بیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیمات

از :  مولانا آدم علی ندوی

بیمار پرسی کی فضیلت اور مریض کی عیادت کے اسلامی آداب
بیمار پرسی کی فضیلت، مریض کی عیادت کے اسلامی آداب، احادیث، دعائیں اور اجر و ثواب جانیں۔ بیماری کے وقت مریض کو حوصلہ دینے کا بہترین طریقہ بھی پڑھیں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بیمار پرسی کی فضیلت صرف ایک معاشرتی رسم نہیں بلکہ اسلامی اخوت، ہمدردی اور حسنِ اخلاق کا اہم حصہ ہے؟ کیا ہمارے معاشرے میں آج بھی لوگ اپنے بیمار پڑوسیوں، رشتہ داروں اور دوستوں کی اسی طرح خبر گیری کرتے ہیں جس طرح اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے؟

آج زندگی کی مصروفیات، مادی مشاغل اور اپنی ذات میں سمٹ جانے کی عادت نے ہمیں ایک دوسرے سے بہت دور کر دیا ہے۔ لوگوں کے پاس ایک دوسرے سے ملنے، حال پوچھنے اور دکھ درد میں شریک ہونے تک کی فرصت کم ہوتی جا رہی ہے۔

پڑوس میں کون بیمار ہے، کس گھر میں کوئی بوڑھا تنہائی کے عالم میں زندگی گزار رہا ہے، کس رشتہ دار کی طبیعت ناساز ہے اور کس شناسا کو کسی سہارے کی ضرورت ہے، بسا اوقات ہمیں اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔

حالانکہ اسلام نے مسلمانوں کے درمیان محبت، ہمدردی اور باہمی تعاون کو بہت اہمیت دی ہے۔ مریض کی عیادت اسی اسلامی معاشرت کا ایک خوب صورت حصہ ہے۔

بیمار پرسی کی فضیلت اور اسلامی معاشرت

ہم اس دین کے ماننے والے ہیں جس نے اخوت و بھائی چارے کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اسلامی معاشرت کی بنیاد باہمی ہمدردی، خیر خواہی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شرکت پر رکھی گئی ہے۔

بیماری انسان کی زندگی کا ایسا مرحلہ ہے جب اسے صرف دوا ہی نہیں بلکہ محبت، توجہ، حوصلے اور دعا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

ذرا سوچیے! آپ کے پڑوس میں کتنے بوڑھے ایسے ہوں گے جو بیماری کے بستر پر کسی اپنے کے منتظر ہوں گے۔ کتنے مریض ایسے ہوں گے جنہیں دوا کے ساتھ دو بول محبت کی ضرورت ہوگی۔

کچھ لوگ جسمانی تکلیف کے ساتھ تنہائی کی اذیت بھی برداشت کرتے ہیں۔ ایسے میں کسی کا صرف اتنا پوچھ لینا کہ "اب طبیعت کیسی ہے؟” ان کے دل کے لیے مرہم بن سکتا ہے۔

اس لیے کسی بیمار کے گھر چند منٹ کے لیے جانا بظاہر معمولی عمل ہے، لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہوسکتے ہیں۔

بیمار کی عیادت مسلمان کے حقوق میں سے ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی عیادت کو مسلمان کے مسلمان پر حقوق میں شمار فرمایا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینکنے والے کو دعا دینا۔”»

(صحیح البخاری، کتاب الجنائز، حدیث: 1240)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عیادتِ مریض محض ایک اختیاری معاشرتی رسم نہیں، بلکہ اسلامی بھائی چارے کا اہم تقاضا ہے۔

مسلمان جب اپنے بیمار بھائی کی خبر گیری کرتا ہے تو وہ صرف ایک بیمار انسان کی مدد نہیں کرتا بلکہ اسلامی اخوت کے ایک اہم حق کو ادا کرتا ہے۔

بیمار پرسی کی فضیلت: اجر و ثواب

اسلام میں کوئی نیکی معمولی نہیں، خاص طور پر وہ عمل جس سے کسی انسان کے دل کو سکون پہنچے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی عیادت کرنے والے کے لیے عظیم اجر بیان فرمایا:

«”جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے، وہ واپس آنے تک جنت کے باغ کے پھلوں میں رہتا ہے۔”»

(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، حدیث: 2568)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ چند منٹ کے لیے کسی بیمار کے پاس جانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس قدر قیمتی عمل ہوسکتا ہے۔

ہم دنیاوی فائدے کے لیے میلوں سفر کرتے ہیں، کاروباری ملاقاتوں کے لیے گھنٹوں وقت نکالتے ہیں اور اپنے بہت سے کاموں کے لیے مصروفیات سے وقت نکال لیتے ہیں، لیکن کبھی کسی بیمار کی چارپائی تک پہنچنے کے لیے چند منٹ نکالنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔

حالانکہ بیمار پرسی کی فضیلت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آخرت کی کامیابی کے لیے بعض اوقات بہت چھوٹے دکھائی دینے والے اعمال بھی بڑے سرمایہ بن جاتے ہیں۔

بیمار کی عیادت پر فرشتوں کی دعائیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مریض کی عیادت کے عظیم اجر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص صبح کسی مسلمان مریض کی عیادت کرتا ہے، اس کے لیے شام تک ستر ہزار فرشتے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں، اور جو شخص شام کے وقت عیادت کرتا ہے، اس کے لیے صبح تک ستر ہزار فرشتے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ مقرر کردیا جاتا ہے۔

(جامع الترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء في عیادة المريض، حدیث: 969)

یہ فضیلت انسان کو اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ مریض کی خبر گیری کو معمولی کام سمجھ کر نظر انداز نہ کرے۔

قیامت کے دن بیمار پرسی کی اہمیت

بیمار کی عیادت کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے بھی ہوتا ہے جس میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے سے خطاب کا ذکر ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے:

«”اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی۔”»

بندہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں تیری عیادت کیسے کرتا جبکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے؟

اللہ تعالیٰ فرمائیں گے:

«”کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا؟”» (صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، حدیث: 2569)

اس حدیث کا مفہوم انتہائی مؤثر ہے۔ مریض کی چارپائی تک پہنچنا دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش ہے۔

بیمار کے پاس بیٹھنا، اس کا حال پوچھنا، اس کے لیے دعا کرنا اور اس کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش کرنا ایسا عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی رضا سے وابستہ فرماتے ہیں۔

بیمار پرسی کے 10 اہم اسلامی آداب

بیمار کی عیادت یقیناً باعثِ اجر ہے، لیکن اس کے بھی کچھ آداب ہیں۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مریض کو راحت، حوصلہ اور محبت ملے، نہ کہ مزید زحمت اور پریشانی۔

1. مریض کی اجازت اور حالت کا خیال رکھیں

اگر معلوم ہو کہ مریض آرام کر رہا ہے یا ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا ہے تو اس کی کیفیت کا لحاظ کریں۔

ضروری نہیں کہ ہر حال میں طویل ملاقات کی جائے۔ کبھی مختصر ملاقات زیادہ مفید ہوتی ہے۔

2. زیادہ دیر تک نہ بیٹھیں

عیادت کا مقصد مریض کو راحت پہنچانا ہے، زحمت دینا نہیں۔

مریض جسمانی کمزوری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اس لیے مختصر وقت کے لیے بیٹھنا اور مناسب وقت پر واپس آ جانا بہتر ہے۔

3. مایوسی کی باتیں نہ کریں

مریض کے سامنے بیماری کی خوف ناک تفصیلات بیان نہ کریں۔

یہ نہ کہیں کہ فلاں شخص بھی اسی بیماری میں مبتلا ہوا تھا اور پھر صحت یاب نہ ہوسکا۔ ایسی گفتگو مریض کے ذہن میں خوف اور مایوسی پیدا کرسکتی ہے۔

مریض کو امید، حوصلے اور مثبت گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے۔

4. حوصلہ دینے والے کلمات کہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مریض کی عیادت فرماتے تو حوصلہ دینے والے کلمات ارشاد فرماتے:

لَا بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

یعنی:

"کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ بیماری پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔”


حیح البخاری، کتاب المرضى، حدیث: 5662)

یہ مختصر جملہ مریض کے دل میں امید پیدا کرتا ہے اور اسے بیماری کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش سمجھتے ہوئے صبر کی ترغیب دیتا ہے۔

5. مریض کے لیے دعا کریں

بیمار پرسی کا سب سے قیمتی تحفہ دعا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے لیے یہ دعا فرماتے:

أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا۔

ترجمہ:

"اے لوگوں کے رب! تکلیف دور فرما، شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں؛ ایسی شفا عطا فرما جو کسی بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔”

(صحیح البخاری، کتاب المرضى، حدیث: 5675)

ایک دوسری دعا بھی منقول ہے:

أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ

ترجمہ:

"میں عظمت والے اللہ، عرش عظیم کے رب سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے۔”

(جامع الترمذی، کتاب الطب، حدیث: 2083)

6. مریض کی بیماری کو موضوعِ گفتگو نہ بنائیں

عیادت کے دوران مریض سے بار بار اس کی بیماری کی تفصیلات پوچھنا مناسب نہیں۔

اگر وہ خود بات کرنا چاہے تو توجہ سے سنیں، لیکن غیر ضروری سوالات سے گریز کریں۔

7. علاج یا دوا کے بارے میں غیر ضروری مشورے نہ دیں

ہر بیماری کا علاج الگ ہوتا ہے۔ اس لیے اپنی ذاتی معلومات یا کسی دوسرے مریض کے تجربے کو لازماً علاج کا معیار نہ بنائیں۔

مریض اور اس کے گھر والوں کو ایسی باتوں سے بچائیں جو ان کے لیے مزید الجھن کا سبب بنیں۔

8. صرف بیمار ہی نہیں، اس کے گھر والوں کا بھی خیال رکھیں

طویل بیماری میں صرف مریض ہی نہیں بلکہ اس کے گھر والے بھی ذہنی اور جسمانی تھکن کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اگر ممکن ہو تو ان سے پوچھیں کہ کسی دوا، کھانے یا دوسری ضرورت میں مدد تو درکار نہیں۔

9. بیماری لمبی ہو تو دوبارہ خبر لیتے رہیں

بیمار پرسی کا مطلب یہ نہیں کہ صرف ایک مرتبہ گھر جاکر ذمہ داری ختم ہوگئی۔

اگر بیماری طویل ہوجائے تو کبھی فون کرکے حال پوچھ لیجیے، پیغام بھیج دیجیے یا موقع ملنے پر دوبارہ ملاقات کرلیجیے۔

بسا اوقات مسلسل بیماری میں ایک مختصر فون کال بھی مریض کے لیے بڑی خوشی کا سبب بن جاتی ہے۔

10. عیادت میں اخلاص اور اللہ کی رضا مقصود ہو

بیمار پرسی کسی دکھاوے، شہرت یا معاشرتی رسم کے طور پر نہیں ہونی چاہیے۔

اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، مسلمان بھائی کے حق کی ادائیگی، ہمدردی اور انسانی خیر خواہی ہونا چاہیے۔

نبی کریم ﷺ اور غیر مسلم مریض کی عیادت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا دائرہ بہت وسیع تھا۔

صحیح بخاری میں ایک یہودی لڑکے کا واقعہ ملتا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سرہانے بیٹھے اور اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس لڑکے نے اپنے والد کی اجازت سے اسلام قبول کرلیا۔

(صحیح البخاری، کتاب المرضى، حدیث: 5657)

یہ واقعہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ اخلاق، رحمت اور انسانوں کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتا ہے۔

بیمار انسان کو اس کی بیماری کے وقت تسلی دینا، اس کی خبر گیری کرنا اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اسلامی اخلاق کی خوب صورت مثال ہے۔

آج کے معاشرے میں بیمار پرسی کی ضرورت

آج ہمارے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ موبائل فون، پیغامات اور سوشل میڈیا نے ایک دوسرے سے رابطہ بہت آسان کردیا ہے۔

لیکن عجیب صورت حال یہ ہے کہ رابطے کے ذرائع بڑھنے کے باوجود دلوں کے درمیان فاصلے بھی بڑھتے جارہے ہیں۔

کسی بیمار کو ایک پیغام بھیج دینا آسان ہے، لیکن اس کے گھر جاکر چند منٹ اس کے پاس بیٹھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔

ہمیں اس رویے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنے پڑوس کی خبر لیجیے۔ اپنے بوڑھے رشتہ داروں کو یاد کیجیے۔ کسی بیمار دوست کو فون کیجیے۔ موقع ملے تو خود اس کی عیادت کے لیے جائیے۔

اس کے پاس بیٹھ کر محبت کے دو بول کہیے، اس کے لیے دعا کیجیے اور اگر ممکن ہو تو اس کی کوئی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کیجیے۔

بیمار پرسی صرف ایک ملاقات نہیں

  • بیمار پرسی کا اصل مقصد صرف مریض کے پاس حاضری لگانا نہیں بلکہ اس کے دل کو سہارا دینا ہے۔
  • کسی مریض کے لیے آپ کی مختصر سی حاضری امید بن سکتی ہے۔
  • کسی تنہا بوڑھے کے لیے آپ کی چند منٹ کی گفتگو خوشی کا سبب بن سکتی ہے۔
  • کسی پریشان خاندان کے لیے آپ کی چھوٹی سی مدد بہت بڑی نعمت بن سکتی ہے۔
  • اسی لیے عیادت کو صرف ایک معاشرتی رسم نہ بنائیں بلکہ اسے عبادت، ہمدردی اور انسانی خیر خواہی کا ذریعہ بنائیں۔

اختتامیہ: بیمار پرسی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں

ہمیں اپنے معاشرے میں بیمار پرسی کے اس خوب صورت اسلامی مزاج کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

آج سے یہ معمول بنائیے کہ اگر کسی پڑوسی، رشتہ دار، دوست یا شناسا کی بیماری کا علم ہو تو حسبِ استطاعت اس کی خبر ضرور لیں۔

چند منٹ نکالیے، اس کے گھر جائیے، اس کے پاس بیٹھ کر حال دریافت کیجیے، اس کے لیے دعا کیجیے اور اگر کسی مدد کی ضرورت ہو تو اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کیجیے۔

یاد رکھیے، بیمار پرسی کی فضیلت صرف اس اجر میں نہیں کہ فرشتے دعائیں کرتے ہیں یا آخرت میں اس کا بدلہ ملے گا، بلکہ اس میں ایک بیمار انسان کے دل کو امید، محبت اور حوصلہ دینا بھی شامل ہے۔

کیا معلوم آپ کی یہ معمولی سی کوشش کسی ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے دے۔

کیا خبر آپ کی چند منٹ کی ملاقات کسی مایوس مریض کے اندر جینے کی امید پیدا کردے۔

کیا معلوم آپ کی حاضری کسی تنہا بوڑھے کی آنکھوں میں خوشی لے آئے۔

اور کیا خبر، یہی بظاہر چھوٹا سا عمل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سبب بن جائے۔

اس لیے اپنے معاشرے میں محبت، ہمدردی اور اسلامی اخوت کو زندہ کیجیے اور بیمار پرسی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے۔


وسوسہ کی بیماری اور اس کا علاج


صبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیں


دعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقات