Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
29.08.2026
Trending News: غیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
29.08.2026
Trending News: غیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگالکا قضیہ حقائق کی روشنی میںمیرا مطالعہ

  1. Home
  2. امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگالکا قضیہ حقائق کی روشنی میںمیرا مطالعہ

امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگالکا قضیہ حقائق کی روشنی میںمیرا مطالعہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • مئی 24, 2025
  • 0 Comments


مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال ایک متحرک وفعال تنظیم ہے۔ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد اس کے محرک تھے۔ انہوں نے امارت شرعیہ کا خاکہ تیار کیا ، اکابر علماء، خانقاہوں کے سجادہ نشیں، دانشوران اور مولانا ابوالکلام آزاد سے ملاقات کرکے امارت شرعیہ کے قیام کے لئے راہ ہموار کی۔ اس زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد رانچی میں نظر بند تھے، اس لئے قیام امارت کا معاملہ ٹلتا رہا۔ جب ۱۹۲۰ء میں نظر بندی ختم ہوئی، تو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے ۲۶؍ جون ۱۹۲۱ء کو پٹنہ کے محلہ پتھر کی مسجد میں اس سلسلے کی ایک میٹنگ بلائی۔ مولانا آزاد کے زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے کم وبیش پانچ سو علماء و دانشوران جمع ہوئے اور ۲۶؍جون ۱۹۲۱ء کو امارت شرعیہ بہار واڈیشہ موجودہ امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کا قیام عمل میں آیا۔
موجودہ وقت میں امارت شرعیہ کو ۱۰۰؍ سال پورے ہوچکے ہیں، یہ ملک کا ایک اہم اور باوقار ادارہ ہے، اس نے ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک کی بھی رہنمائی کی ہے۔ اس کا نظام قضاء بہت مقبول ہوا۔ امارت شرعیہ کے نظام قضاء کے مطابق تقریباً پورے ملک میں درالقضاء کاقیام عمل میں آیا اور کام کررہا ہے، جس سے مسلمانوں کو عائلی معاملات کو حل کرنے میں بڑی آسانی ہورہی ہے۔ اس نظام قضاء سے ہندوستان کے علاوہ بہت سے ممالک نے استفادہ کیا ہے، جس کی وجہ سے امارت شرعیہ ،بہار ،اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کی مقبولیت بہت بڑھ گئی ہے۔
امارت شرعیہ کو سمجھنے کے لئے اس کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کا مطالعہ ضروری ہے۔اس لئے امارت شرعیہ کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کے ضروری دفعات کا مطالعہ پیش ہے۔
امارت شرعیہ کا باضابطہ دستور ہے، جس کے مطابق یہ ادارہ چل رہا ہے، اس کے زیر انتظام کئی ادارےقائم کئے گئے، تو ضرورت کے پیش نظر اس کو ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعہ رجسٹرڈ کرادیا گیا، البتہ ٹرسٹ ڈیڈ میں دستور کی نکات کو باقی رکھا گیا، اس طرح ٹرسٹ ڈیڈ میں امارت شرعیہ کے پرانے دستور کی دفعات کو شامل کرتے ہوئے جائیدادوں کی حفاظت کے لئے ٹرسٹیوں کا اضافہ کیا گیا اور امارت شرعیہ کے تمام شعبہ جات کا نگراں امیر شریعت کو قرار دیا گیا۔
امارت شرعیہ کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ ،مجلس عاملہ، مجلس ارباب حل وعقد اور بورڈ آف ٹرسٹیز چار کمیٹیاں ہیں، دستور میں سبھی کے اختیارات کا بھی ذکر ہے۔ دستور وٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق امارت شرعیہ میں سب سے اہم عہدہ امیرشریعت کا ہے، یہ امارت شرعیہ کا سب سے اہم اور بااختیار عہدہ ہے، اس کی وضاحت دستور وٹرسٹ کی دفعہ ۵؍ میں ہے:
دفعہ ۵-امیرشریعت کو نظام امارت شرعیہ میں نقطۂ مرکز کی حیثیت حاصل رہے گی اور ان کا فیصلہ واجب الاطاعت ہوگا۔
دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ میں اوصاف امیر، انتخاب امیر اور عزل امیر کے لئے بھی مکمل رہنمائی موجود ہے۔
اوصاف امیر کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۰- امیر میں حسب ذیل اوصاف لازم ہوں گے۔
(۱) عالم باعمل ہو یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے معانی اور حقائق کا معتدبہ علم رکھتا ہو۔ اغراض ومصالح شریعت اسلامیہ وفقہ اسلامی وغیرہ سے واقف ہو اور احکام شریعت پر عمل پیرا ہو۔
(۲) سیاسیات ہند و سیاسیات عالم اسلامیہ سے واقفیت رکھتا ہو اور حتی الامکان تجربہ سے اکثر صاحب الرائے ثابت ہوچکا ہو۔
(۳) ذاتی قابلیت ووجاہت سے عوام وخواص کے اکثر طبقات کے ایک معتدبہ جماعت پر اس کا اثر ہو۔
(۴) حق گو ،حق شنو اور صاحب عزیمت ہو۔
(۵) فقہی تعبیر میں اس کی ذات ایسی نہ ہو جس سے امارت شرعیہ کا مقصد ختم ہوجائے۔
انتخاب امیر کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۱- جب امیر کا منصب خالی ہو تو تین ماہ کے اندر نئے امیر کا انتخاب لازمی ہے۔
دفعہ ۱۲- انتخاب امیر کا حق مجلس ارباب حل وعقد کو ہوگا۔
دستور و ٹرسٹ میں عزل امیر، وجوہ عزل اور طریقۂ عزل کے لئے بھی رہنمائی درج ہے۔
عزل امیر کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۳- عزل امیر کا اختیار مجلس ارباب حل وعقد کو ہوگا۔
وجوہ عزل کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۴- عزل امیر کے لئے مندرجہ ذیل وجوہ میں سے کسی ایک کا پایا جانا ضروری ہے۔
(۱) امیر شریعت سے خدا نخواستہ کفر بواح کا ظہور ہو، تو خود بخود معزول قرار دیا جائے گا۔
(۲) امیر شریعت کے اعمال میں اس حدتک تغیر ہوجائے کہ محارم متفق علیہا کا ارتکاب کرنے لگے تو مستحق عزل ہوگا اور تنبیہ کے بعد بھی اس سے باز نہ آئے تو معزول کیا جائے گا۔
(۳) اگر امیر شریعت اپنے فرائض کے انجام دہی میں قاصر وعاجز ثابت ہو، بسبب عدم اہلیت یا بسبب غفلت یا بسبب مرض تو اس سے مستحق عزل ہوگا۔
طریقۂ عزل کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۵- عزل امیر کے لئے مندرجہ ذیل طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
(۱) اگر امیر شریعت کے اندر وجوہ عزل پایا جائے اور مجلس شوریٰ امارت شرعیہ کے کل ارکان میں سے کم ازکم دو تہائی اس پر متفق ہوں تو نائب امیر ارباب حل وعقد کا جلسہ طلب کریں، تاکہ عزل امیر پر غور کیا جائے یا اس کے حکم پر ناظم امارت شرعیہ جلسہ بلائیں گے۔
(۲) نائب امیر، مجلس شوریٰ ،امارت شرعیہ بہار ، جھارکھنڈ واڈیشہ کے دو تہائی ارکان کے اتفاق کے باوجود تین ماہ تک مجلس ارباب حل وعقد طلب نہ کریں، تو ان دو تہائی ارکان کو حق ہوگا کہ وہ مجلس ارباب حل وعقد اپنے دستخط سے میٹنگ بلالیں۔
بورڈ آف ٹرسٹیز کے ضمن میں تحریر ہے:
بورڈ آف ٹرسٹیز
(۱) ٹرسٹ اور اس کی جائیداد کا انتظام وانصرام بورڈ آف ٹرسٹیز کے اختیار میں ہوگا۔ امیر شریعت بحیثیت عہدہ بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر ہوں گے۔ بورڈ آف ٹرسٹیز کی تعداد کم سے کم ۱۱؍ اور زیادہ سے زیادہ ۲۱ ؍ ہوگی، جس میں سے امیر شریعت ، نائب امیر شریعت، ناظم امارت شرعیہ، انچارج بیت المال، قاضی امارت شرعیہ اور مفتی امارت شرعیہ بحیثیت عہدہ ٹرسٹی ہوں گے۔ بقیہ حضرات تاحیات ٹرسٹی ہوں گے۔
خلاصہ یہ کہ تمام کمیٹیوں کے اختیارات الگ الگ درج ہیں، تاکہ کسی طرح کا فتنہ برپا نہ ہو۔
امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی کے وصال کے بعد امارت شرعیہ کے امیر کا انتخاب ہونا تھا، اس وقت انتخاب کو لے کر ہنگامی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔ امیرشریعت کے انتخاب کے موقع پر میں بھی اس کی سرگرمیوں میں شریک رہا، اس لئے میں پورے حالات سے واقف ہوں۔ اسی کی روشنی میں چند حقائق پیش ہیں:
(۱) سال ۲۰۲۱ءمیں کورونا کا زور تھا، اسی زمانہ میں مولاسید محمد ولی رحمانی امیر شریعت کا انتقال ہوگیا، کورونا کی شدت کی وجہ سے لاک ڈائون لگا ہوا تھا، اس لئے بروقت امیر شریعت کے انتخاب کی کارروائی شروع نہیں ہوئی، جب انتخاب کی کارروائی شروع ہوئی ،تو امیر شریعت کے دوڑ میں بہت سے چہرےسامنے آرہے تھے۔ تنازع کو ختم کرنے کے لئے اتفاق رائے سے ایک انتخابی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں گیارہ ممبران تھے۔امیر شریعت کے لئے مجوزہ امیدواروں میں ایک ایسے امیدوار کا بھی نام آرہا تھا، جس کے بارے میں لوگ سوشل میڈیا اور پریس میڈیا میں یہ بیان دے رہے تھے کہ امارت شرعیہ کے دستور کے مطابق وہ عالم نہیں ہیں، چونکہ امیر شریعت کے اوصاف میں تحریر ہے کہ امیرشریعت وہی ہوگا جو عالم باعمل ہوگا۔ چنانچہ جب انتخابی کمیٹی کی تشکیل ہوگئی تو انتخابی کمیٹی نے عالم یا غیر عالم کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی بنائی جس میں دونوں گروپ کے علماء شامل تھے۔ علماء کمیٹی نے ان کو عالم تسلیم کیا ، پھر اس کے بعد انہیں انتخاب میں حصہ لینے کا موقع دیا گیا۔ انتخابی کمیٹی نے حالات کے پیش نظر انتخاب کی تیاری کرلی تھی، چونکہ حالات سے ایسا پتہ چل رہا تھا کہ اتفاق رائے سے امیرشریعت کا انتخاب نہیں ہوسکے گا۔ باضابطہ ووٹنگ کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
چنانچہ جب اتفاق رائے سے امیرشریعت کا انتخاب ممکن نہیں ہوسکا تو جمہوری طریقہ پر باضابطہ ووٹنگ کے ذریعہ انتخاب کرایا گیا۔ انتخاب میں ممبران مجلس ارباب حل وعقد نے حصہ لیا۔ ان لوگوں نے بھی حصہ لیا جنہیں ان کے عالم نہ ہونے پر اعتراض تھا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ تمام لوگوں نے ان کو عالم تسلیم کیا، کسی نے انتخاب کی مجلس میں ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ انتخاب میں مولانا احمد ولی فیصل رحمانی منتخب قرار دیئے گئے، تمام لوگوں نے ان کو امیرشریعت مان لیا۔
پھر تین سال کے بعد عجیب اتفاق ہے کہ اسی گروپ کے لوگ جو مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کو امیر شریعت بنانے میں پیش پیش تھے اور وہ لوگ موصوف میں امیر شریعت کے تمام اوصاف دیکھ رہے تھے اور شمار کررہے تھے ، اسی گروپ کے لوگ ان کے خلاف کھڑے ہوگئے اور پھر وہی لوگ ان ہی خرابیوں کا تذکرہ کر کے ہنگامہ برپا کرنے لگے کہ وہ عالم نہیں ہیں اور غیر ملکی ہیں ، جبکہ انتخاب کے وقت اس کا فیصلہ ہوچکاہے ، پھر ٹرسٹ کے چند ممبران کے ساتھ میٹنگ کر کے منتخب امیر شریعت کو معزول بھی کردیا اور دوسرے امیر شریعت کا انتخاب کر کے متوازی امارت شرعیہ کا اعلان بھی کردیا ، جس کا انہیں کوئی اختیار نہ تھا اور نہ ہے۔
آپ نے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کا مطالعہ کیا، منتخب امیر شریعت کو معزول کرنے کی وجوہات کا ذکر امارت شرعیہ کے دستور میں موجود ہے ، معزول کی وجوہات کے ذکر کے بعد معزول کرنےکے طریقہ کا بھی ذکر ہے ۔ دستور و ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق عزل کی وجوہات کی دفعات میں مندرجہ ذیل باتیں تحریر ہیں:
دفعہ۱۴ -عزل امیر کے لئے مندرجہ ذیل وجوہ میں سے کسی ایک کا پایا جانا ضروری ہے:
(۱) امیرشریعت سے خدا نخواستہ کفر بواح کا ظہور ہوتو خود بخود معزول قرار پائے گا۔
(۲) امیر شریعت کے اعمال میں اس حدتک تغیر ہوجائے کے محارم متفق علیہا کا ارتکاب کرنے لگے ،تو مستحق عزل ہوگا اور تنبیہ کے بعد بھی اس سے باز نہ آئے تو معزول کیا جائے گا۔
(۳) اگر امیرشریعت اپنے فرائض کی انجام دہی میں قاصر وعاجز ثابت ہو بہ سبب عدم اہلیت یا بہ سبب غفلت یا بہ سبب مرض تو اس صورت میں مستحق عزل ہوگا۔
پھر اس کے بعد دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ میں عزل کا طریقہ مذکور ہے:
(۱) اگر امیر شریعت کے اندر وجوہ عزل پائے جائیں اور مجلس شوریٰ امارت شرعیہ کے کل ارکان میں سے کم ازکم دو تہائی ارکان اس پر متفق ہوں تو نائب امیر ارباب حل وعقد کا جلسہ طلب کریں گے تاکہ عزل امیر پر غور کیا جائے، یا ان کے حکم پر ناظم امارت شرعیہ جلسہ بلائیں گے۔
(۲) نائب امیر مجلس شوریٰ امارت امارت شرعیہ بہار، جھاکھنڈ واڈیشہ کے دوتہائی ارکان کے اتفاق کے باوجود تین ماہ تک مجلس ارباب حل وعقد طلب نہ کریں تو ان دوتہائی ارکان کو حق ہوگا کہ وہ مجلس ارباب حل وعقدکی میٹنگ اپنے دستخط سے بلائیں ۔
امارت شرعیہ کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کے مذکورہ بالا دفعات سےیہ واضح ہے کہ منتخب امیر شریعت کو معزول کرنے کی وجوہات سے مجلس شوریٰ کے دو تہائی ممبران کا متفق ہونا ضروری ہے،لیکن بورڈ آف ٹرسٹیز کے چند ممبران نے ازخودمنتخب امیرشریعت کو معزول کرکےدوسرے امیرشریعت کو منتخب کرکے اعلان کردیا، جس کا انہیں کوئی اختیار نہیں تھا، بلکہ امیر شریعت کے معزول کرنے کی وجوہات سے مجلس شوریٰ کے دوتہائی ارکان کا متفق ہونا ضروری تھا، پھر مجلس شوریٰ کی دعوت پر مجلس ارباب حل وعقد کو امیرشریعت کو معزول کرنے اور دوسرے امیر شریعت کے انتخاب کا اختیار تھااور ہے ۔ چنانچہ امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کی مجلس شوریٰ کا اجلاس مورخہ ۱۳؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو منعقد ہوا، اس میں استصواب رائے کیا گیا ، جس میں مجلس شوریٰ کے ارکان نے اجلاس میں منتخب امیرشریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی پر اعتماد کا اظہار کیااور ان کے امیر شریعت ہونے کی توثیق کی۔ اس طرح امارت شرعیہ ان کی زیرقیادت اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔
جہاں تک الزامات کی بات ہے ،تو میں نے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چند ممبران کے ذریعہ منتخب امیرشریعت کو معزول کرنے کی وجوہات کا جائزہ لیا، تو اس میں دوباتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عالم نہیں ہیں، دوسرے یہ کہ وہ ہندوستانی شہری نہیں ہیں۔
جہاں تک عالم نہ ہونے کی بات ہے تو اس کے لئے انتخاب سے پہلے علماء کمیٹی نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ وہ عالم ہیں، اس پر موافقین اور مخالفین سبھی کا اتفاق ہوچکا ہے، اس لئے اب اس معاملے کو اٹھانا اتفاق رائے کے خلاف ہے۔
جہاں تک ہندوستانی شہری نہ ہونے کی بات ہے، تو یہ قانونی معاملہ ہے، میں نے اس سلسلے میں کئی اہم ماہرین وکلاء سے مشورے کئے، انہوں نے بتایا کہ امارت شرعیہ ایک این جی او ہے اور این جی او کے عہدیدار ہونے کے لئے ہندوستان کا شہری ہونا ضروری نہیں ہے۔ پھر میں نے او سی آئی قوانین کا مطالعہ کیا ، اس میں اوسی آئی کارڈ ہولڈر کو چند معاملات کو چھوڑ کر ملک کے تمام معاملات میں ہندوستانی شہری کی طرح اختیارات حاصل ہونے کا تذکرہ ہیں۔ اس طرح کے کارڈ ہولڈر کو غیرملکی نہیں کہا جاسکتا ہے۔
یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ ان کی بہت سی باتیں دین وشریعت کے خلاف ہوتی ہیں، تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ میں نے ان ویڈیوز کو سنا ہے، مختلف مسائل میں علماء کے مختلف رائیں ہیں، ان کو سمجھانےکے لئے اختلافات کی نوعیت کو لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے یا عوام کو سمجھانے کے لئے اس طرح کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس طرح کے ویڈیو سے دین سے انحراف واضح نہیں ہوتا ہے اور نہ ثابت ہوتا ہے۔
مذکورہ تجزیہ کی روشنی میں امارت شرعیہ کے منتخب امیر کو مجلس ارباب حل وعقد کے سوا کسی دوسری مجلس کو معزول کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ میرے مطالعہ کے مطابق ان پر لگائے گئے الزامات کی بھی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے، اس لئے امارت شرعیہ کی حفاظت اور اس کے وقار کو برقرار رکھنا ملت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو شر اور فتنے سے حفاظت فرمائے۔

—

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

یہود سے معاہدہ اور نقضِ عہد کی یہودی فطرت وتاریخ
امارت شرعیہ کی مجلس ارباب حل وعقد نے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی امارت اور قیادت میں شرعی زندگی گذارنے کا عہد پیمان کیا.

Related Posts

ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی
  • hira-online.comhira-online.com
  • ربیع الاول کا پیغام
  • رحمت عالم
  • اگست 21, 2026
  • 1 Comments
ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی

*آپ آئے تو سب کو ملی روشنی* محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔ مدرسہ, نور الاسلام, کنڈہ, پرتاپگڑھ, یوپی 9506600725   یہ ماہ ربیع الاول ہے،اس مہینہ کی بارہ تاریخ کی ایک خاص اہمیت اور مقام ہے ، اس مہینے کی نسبت بہت اونچی ہے،اس نسبت ہی سے اس مہینے کی عظمت و رفعت اور فضیلت و اہمیت بڑھ جاتی ہے، اگر چہ یہ مہینہ اشہر حرم یعنی حرمت کے جو چار مہینے ہیں ،اس میں سے نہیں ہے ۔ وہ نسبت یہ ہے کہ مشہور روایت کے مطابق اسی مہینے کی بارہ تاریخ کو لیکن صحیح روایت کے مطابق نو ربیع الاول کو آقائے مدنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیاسی زمین کی سیرابی کے لئے، سسکتی، بلکتی،دم توڑتی اور مرجھائی انسانیت کو تازہ دم کرنے اور حیات آفریں بخشنے کے لیے،اس دنیا میں تشریف لائے ۔ یہ مہینہ، پوری دنیائے انسانیت کے لئے موسم ربیع اور فصل بہار ہے، کیوں کہ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے پہلے انسانیت پر خزاں، پژمردگی اور بے حسی چھائی ہوئی تھی ہر طرف ظلم و ستم جور و جفااور زیادتیاں عام تھیں ، کون سی برائی تھی، جس کا انسان رسیا اور عادی نہ تھا ۔ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے قبل انسانیت کا خون خود انسان پی رہا تھا *حضرت عیسی علیہ السلام* کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد نبوت سے خالی عرصئہ دراز کی وجہ سے شیطان کو موقع ملا مختلف برائیوں اور بے حیائیوں کی راہیں ہموار کیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا برائی میں ڈوب گئ اور خاص طور پر جزیرہ عرب برائیوں اور بے حیائیوں کا اڈہ اور مرکز بن گیا ۔ حرص و حسد ہوس و نفس پرستی جھوٹ غیبت دھوکہ دہی ظلم و ستم لوٹ مار قتل و غارت گری شراب نوشی بے حیائی، دختر کشی لڑائی جھگڑے جوا قمار اور کوئی بھی ایسی برائی نہ تھی، جو عرب میں نہ پائی جاتی ہو،گویا وہ درندوں سے بدتر ہو چکے تھے۔ شرک و بت پرستی کی آخری حد پر یہ لوگ…

Read more

Continue reading
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • آزادی ہند
  • آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • اگست 14, 2026
  • 0 Comments
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں برصغیر کی آزادی کی داستان محض 1947ء کی ایک تاریخی تبدیلی نہیں بلکہ یہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک مسلسل اور خونچکاں جدوجہد کی تاریخ ہے۔ انگریزوں کے قدم اس سرزمین پر 17ویں صدی کے اوائل میں تجارت کے بہانے پڑے، مگر آہستہ آہستہ ان کا قبضہ سیاسی، فوجی اور معاشی طاقت میں بدل گیا۔ اس قبضے کے خلاف مزاحمت کی کئی لہریں اٹھیں، جو مختلف ادوار میں "جنگ آزادی” یا "تحریک آزادی” کے عنوان سے یاد کی جاتی ہیں۔ ذیل میں ان اہم سنگ میلوں کا تاریخی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی جنگ آزادی — جنگِ پلاسی (1757ء) پس منظر: نواب سراج الدولہ نے بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے تجارتی قلعہ بندیوں پر پابندی لگائی۔ انگریزوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی، جس پر فوجی تصادم ہوا۔ واقعات: پلاسی کے مقام پر جنگ ہوئی۔ میر جعفر سمیت کئی امرا نے غداری کی۔ نتیجہ: نواب کو شکست، انگریزوں کا بنگال پر قبضہ، اور کمپنی کی سیاسی بالادستی کی بنیاد۔ اہمیت: یہ واقعہ انگریز اقتدار کے ابتدائی دور کا نقطۂ آغاز تھا، جس نے آئندہ برصغیر میں انگریز سامراج کے دروازے کھول دیے۔ دوسری جنگ آزادی — جنگِ بکسر (1764ء) پس منظر: میر قاسم (نواب بنگال)، شجاع الدولہ (نواب اودھ) اور مغل بادشاہ شاہ عالم دوم نے انگریزوں کے خلاف اتحاد کیا۔ واقعات: بکسر کے میدان میں فیصلہ کن جنگ لڑی گئی، جس میں انگریزوں نے جدید فوجی تربیت اور اسلحے کی بدولت فتح حاصل کی۔ نتیجہ: انگریزوں کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی کے حقوق مل گئے، اور مغل بادشاہ محض علامتی حکمران رہ گیا۔ اہمیت: یہ وہ موڑ تھا جہاں سے انگریزوں کا معاشی اور سیاسی تسلط ناقابلِ واپسی ہوگیا۔ تیسری جنگ آزادی — ٹیپو سلطان کی مزاحمت (1782ء تا 1799ء) پس منظر: میسور کے سلطان ٹیپو، اپنے والد حیدر علی کی وراثت میں ملی ریاست کو انگریزوں سے بچانے کے لیے پرعزم تھے۔ واقعات: چار میسور جنگوں میں انگریزوں اور ان کے حلیفوں (مرہٹہ، حیدرآباد) کے…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • غیر درسی کتب کا مطالعہ 28.08.2026
  • ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1) 28.08.2026
  • ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات 28.08.2026
  • سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق 27.08.2026
  • قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں 27.08.2026
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی 26.08.2026
  • (بلاعنوان) 26.08.2026
  • درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی 26.08.2026

حالیہ تبصرے

  • سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہ از غیر درسی کتب کا مطالعہ: صحیح طریقہ، ترتیب اور علمی رہنمائی 10
  • مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارف از غیر درسی کتب کا مطالعہ: صحیح طریقہ، ترتیب اور علمی رہنمائی 10
  • سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق از ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)
  • مفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدمات از ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
  • تحریری صلاحیت کیسے بہتر بنائیں؟ از سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق: 10 اہم اسلامی تعلیمات

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

اسلامیات

غیر درسی کتب کا مطالعہ

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
سیرت النبی ﷺ

ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
سیرت و شخصیات

ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق
اسلامیات

قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں
Blog سیرت النبی ﷺ

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی
اسلامیات

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
اسلامیات

درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top