اسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغام
🖋 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
SEO Editor / ترتیب و پیشکش: اسجد حسن ندوی

آج کل شہروں میں چڑیا گھر (Zoo Park) بنے ہوتے ہیں۔ ان کی تزئین و آرائش، حفاظت اور جانوروں کی دیکھ بھال پر بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ رنگ برنگے پھول، ہرے بھرے درخت، پانی کی جھیلیں اور جانوروں کے لیے الگ الگ محفوظ احاطے اس ماحول کو خوب صورت بناتے ہیں۔ جانوروں کو وقت پر غذا ملتی ہے، علاج کے لیے ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں اور شکاریوں سے بھی انہیں تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
ظاہری سہولتوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو چڑیا گھر کے جانوروں کو بہت سی ایسی آسائشیں حاصل ہوتی ہیں جو شاید جنگل میں بھی میسر نہ ہوں۔ لیکن اگر وہ جانور اپنی دلی خواہش کا اظہار کر سکتے تو ممکن ہے ان کی سب سے بڑی آرزو یہ ہوتی کہ انہیں اس خوب صورت مگر محدود ماحول سے نکال کر آزاد فضا میں چھوڑ دیا جائے۔
جنگل میں انہیں اپنی غذا کے لیے جد و جہد کرنا ہوگی، خطرات کا سامنا کرنا ہوگا اور ہر وقت تحفظ بھی حاصل نہیں ہوگا، لیکن وہاں وہ آزاد ہوں گے۔ وہ اپنی مرضی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں گے اور کسی مصنوعی حصار میں قید نہیں ہوں گے۔
یہ مثال انسان کی فطرت کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ جب ایک حیوان بھی قید کے مقابلے میں آزادی کو ترجیح دیتا ہے تو انسان، جسے اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور عطا فرمایا ہے، آزادی کی قدر کو کیوں نہ سمجھے؟
اسی پس منظر میں اسلام اور تصورِ آزادی کا مطالعہ نہایت اہم ہوجاتا ہے۔ اسلام نے انسان کی عزت، مساوات، انسانی وحدت اور آزادی کے ایسے اصول پیش کیے جنہوں نے انسانی معاشرے میں غلامی، طبقاتی تفاخر اور نسلی برتری کے تصورات کو چیلنج کیا۔
آزادی انسانی فطرت کا تقاضا ہے
انسان بنیادی طور پر آزادی پسند مخلوق ہے۔ قید و بند کی زندگی کتنی ہی سہولتوں سے آراستہ کیوں نہ ہو، انسان آزاد فضا کی خواہش ضرور رکھتا ہے۔
جیل خانوں میں قیدیوں کی بہت سی بنیادی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ انہیں کھانا، لباس، رہائش اور بعض ضروری سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ہر قیدی آزادی اور رہائی کا خواہش مند ہوتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آزادی محض معاشی سہولت یا آرام کا نام نہیں۔ انسان کے لیے اپنی مرضی سے جائز زندگی گزارنے، اپنے فیصلے کرنے اور ظلم و جبر سے محفوظ رہنے کا حق بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
دنیا کی تاریخ میں بہت سی قوموں نے غلامی اور محکومی سے نجات کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ جان و مال، گھر بار اور کبھی اپنی عزت و آرام تک قربان کیے گئے۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ آزادی انسانی فطرت کے اہم تقاضوں میں سے ایک ہے۔
اسلام اور تصورِ آزادی کا بنیادی اصول
اسلام نے انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف بلایا۔ قرآن مجید نے انسان کی عزت و تکریم کو بنیادی اصول قرار دیا اور رسول اللہ ﷺ نے انسانی مساوات کا واضح پیغام دیا۔
حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے انسانی مساوات اور تقویٰ کی بنیاد پر فضیلت کا اعلان فرمایا۔ آپ ﷺ نے واضح کیا کہ کسی عرب کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عرب پر کوئی نسلی فضیلت نہیں، فضیلت کا اصل معیار تقویٰ ہے۔
یہ تعلیم انسانی برتری کے ان تمام مصنوعی پیمانوں کو ختم کرتی ہے جو نسل، خاندان، زبان، رنگ، علاقہ یا دولت کی بنیاد پر انسانوں کو ایک دوسرے سے بلند یا پست قرار دیتے ہیں۔
اسلام کے نزدیک انسان کی اصل عزت اس کے انسان ہونے میں ہے، جبکہ دینی فضیلت کا معیار ایمان اور تقویٰ ہے۔
1۔ توحید اور انسانی آزادی
اسلام کے تصورِ آزادی کو سمجھنے کے لیے عقیدۂ توحید کو سمجھنا ضروری ہے۔
توحید کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے؛ بلکہ اس کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے جیسے انسانوں کے سامنے غیر ضروری غلامی اور بندگی سے آزاد ہو۔
جب انسان یہ یقین رکھتا ہے کہ حقیقی مالک، حاکم اور معبود صرف اللہ تعالیٰ ہے تو وہ کسی انسان کو خدا کا درجہ دینے، اس کے سامنے مطلق غلامی اختیار کرنے یا ظلم کو حق سمجھنے سے محفوظ رہتا ہے۔
اسی لیے اسلامی تعلیمات نے انسانی عزت اور آزادی کو توحید کے وسیع تر تصور سے جوڑا۔
2۔ انسانی مساوات اسلام کی بنیادی تعلیم ہے
اسلام نے انسانی معاشرے کو رنگ، نسل، خاندان اور طبقے کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بجائے انسانوں کی بنیادی مساوات کا تصور پیش کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبۂ حجۃ الوداع میں انسانوں کو ایک دوسرے کی برتری کے مصنوعی دعووں سے نکال کر تقویٰ کو معیار بنایا۔
یہ تعلیم اس دور کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی جب نسب، قبیلہ، رنگ اور سماجی حیثیت کی بنیاد پر انسانوں کے مقام کا تعین کیا جاتا تھا۔
اسلام نے واضح کیا کہ کسی انسان کو محض اس کے خاندان، دولت یا نسل کی وجہ سے دوسروں پر فوقیت حاصل نہیں۔
3۔ غلامی کے خاتمے کی طرف عملی رہنمائی
اسلام جس معاشرے میں آیا، وہاں غلامی ایک معروف عالمی نظام تھا۔ مختلف تہذیبوں اور معاشروں میں جنگی قیدیوں اور کمزور لوگوں کو غلام بنانا عام تھا۔
اسلام نے غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک، ان کی آزادی کی ترغیب اور مختلف مواقع پر غلام آزاد کرنے کو نیکی اور کفارے کا ذریعہ قرار دیا۔
قرآن و حدیث میں غلام آزاد کرنے کی متعدد ترغیبات ملتی ہیں۔ اس طرح اسلامی تعلیمات نے غلامی کے ماحول میں انسانی آزادی اور انسانی عزت کے اصول کو مضبوط کیا۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام اور تصورِ آزادی کا مطالعہ صرف نظری بحث نہیں بلکہ عملی انسانی اصلاح کے پہلو سے بھی اہم ہے۔
4۔ اسلام میں حکمران بھی قانون کے تابع ہے
اسلامی تاریخ میں انسانی مساوات کی ایک اہم مثال یہ ہے کہ حکمران کو بھی قانون اور عدل سے بالاتر نہیں سمجھا گیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کا ایک مشہور واقعہ اس سلسلے میں بیان کیا جاتا ہے۔ مصر کے ایک قبطی شخص نے شکایت کی کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے اسے مارا اور اپنے نسب کی بنیاد پر برتری جتائی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معاملے کی تحقیق کی اور ظلم کا ازالہ کیا۔ اسی موقع پر ان سے منسوب مشہور جملہ نقل کیا جاتا ہے:
"تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا، حالاں کہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟”
یہ جملہ اسلامی عدل اور انسانی وقار کے تصور کی بڑی خوب صورت ترجمانی کرتا ہے۔
اس واقعے کا بنیادی سبق یہ ہے کہ کسی انسان کو اس کے منصب، خاندان یا طاقت کی بنیاد پر دوسرے انسان پر ظلم کرنے کا حق حاصل نہیں۔
5۔ اسلام میں آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے
اسلام آزادی کا قائل ہے، لیکن ایسی آزادی کا نہیں جو دوسروں کے حقوق پامال کرے۔
اسلامی تصور میں انسان کو اختیار حاصل ہے، مگر اس اختیار کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے۔ انسان اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا خواہش مند ہو سکتا ہے، لیکن اسے دوسروں کی جان، مال، عزت اور حقوق کا احترام بھی کرنا ہوگا۔
اسی لیے اسلامی آزادی کو ذمہ دار آزادی کہا جا سکتا ہے۔
ایسی آزادی میں انسان ظلم سے محفوظ رہتا ہے، لیکن خود ظالم بننے کا حق بھی نہیں رکھتا۔ اسے اپنی خواہشات پوری کرنے کی اجازت ہے، لیکن دوسروں کے حقوق تلف کرکے نہیں۔
افلاطون اور ارسطو کے تصوراتِ معاشرہ
قدیم یونانی فلسفے میں افلاطون اور ارسطو کو سیاسی فکر کے اہم مفکرین میں شمار کیا جاتا ہے۔ افلاطون کی کتاب Republic میں ایک مخصوص طبقاتی سماجی تصور ملتا ہے جس میں معاشرے کے مختلف طبقات کے الگ الگ کردار بیان کیے گئے ہیں۔
اسی طرح ارسطو کی تحریروں میں بھی قدیم معاشرے کے طبقاتی نظام اور غلامی کے بارے میں ایسے تصورات ملتے ہیں جو آج کے انسانی مساوات کے تصور سے مختلف ہیں۔
یہ تاریخی پس منظر اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ انسانی مساوات اور آزادی کا تصور مختلف ادوار میں ایک جیسا نہیں رہا۔
اسلام نے انسان کی بنیادی تکریم اور تقویٰ کی بنیاد پر فضیلت کا جو اصول پیش کیا، اس نے انسانی قدر و منزلت کے بارے میں ایک مختلف اور مؤثر اخلاقی تصور پیش کیا۔
مغربی دنیا اور آزادی کا جدید تصور
جدید دور میں آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کے تصورات نے عالمی سطح پر بہت ترقی کی۔ یورپ میں سیاسی فلسفے، انقلاب، جمہوریت اور انسانی حقوق کی تحریکوں نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔
روسو کا مشہور جملہ بھی انسانی آزادی کے جدید سیاسی مباحث میں بار بار نقل کیا جاتا ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا، مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔
تاہم تاریخ کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ جدید دنیا میں آزادی اور انسانی حقوق کے تصورات کے ساتھ ساتھ استعمار، نوآبادیات اور غلامی کے طویل ادوار بھی موجود رہے۔
اس لیے انسانی آزادی کی تاریخ کو کسی ایک قوم یا تہذیب کی مکمل ملکیت قرار دینے کے بجائے اسے ایک طویل تاریخی سفر کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
ہندوستان کی جنگِ آزادی اور مسلمانوں کی قربانیاں
برصغیر کی تاریخ میں بھی آزادی کی جدوجہد ایک طویل اور قربانیوں سے بھرپور داستان ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے لیے مختلف طبقوں اور جماعتوں نے اپنے اپنے انداز میں کردار ادا کیا۔
مسلمان علماء اور دینی طبقے کے متعدد افراد نے بھی انگریز اقتدار کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ سید احمد شہیدؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ، مولانا فضل حق خیرآبادیؒ، علماءِ صادق پور اور دیگر بہت سے علماء و مجاہدین نے آزادی کی جدوجہد میں قربانیاں پیش کیں۔
بعد کے دور میں ریشمی رومال تحریک، جمعیۃ علماء ہند، خلافت تحریک اور دیگر تحریکوں میں بھی علماء اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔
شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور ان کے رفقاء کی جدوجہد بھی اسی تاریخی سلسلے کا حصہ ہے۔
ان قربانیوں کا ایک بڑا محرک یہ تھا کہ غلامی اور ظلم کو قبول کرنا درست نہیں سمجھا جاتا تھا اور آزادی کو انسانی عزت کے ساتھ جوڑا جاتا تھا۔
آزادی کا حقیقی مقصد کیا ہے؟
آزادی کا مطلب صرف کسی غیر ملکی حکومت سے نجات حاصل کرنا نہیں۔ حقیقی آزادی اس سے کہیں وسیع تصور ہے۔
اگر انسان سیاسی طور پر آزاد ہو لیکن ظلم، ناانصافی، طبقاتی غرور، خواہشات، تعصب اور اخلاقی زوال کا غلام بن جائے تو ایسی آزادی ادھوری رہ جاتی ہے۔
اسلام انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کے ذریعے خواہشات، باطل معبودوں اور انسانی استبداد کی غلامی سے نجات دیتا ہے۔
اسی لیے اسلامی تصور میں آزادی اور بندگی ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ اللہ کی بندگی انسان کو مخلوق کی ناجائز غلامی سے آزاد کرتی ہے۔
آج کے دور میں اسلامی تصورِ آزادی کی ضرورت
آج دنیا میں آزادی کی مختلف شکلیں زیرِ بحث ہیں۔ سیاسی آزادی، اظہارِ رائے کی آزادی، مذہبی آزادی، معاشی آزادی اور انسانی حقوق کے مسائل عالمی سطح پر اہم موضوعات ہیں۔
ایسے ماحول میں اسلامی تعلیمات انسان کو ایک متوازن تصور فراہم کرتی ہیں۔
اسلام انسان کی عزت کا تحفظ کرتا ہے، ظلم سے روکتا ہے، حقوق العباد کی ادائیگی کی تاکید کرتا ہے، کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک سکھاتا ہے اور طاقتور کو بھی جواب دہ قرار دیتا ہے۔
یہی وہ پہلو ہیں جن کی آج کے معاشرے کو بھی ضرورت ہے۔
اسلام اور تصورِ آزادی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
اسلام اور تصورِ آزادی کا مطالعہ ہمیں چند بنیادی باتیں سکھاتا ہے:
- انسان کو ذلت اور ناجائز غلامی سے محفوظ رہنا چاہیے۔
- تمام انسانوں کی بنیادی انسانی تکریم کا احترام ضروری ہے۔
- نسل، رنگ، زبان اور خاندان کی بنیاد پر تکبر درست نہیں۔
- آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔
- طاقتور کو کمزور پر ظلم کا حق حاصل نہیں۔
- حکمران اور عام انسان دونوں عدل کے اصول کے پابند ہیں۔
- حقیقی آزادی انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ حاصل ہوتی ہے۔
اختتامیہ
آزادی انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ایک اہم خواہش ہے۔ کوئی قوم ہو یا فرد، غلامی اور ظلم کو مستقل طور پر قبول نہیں کر سکتا۔
اسلام نے انسانی عزت، مساوات، عدل اور آزادی کے ایسے اصول پیش کیے جن میں انسان کو اس کے حقیقی مقام سے آشنا کیا گیا۔ اسلام نے ایک طرف انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت دی اور دوسری طرف انسانوں کی ناجائز غلامی، ظلم اور طبقاتی تفاخر کے دروازے بند کرنے کی تعلیم دی۔
اسلامی تصورِ آزادی بے لگام خواہشات کا نام نہیں بلکہ ایسی ذمہ دار آزادی ہے جس میں انسان اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے۔
اس لیے آج بھی اگر آزادی کو عدل، انسانی وقار، مساوات، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑا جائے تو معاشرہ زیادہ متوازن اور انسان دوست بن سکتا ہے۔
یہی اسلام اور تصورِ آزادی کا بنیادی پیغام ہے کہ انسان کسی انسان کا ناجائز غلام نہ بنے، ظلم کو قبول نہ کرے، دوسروں کے حقوق پامال نہ کرے اور اپنے حقیقی رب کی بندگی اختیار کرکے عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارے۔

