ تھا ۔ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے قبل انسانیت کا خون خود انسان پی رہا تھا *حضرت عیسی علیہ السلام* کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد نبوت سے خالی عرصئہ دراز کی وجہ سے شیطان کو موقع ملا مختلف برائیوں اور بے حیائیوں کی راہیں ہموار کیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا برائی میں ڈوب گئ اور خاص طور پر جزیرہ عرب برائیوں اور بے حیائیوں کا اڈہ اور مرکز بن گیا ۔ حرص و حسد ہوس و نفس پرستی جھوٹ غیبت دھوکہ دہی ظلم و ستم لوٹ مار قتل و غارت گری شراب نوشی بے حیائی، دختر کشی لڑائی جھگڑے جوا قمار اور کوئی بھی ایسی برائی نہ تھی، جو عرب میں نہ پائی جاتی ہو،گویا وہ درندوں سے بدتر ہو چکے تھے۔ شرک و بت پرستی کی آخری حد پر یہ لوگ…

Read more

Continue reading
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • آزادی ہند
  • آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • اگست 14, 2026
  • 0 Comments
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں برصغیر کی آزادی کی داستان محض 1947ء کی ایک تاریخی تبدیلی نہیں بلکہ یہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک مسلسل اور خونچکاں جدوجہد کی تاریخ ہے۔ انگریزوں کے قدم اس سرزمین پر 17ویں صدی کے اوائل میں تجارت کے بہانے پڑے، مگر آہستہ آہستہ ان کا قبضہ سیاسی، فوجی اور معاشی طاقت میں بدل گیا۔ اس قبضے کے خلاف مزاحمت کی کئی لہریں اٹھیں، جو مختلف ادوار میں "جنگ آزادی” یا "تحریک آزادی” کے عنوان سے یاد کی جاتی ہیں۔ ذیل میں ان اہم سنگ میلوں کا تاریخی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی جنگ آزادی — جنگِ پلاسی (1757ء) پس منظر: نواب سراج الدولہ نے بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے تجارتی قلعہ بندیوں پر پابندی لگائی۔ انگریزوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی، جس پر فوجی تصادم ہوا۔ واقعات: پلاسی کے مقام پر جنگ ہوئی۔ میر جعفر سمیت کئی امرا نے غداری کی۔ نتیجہ: نواب کو شکست، انگریزوں کا بنگال پر قبضہ، اور کمپنی کی سیاسی بالادستی کی بنیاد۔ اہمیت: یہ واقعہ انگریز اقتدار کے ابتدائی دور کا نقطۂ آغاز تھا، جس نے آئندہ برصغیر میں انگریز سامراج کے دروازے کھول دیے۔ دوسری جنگ آزادی — جنگِ بکسر (1764ء) پس منظر: میر قاسم (نواب بنگال)، شجاع الدولہ (نواب اودھ) اور مغل بادشاہ شاہ عالم دوم نے انگریزوں کے خلاف اتحاد کیا۔ واقعات: بکسر کے میدان میں فیصلہ کن جنگ لڑی گئی، جس میں انگریزوں نے جدید فوجی تربیت اور اسلحے کی بدولت فتح حاصل کی۔ نتیجہ: انگریزوں کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی کے حقوق مل گئے، اور مغل بادشاہ محض علامتی حکمران رہ گیا۔ اہمیت: یہ وہ موڑ تھا جہاں سے انگریزوں کا معاشی اور سیاسی تسلط ناقابلِ واپسی ہوگیا۔ تیسری جنگ آزادی — ٹیپو سلطان کی مزاحمت (1782ء تا 1799ء) پس منظر: میسور کے سلطان ٹیپو، اپنے والد حیدر علی کی وراثت میں ملی ریاست کو انگریزوں سے بچانے کے لیے پرعزم تھے۔ واقعات: چار میسور جنگوں میں انگریزوں اور ان کے حلیفوں (مرہٹہ، حیدرآباد) کے…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • غیر درسی کتب کا مطالعہ 28.08.2026
  • ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1) 28.08.2026
  • ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات 28.08.2026
  • سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق 27.08.2026
  • قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں 27.08.2026
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی 26.08.2026
  • (بلاعنوان) 26.08.2026
  • درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی 26.08.2026

حالیہ تبصرے

  • سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہ از غیر درسی کتب کا مطالعہ: صحیح طریقہ، ترتیب اور علمی رہنمائی 10
  • مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارف از غیر درسی کتب کا مطالعہ: صحیح طریقہ، ترتیب اور علمی رہنمائی 10
  • سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق از ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)
  • مفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدمات از ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
  • تحریری صلاحیت کیسے بہتر بنائیں؟ از سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق: 10 اہم اسلامی تعلیمات

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

اسلامیات

غیر درسی کتب کا مطالعہ

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
سیرت النبی ﷺ

ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
سیرت و شخصیات

ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق
اسلامیات

قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں
Blog سیرت النبی ﷺ

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی
اسلامیات

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
اسلامیات

درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top