غیر درسی کتب کا مطالعہ
مولانا آدم علی ندوی

غیر درسی مطالعہ کی اہمیت
غیر درسی کتب کا مطالعہ دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ اگر یہ مطالعہ صحیح ترتیب، باذوق رہنمائی اور مقصدیت کے ساتھ کیا جائے تو علمی و فکری بالیدگی کا ذریعہ، شخصیت سازی کا وسیلہ اور ترقی کی ایک مضبوط سیڑھی بن سکتا ہے، لیکن اگر یہی مطالعہ بغیر رہنمائی، بے ترتیبی کے ساتھ کیا جائے اور مقصدیت سے خالی ہو تو وقت کے ضیاع کے ساتھ بسا اوقات سمِّ قاتل بھی ثابت ہوتا ہے۔
کتابوں کی دنیا بہت وسیع ہے۔ مستند و غیر مستند، بنیادی و ثانوی، عمیق و سطحی، مفید و غیر مفید کتابوں کا ایک بے کراں ذخیرہ ہمارے سامنے ہے۔ اس وسیع ذخیرے میں سے صحیح کتاب کا انتخاب، اس کے مطالعہ کی مناسب ترتیب اور اس سے صحیح علمی استفادہ خود ایک مستقل فن ہے۔ اس لیے غیر درسی مطالعہ محض کتابیں پڑھ لینے کا نام نہیں، بلکہ ماخذ شناسی اور علمی خودمختاری تک پہنچنے کا ایک مکمل سفر ہے۔
ایک زمانہ میں طلبہ اپنے مربی اور اساتذہ کی نگرانی میں مطالعہ کیا کرتے تھے۔ اساتذہ باذوق، تجربہ کار، صاحبِ بصیرت، پختہ صلاحیت والے اور اپنے فن کے ماہر ہوتے تھے۔ وہ اپنے طلبہ کی علمی ضرورت، ذہنی استعداد اور ذوق کو سامنے رکھتے ہوئے خیرخواہی کے ساتھ ان کی رہنمائی کرتے، بتاتے کہ ابتدا کہاں سے کرنی ہے، کس کتاب کو ابھی ہاتھ نہیں لگانا، کس کتاب کو بار بار پڑھنا ہے اور کس کتاب کو صرف ضرورت کے وقت دیکھنا ہے۔ یوں طالب علم کتابوں کے انبار میں بھٹکنے کے بجائے ایک منزل کی طرف بڑھتا اور اس کا مطالعہ محض کثرتِ کتب کے بجائے ایک منظم علمی سفر بن جاتا تھا۔
آج اس روایت کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کے درمیان وہ گہرا علمی و تربیتی تعلق بھی برقرار نہیں رہا اور اساتذہ میں وہ مخلصانہ جذبۂ رہنمائی بھی کم ہوتا جارہا ہے۔ افسوس کہ بعض اساتذہ میں خود مطالعہ کا ذوق باقی نہیں رہا، افکار محدود، دائرۂ نظر تنگ اور علم کی گہرائی و وسعت سے دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے۔
بعض اساتذہ طلبہ کی رہنمائی بھی ایک مخصوص دائرۂ فکر تک محدود رکھتے ہیں اور انہیں دوسری کتابوں کے مطالعہ سے روکتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بسا اوقات صرف یہ ہوتی ہے کہ متعلقہ مصنف ان کے مسلک، فکر یا حلقہ سے تعلق نہیں رکھتا، خواہ اس کی تصانیف علمی اعتبار سے کتنی ہی مفید اور کارآمد کیوں نہ ہوں۔ علمی اختلاف اپنی جگہ، لیکن علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی کتاب کے مفید یا غیر مفید ہونے کا فیصلہ محض اس کے مصنف کی نسبت سے نہ کیا جائے، بلکہ اس کے مضامین، دلائل، علمی معیار اور افادیت کی بنیاد پر کیا جائے۔ علمی تربیت کا مقصد مقلدین کی تعداد بڑھانا نہیں، بلکہ صاحبِ فہم، صاحبِ نظر اور صاحبِ بصیرت طالب علم پیدا کرنا ہے۔
اب تو صورت حال بعض جگہ اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اساتذہ اپنے ہی طلبہ کے درمیان اپنی کتابوں کی باقاعدہ تشہیر کرتے ہیں اور انہیں اپنی تصانیف خریدنے اور پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اگر کوئی کتاب واقعی طالب علم کی ضرورت پوری کرتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہر علمی موضوع کا بہترین تعارف اور ہر مسئلہ کا حتمی حل استاد کی اپنی کتاب ہی کو سمجھا جانے لگے۔ نتیجتا طلبہ ثانوی کتب کے مطالعہ میں اس قدر مشغول رہتے ہیں کہ اصل مصادر و مراجع تک پہنچنے اور اپنی علمی منزل کی طرف پیش قدمی کرنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔
اب تو معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ دورانِ درس بعض اساتذہ سطحی مضامین، مختصر تحریروں اور ثانوی مراجع کا حوالہ دیتے ہیں اور بسا اوقات اپنے ہی کسی مضمون، تحریر یا کتاب کو بھی بطور ماخذ پیش کر دیتے ہیں، لیکن اصل مصادر و مراجع تک طلبہ کی رہنمائی کم ہی ہو پاتی ہے۔ یوں طالب علم کو دریا کے منبع تک پہنچانے کے بجائے کبھی کبھی ندی نالوں ہی میں گھماتے رہنے کا ایسا اہتمام کیا جاتا ہے کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہو پاتا کہ اصل دریا آخر کس طرف ہے۔
استاد کی حقیقی ذمہ داری طالب علم کو اپنے فکری دائرہ کا اسیر بنانا نہیں، بلکہ اسے اتنا مضبوط بنانا ہے کہ وہ مختلف آراء کو سمجھ سکے، دلائل کو پرکھ سکے، مصادر تک پہنچ سکے اور بالآخر علمی خودمختاری حاصل کرے۔
غیر درسی مطالعہ کے میدان میں طلبہ خود بھی خاصے پس و پیش کا شکار رہتے ہیں۔ کبھی کوئی کتاب اٹھا لی، کبھی کسی کتاب کی شہرت سن لی، کبھی کسی مصنف کا طرزِ نگارش اچھا لگا اور اس کی کتاب شروع کردی۔ چند صفحات کے بعد دوسری کتاب نظر آئی تو پہلی کتاب اپنی باری کا انتظار کرتی ہوئی میز پر پڑی رہ گئی۔ پھر الماری میں کوئی نئی کتاب آگئی تو اب اس کا آغاز۔ اس طرح کئی کتابیں بیک وقت شروع ہوجاتی ہیں، لیکن کسی ایک کتاب کے ساتھ مطلوبہ گہرائی پیدا نہیں ہوپاتی۔
یہ حال ان طلبہ کا ہے جو کچھ پڑھنا اور بننا چاہتے ہیں، ورنہ ایک بڑی تعداد کے اندر سے تو مطالعہ کا ذوق ہی رفتہ رفتہ رخصت ہوچکا ہے۔ کتاب سے دوستی کے بجائے ضرورت کے وقت اے آئی سے دوستی زیادہ آسان معلوم ہوتی ہے۔ چند سوال لکھیے، جواب حاضر، نہ کتاب ڈھونڈنے کی زحمت، نہ صفحات پلٹنے کی مشقت۔ لیکن جو چیز چند سیکنڈ میں جواب دے دیتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ چند سال کا علمی شعور بھی پیدا کردے۔ طالب علم کو صرف جواب سے زیادہ جواب تک پہنچنے کا راستہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
مطالعہ کا صحیح طریقہ
مطالعہ صرف آنکھوں سے الفاظ گزارنے کا نام نہیں۔ کتاب کھولنا، صفحات پڑھتے چلے جانا اور آخر میں کتاب بند کردینا مکمل مطالعہ نہیں۔ حقیقی مطالعہ یہ ہے کہ طالب علم پڑھی ہوئی چیز پر غور کرے، اسے ذہن میں ترتیب دے، مختلف اجزاء کے درمیان تعلق قائم کرے اور اس سے نتائج اخذ کرے۔
عبارت پڑھتے ہوئے یہ سوال ذہن میں ہونا چاہیے کہ مصنف کیا کہنا چاہتا ہے؟ اس کی دلیل کیا ہے؟ دلیل کی بنیاد کیا ہے؟ اس کا تعلق سابقہ بحث سے کیا ہے؟ کیا اس سے کوئی نیا نتیجہ نکلتا ہے؟ اور کیا اس موقف کو کسی دوسرے مصنف کے موقف کے ساتھ رکھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے؟
اہم نکات کو ذہن یا تحریر میں محفوظ کرنا چاہیے۔ نوٹس بنانا، اہم اقتباسات درج کرنا، مشکل مقامات پر نشان لگانا، سوالات لکھنا اور کسی اہم بحث کو اپنے الفاظ میں دوبارہ بیان کرنا مطالعہ کو فعال بناتا ہے۔
کتاب ختم ہونے کے بعد اس کے بنیادی مباحث کا مختصر خلاصہ لکھ دینا بھی نہایت مفید ہے۔ اچھی کتاب کا مطالعہ اس طرح ہونا چاہیے کہ کتاب ختم ہونے کے بعد اس کا ایک مجموعی نقشہ ذہن میں موجود ہو۔
مطالعے میں تدریج اور ترتیب
مطالعہ کی بھی ایک فطری اور علمی ترتیب ہوتی ہے۔ طالب علم کو ابتدا ہی میں ہر فن کی سینکڑوں کتابوں میں کود پڑنے کے بجائے کسی ایک فن کا انتخاب کرکے اس کی بنیادی اور منتخب کتابوں سے آغاز کرنا چاہیے۔ ہر فن میں موجود کثیر ذخیرے میں سے چند بنیادی کتابوں کا انتخاب ایک نہایت نازک اور اہم مرحلہ ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں کسی صاحبِ مطالعہ، باذوق اور تجربہ کار مربی کی رہنمائی ناگزیر ہوجاتی ہے۔
مطالعہ میں صرف موضوع کی ترتیب کافی نہیں، بلکہ کتابوں کی سطح اور علمی دشواری کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ کسی بھی فن کی کتابوں کو عمومی طور پر ابتدائی، متوسط، تخصصی اور مصادر کے درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ابتدائی کتابیں موضوع سے بنیادی تعارف اور مجموعی نقشہ فراہم کرتی ہیں، متوسط کتابیں فہم کو گہرا اور معلومات کو منظم کرتی ہیں، تخصصی کتابیں کسی خاص مسئلے میں وسعت و گہرائی پیدا کرتی ہیں، جبکہ مصادر وہ بنیادی کتب ہیں جن سے تحقیقی کام میں براہ راست استفادہ کیا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر طالب علم لازماً ہر موضوع میں انہی چار مرحلوں سے گزرے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ علمی استعداد کے مطابق تدریج اختیار کی جائے۔ ابتدائی مرحلہ میں مشکل اور تخصصی کتابوں میں کود پڑنا مطالعہ کو بوجھ بنا سکتا ہے، جبکہ ہمیشہ ابتدائی اور ثانوی کتابوں ہی تک محدود رہنا علمی پختگی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
اسی طرح ہر فن کے مطالعہ سے پہلے اس کے ضروری مبادیات سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ مثلاً سیرت کے مطالعہ کے لیے عرب کے جغرافیہ، قبائل، معاشرتی حالات اور سیاسی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسی طرح تاریخ پڑھنے والے کے لیے جغرافیہ سے واقفیت ضروری ہے، تاکہ وہ واقعات کو محض ناموں اور تاریخوں کے ہجوم کے طور پر نہ دیکھے، بلکہ ان کے جغرافیائی اور تاریخی پس منظر کو بھی سمجھ سکے۔
جب مطالعہ صحیح ترتیب اور مناسب رہنمائی کے ساتھ کیا جاتا ہے تو معلومات بتدریج ذہن میں ہضم ہوتی چلی جاتی ہیں، فکر پختہ ہوتی ہے، علمی استعداد بڑھتی ہے اور قاری خود اپنی ترقی محسوس کرتا ہے۔ اس کے برعکس بلا ترتیب مطالعہ میں صفحات اور کتابوں کی کثرت تو دکھائی دیتی ہے، مگر ذہن میں حاصل شدہ علم کی ترتیب قائم نہیں ہوپاتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معلومات کی ایک ایسی کھچڑی تیار ہوجاتی ہے جس میں یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون سی چیز کہاں سے آئی اور کس کام کی ہے!
عربی زبان اور اصل مصادر
دینی اور علمی مطالعہ میں ایک بنیادی حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ عربی زبان ہماری علمی بنیاد ہے۔ قرآن مجید، حدیث، فقہ، اصول، تفسیر، سیرت اور اسلامی تاریخ کے بنیادی مصادر کا بڑا حصہ عربی زبان میں ہے۔ اس لیے عربی کو محض نصاب کا ایک مضمون سمجھنا درست نہیں، عربی دراصل اصل علمی مصادر تک رسائی کی کنجی ہے۔
اردو کی اچھی کتابیں طالب علم کو بہت کچھ دے سکتی ہیں، لیکن ترجمہ خواہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، اصل زبان کے تمام اسالیب، تعبیرات، اصطلاحات اور معنوی باریکیوں کو ہمیشہ پوری طرح منتقل نہیں کرسکتا۔ اس لیے ابتدا ہی سے اردو کتب کے ساتھ عربی زبان کا مطالعہ بھی جاری رہنا چاہیے۔ لغت، صرف و نحو، عربی ادب، آسان عربی تحریریں، سوانح، تاریخ اور منتخب علمی کتابوں کے ذریعہ زبان میں تدریجی ترقی پیدا کی جائے۔ جب طالب علم عربی کتاب کو براہ راست سمجھ کر پڑھنے کے قابل ہوجائے تو اس کے مطالعہ کو زیادہ سے زیادہ اصل عربی مصادر کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔
اس کا مطلب اردو مطالعہ ترک کرنا نہیں۔ اردو کا ادبی و علمی ذخیرہ اپنی جگہ نہایت اہم ہے، لیکن دینی علوم میں علمی پختگی کا ایک اہم مرحلہ یہ ہے کہ طالب علم ترجمہ اور ثانوی کتابوں سے آگے بڑھ کر اصل مصادر سے براہ راست استفادہ کرنے کے قابل ہوجائے۔
مطالعہ کی ترتیب
مطالعہ کی ایک فطری ترتیب یہ ہوسکتی ہے کہ ابتدا سوانحی ادب سے کی جائے۔ سوانح عمریوں میں بھی ہر کتاب پڑھ ڈالنا مقصود نہیں، بلکہ چند منتخب، معتبر اور اچھی زبان میں لکھی ہوئی کتابوں کا انتخاب کسی صاحبِ ذوق مربی کے مشورے سے کیا جائے۔
اس کے بعد سیرت نبوی کا باقاعدہ مطالعہ شروع کیا جائے اور زمانی ترتیب سے چند منتخب کتب اس انداز سے پڑھی جائیں کہ سیرت طیبہ کے اہم واقعات، ادوار اور تسلسل ذہن میں پوری طرح مستحضر ہوجائیں۔ مکہ کے ابتدائی دور سے ہجرت، مدینہ کے قیام، غزوات، معاہدات، دعوتی سرگرمیوں، معاشرتی و سیاسی تشکیل اور عہد نبوی کے آخری مرحلہ تک واقعات کو مربوط ترتیب سے سمجھنا ضروری ہے۔
طلبہ سیرت کے نام پر اکثر ایسی کتابوں کو ترجیح دیتے ہیں جن میں ادبیت زیادہ ہو یا کسی ایک موضوع کو خاص انداز میں پیش کیا گیا ہو۔ ایسی کتابیں اپنی جگہ مفید ہوسکتی ہیں، لیکن ابتدائی مرحلہ میں موضوعاتی یا محض ادیبانہ سیرت کو اصل بنیاد بنا لینا مناسب نہیں۔ پہلے واقعات اور تاریخی تسلسل کا مضبوط تصور پیدا ہونا چاہیے، اس کے بعد اس کے ادبی، فکری اور موضوعاتی پہلوؤں کی طرف آنا زیادہ مفید ہے۔
سیرت کے بعد اردو ادب کے وسیع ذخیرے سے استفادہ کیا جائے تاکہ زبان کا ذوق، اسلوب کی پہچان، اچھے جملے کی ساخت، بیان کی قوت اور ادبی حس پیدا ہو۔ مختلف اسالیب کے مصنفین کو پڑھا جائے تاکہ طالب علم ایک ہی طرز تحریر کا اسیر نہ ہوجائے۔ سنجیدہ نثر، تاریخی ادب، سوانح، سفرنامے، مضامین اور منتخب ادبی تحریریں اس سلسلے میں مفید ہوسکتی ہیں۔
اس کے بعد تاریخ کا مطالعہ نہایت اہم ہے، اور اس کے لیے جغرافیہ سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ طالب علم کو کم از کم اتنی جغرافیائی واقفیت ضرور ہونی چاہیے کہ وہ مقامات، ممالک، سمندروں، پہاڑوں، راستوں اور تہذیبی مراکز کو ذہن میں رکھ سکے۔ ورنہ تاریخ کے واقعات ناموں اور تاریخوں کا ایسا ہجوم بن جاتے ہیں جس میں سب بادشاہ، سب شہر اور سب جنگیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہیں۔
اسلامی تاریخ کا مطالعہ بھی اِدھر اُدھر سے چند واقعات پڑھ لینے کے بجائے ابتدا سے آخر تک ایک مربوط ترتیب کے ساتھ ہونا چاہیے۔ پہلے پوری اسلامی تاریخ کا مجموعی خاکہ ذہن میں قائم کیا جائے، پھر طالب علم اپنی دلچسپی اور تخصص کے مطابق مختلف ادوار میں گہرائی پیدا کرے۔ اس سلسلہ میں "ہماری بادشاہی” اور ثروت صولت کی ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے، تاکہ اسلامی تاریخ کا مجموعی خاکہ ذہن میں قائم ہوجائے۔
تاریخ کے بعد قرآنیات کی طرف بڑھنا مفید ہے۔ طالب علم کو نزولِ قرآن، مکی و مدنی تقسیم، اسلوب، موضوعات، نظم، تفسیر کے بنیادی مباحث اور قرآن فہمی کے مختلف مناہج سے واقف ہونا چاہیے۔
اس کے بعد علم حدیث کے مختلف موضوعات کا مطالعہ کیا جائے۔ ابتدا میں حدیث کی بنیادی اصطلاحات، اقسام، روایت و درایت، محدثین کے مناہج اور حدیث کے بنیادی ذخیرے سے واقفیت پیدا کی جائے، پھر منتخب کتب حدیث اور ان کی شروح کی طرف بڑھا جائے۔
اس کے بعد فقہ اسلامی کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ طالب علم کو فقہی مسائل کے ساتھ فقہی مذاہب، اصول استنباط، اختلاف ائمہ اور فقہی استدلال کے بنیادی اصولوں سے بھی واقفیت حاصل کرنی چاہیے۔
جب قرآن، حدیث، فقہ، تاریخ اور زبان کا مناسب علمی پس منظر پیدا ہوجائے تو فکر اسلامی کے وسیع میدان میں داخل ہونا زیادہ بامعنی ہوجاتا ہے۔ یہاں قدیم و جدید افکار، اسلامی تہذیب، مغربی فکر، جدید فلسفہ، الحاد، سیکولرزم، سرمایہ داری، سوشلزم اور دیگر معاصر فکری مباحث کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اس مرحلہ میں ایک اصول خاص طور پر پیش نظر رہنا چاہیے کہ کسی فکر کو صرف اس کے مخالفین کی کتابوں سے نہیں، بلکہ حتی الامکان اس کے اپنے بنیادی مصادر سے سمجھا جائے۔
مصنف کو پڑھنا
موضوعات کے اعتبار سے مطالعہ کے بعد ایک دوسرا مرحلہ مصنفین کے اعتبار سے مطالعہ کا ہونا چاہیے۔ بڑے اور باکمال مصنفین کی کتابیں یکے بعد دیگرے اس انداز سے پڑھی جائیں کہ ان کا طرز نگارش، علمی خصوصیات، استدلال، موضوعات کے انتخاب اور فکری امتیازات سامنے آئیں۔
یہ مرحلہ طالب علم کو صرف کتابیں پڑھنے والا نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے مصنف کو پڑھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ایک مصنف کس طرح سوچتا ہے، اس کے استدلال کی بنیاد کیا ہے، اس کے اسلوب کی خصوصیات کیا ہیں اور اس کی علمی قوت کس پہلو میں زیادہ نمایاں ہے۔
تقابلی مطالعہ
اس کے بعد تقابلی مطالعہ کا مرحلہ آتا ہے۔ ایک ہی موضوع پر دو یا تین مختلف مصنفین کو پڑھنے سے طالب علم کے سامنے ایک نیا علمی دروازہ کھلتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک واقعہ یا مسئلہ مختلف اہل علم کے ہاں کس طرح پیش ہوتا ہے، اختلاف کی بنیاد کہاں ہے اور کس دلیل میں زیادہ قوت ہے؟
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مطالعہ محض حصولِ معلومات نہیں رہتا بلکہ تنقیدی شعور میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ طالب علم کسی بات کو صرف اس لیے قبول نہیں کرتا کہ وہ کسی پسندیدہ مصنف کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے، بلکہ دلیل، سیاق، ماخذ اور علمی قرائن کی روشنی میں اسے سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اصل مصادر کی طرف پیش قدمی
مطالعہ کے پورے سفر میں ایک اصول مسلسل پیش نظر رہنا چاہیے کہ ثانوی کتابیں راستہ دکھاتی ہیں، اصل منزل تک نہیں پہنچاتیں۔ ثانوی کتابیں موضوع سے متعارف کراتی ہیں، بنیادی مباحث سمجھاتی ہیں اور بعض اوقات اصل مصادر تک پہنچنے کا راستہ بھی دکھاتی ہیں، لیکن جب طالب علم کسی موضوع میں سنجیدہ علمی کام کرنا چاہے تو اسے اصل مصادر و مراجع کی طرف ضرور رجوع کرنا چاہیے۔
خصوصاً دینی علوم میں عربی زبان پر قدرت پیدا ہونے کے بعد اصل عربی مصادر سے براہ راست استفادہ کی عادت ڈالنی چاہیے۔ جو شخص ہمیشہ دوسروں کے حوالے سے پڑھتا اور لکھتا رہے، وہ زیادہ سے زیادہ اچھا ناقل بن سکتا ہے، صاحبِ تحقیق بننے کے لیے اسے خود بھی کتابوں کے اصل دروازے تک پہنچنا ہوگا۔ یہی ماخذ شناسی، نقدِ مصادر اور علمی خودمختاری کی بنیاد ہے۔
مطالعہ سے تحریر تک
جب طالب علم اس مرحلہ تک پہنچ جائے تو اسے باقاعدہ تحریر کا آغاز بھی کردینا چاہیے۔ تحریر مطالعہ کو پختہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جو بات انسان نے پڑھی ہو، اگر اسے اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش کرے تو فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ اسے حقیقتاً سمجھا بھی ہے یا صرف پڑھا ہے۔
کسی کتاب کے مطالعہ کے بعد اس کا خلاصہ لکھنا، کسی بحث پر اپنا تبصرہ قلم بند کرنا، دو مصنفین کے مواقف کا تقابل کرنا یا کسی علمی سوال پر مختصر مضمون لکھنا مفید ہے۔ یہی مشق آگے چل کر تحقیق و تصنیف کی بنیاد بنتی ہے۔ طالب علم کو ابتدا ہی سے یہ عادت ڈالنی چاہیے کہ جہاں ممکن ہو، اصل مصادر و مراجع سے رجوع کرے اور اپنے لکھے ہوئے ہر اہم دعوے کی علمی بنیاد تلاش کرے۔
ایک غلط فہمی
ابتدائی مطالعہ میں طلبہ کو ایک اور خلجان رہتا ہے کہ جو کچھ پڑھتے ہیں، وہ محفوظ نہیں رہتا۔ اس میں ایک سبب یقیناً مطالعہ کی بے ترتیبی اور رہنمائی کا فقدان ہے، تاہم یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ ہر مطالعہ فوری طور پر یاد رہنے کے لیے نہیں ہوتا۔ بہت سی چیزیں بظاہر بھول جاتی ہیں، لیکن ذہن کے کسی گوشہ میں محفوظ رہتی ہیں اور وقت آنے پر اچانک یاد آجاتی ہیں۔
جس طرح انسان کی غذا ہضم ہوکر جسم کا حصہ بنتی ہے اور ہر وقت آنکھوں کے سامنے نہیں رہتی، اسی طرح مطالعہ بھی فکر کی غذا ہے، وہ ذہن میں جذب ہوکر فکر کی بالیدگی، وسعتِ نظر اور علمی گہرائی کا ذریعہ بنتا ہے، اگرچہ اس کا اثر ہر وقت نمایاں دکھائی نہیں دیتا۔
البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ طالب علم پڑھی ہوئی ہر چیز کو بے فکری سے بھول جانے دے۔ اہم علمی معلومات، حوالہ جات، بنیادی نکات اور مفید اقتباسات کو محفوظ کرنا چاہیے۔ مختصر خلاصہ، نوٹس اور سوالات لکھنے سے مطالعہ کا حاصل زیادہ دیر تک باقی رہتا ہے۔
علمی خود مختاری
مطالعہ کا مقصد یہ نہیں کہ طالب علم زیادہ سے زیادہ کتابوں کے نام جانتا ہو یا یہ بتا سکتا ہو کہ اس نے کتنی کتابیں پڑھ ڈالی ہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ وہ کتاب کو سمجھ کر پڑھ سکے، ماخذ کو پہچان سکے، دلیل کو پرکھ سکے، اختلاف کو سمجھ سکے، سوال قائم کرسکے، مختلف آراء کو باہم رکھ کر دیکھ سکے اور اپنے فکری فیصلے کے لیے ہر وقت دوسروں کا محتاج نہ رہے۔ یہی علمی خودمختاری ہے اور مطالعاتی سفر و منہج کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے۔
مطالعہ کثرتِ کتب کا نام نہیں، حسنِ انتخاب، ترتیب، فہم اور ہضم کا نام ہے۔ کتابیں جتنی زیادہ ہوں، ضروری نہیں کہ علم بھی اتنا ہی زیادہ ہو؛ کبھی ایک اچھی کتاب انسان کو وہ دے دیتی ہے جو سو بے ترتیب کتابیں نہیں دے پاتیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ مطالعہ انسان کے اندر کچھ بدل دے، اس کی فکر وسیع ہو، نظر گہری ہو، زبان پختہ ہو، ذوق بلند ہو، دلائل کو پرکھنے کی صلاحیت پیدا ہو اور وہ خود بھی علم کی دنیا میں کچھ اضافہ کرنے کے قابل ہوجائے۔
اس لیے مطالعہ صرف کتاب ختم کرنے کا نام نہیں، یہ اپنے ذہن کو بنانے، فکر کو سنوارنے، ذوق کو بلند کرنے اور شخصیت کو تعمیر کرنے کا نام ہے۔ اچھی کتاب انسان کو صرف کچھ بتاتی نہیں، اسے کچھ بناتی بھی ہے۔ علم کی گہرائی تک پہنچنا، معلومات سے آگے بڑھ کر فہم پیدا کرنا، فہم کو فکر میں ڈھالنا، فکر کو بصیرت میں تبدیل کرنا اور بصیرت کو عمل و تحقیق کا ذریعہ بنانا۔یہی غیر درسی مطالعہ کی اصل غایت ہے۔
غیر درسی کتب کا مطالعہ
مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارف
سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہ

